اصحابِ بدرؓ (جلد پنجم)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 148 of 617

اصحابِ بدرؓ (جلد پنجم) — Page 148

148 اصحاب بدر جلد 5 ایک بے چینی کی حالت پیدا کر دی حتی کہ بعض کم زور طبیعت لوگ اس غزوے میں شامل ہونے سے خائف ہونے لگے لیکن جب آنحضرت صلی اللہ ہم نے نکلنے کی تحریک فرمائی اور آپ نے اپنی تقریر میں فرمایا کہ ہم نے کفار کے چیلنج کو قبول کر کے اس موقع پر نکلنے کا وعدہ کیا ہے اس لیے ہم اس سے تخلف نہیں کر سکتے ، اس کے خلاف نہیں چلیں گے خواہ مجھے اکیلا جانا پڑے، تم لوگ ڈر رہے ہو، اکیلا بھی جانا پڑے تو میں جاؤں گا اور دشمن کے مقابل پر اکیلا سینہ سپر ہوں گا۔لوگوں کا خوف یہ باتیں سن کر جاتا رہا اور وہ بڑے جوش اور اخلاص کے ساتھ آپ صلی علیہ نام کے ساتھ نکلنے کو تیار ہو گئے۔آنحضرت عمال الم کا ابوسفیان کے مقابلہ کے لئے روانہ ہونا بہر حال آنحضرت صلی للی و کم ڈیڑھ ہزار صحابہ کے ساتھ مدینے سے روانہ ہوئے اور دوسری طرف ابوسفیان اپنے دوہزار سپاہیوں کے ہمراہ ملے سے نکلا لیکن خدائی تصرف کچھ ایسا ہوا کہ مسلمان تو بدر میں اپنے وعدے پر پہنچ گئے مگر قریش کا لشکر تھوڑی دور آگے جا کر پھر مکہ لوٹ گیا اور اس کا قصہ یوں ہوا، کس طرح وہ لوٹا کہ جب ابوسفیان کو نعیم کی ناکامی کا علم ہوا، مسلمانوں کو ڈرانے کے لیے جو آدمی بھیجا تھا جب یہ پتا لگ گیا کہ مسلمان تو نہیں ڈرے، وہ تو باہر آگئے ہیں تو وہ دل میں خائف ہوا اور اپنے لئے لشکر کو یہ تلقین کرتا ہوا راستے سے لوٹا کر واپس لے گیا کہ اس سال قحط بہت زیادہ ہے اور لوگوں کو تنگی ہے اس لیے اس وقت لڑنا ٹھیک نہیں ہے۔جب کشائش ہو گی، حالات ٹھیک ہوں گے تو زیادہ تیاری کے ساتھ مدینے پر حملہ کریں گے۔بہر حال اسلامی لشکر آٹھ دن تک بدر میں ٹھہرا اور چونکہ وہاں اس جگہ ، اس میدان میں ماہ ذو قعدہ کے شروع میں ہر سال میلے لگا کرتا تھا تو ان دنوں میں بہت سے صحابیوں نے اس میلہ میں تجارت کر کے نفع کمایا۔کہا جاتا ہے کہ یہاں تک کہ انہوں نے اس آٹھ روزہ تجارت میں اپنے راس المال کو دو گنا کر لیا۔جو ان کا اپناسر مایا تھا اس تجارت کی وجہ سے وہ دو گنا ہو گیا جب میلے کا اختتام ہو گیا اور لشکر قریش نہ آیا تو آنحضرت صلی علی یکم بدر سے کوچ کر کے مدینے واپس تشریف لے آئے اور قریش نے مکے میں واپس پہنچ کر دوبارہ مدینے پر حملے کی تیاریاں شروع کر دیں۔یہ جو غزوہ ہے یہ غزوہ بدرالموعد کہلاتا ہے جس کے لیے یہ لشکر نکالا تھا۔329 جنگ یمامہ میں شہادت حضرت عبد اللہ 12 ہجری میں حضرت ابو بکر کی خلافت میں جنگ یمامہ میں شہید ہوئے تھے۔10 330 عبد اللہ بن ابی بن سلول کی بے ادبی صحیح بخاری میں حضرت عبد اللہ کے والد عبد اللہ بن اُبی بن سلول کے بارے میں ایک روایت ہے۔یہ روایتیں بھی میں بعض اس لیے بیان کر دیتا ہوں تا کہ تاریخ کا بھی پتا لگتا ہے جو براہ راست