اصحابِ بدرؓ (جلد پنجم)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 126 of 617

اصحابِ بدرؓ (جلد پنجم) — Page 126

126 281 اصحاب بدر جلد 5 آپ نے پہلے بتا دیا۔آپ نے فرمایا زیڈ نے جھنڈ الیا اور وہ شہید ہوئے۔پھر جعفر نے لیا اور وہ بھی شہید ہوئے۔پھر عبد اللہ بن رواحہ نے لیا وہ بھی شہید ہوئے اور آپ کی آنکھوں سے آنسو جاری تھے۔فرمایا پھر جھنڈا اللہ کی تلواروں میں سے ایک تلوار نے لیا۔آخر اللہ نے اس کے ذریعہ سے فتح دی۔جب رسول اللہ صلی ال م ت حضرت زید بن حارثہ ، حضرت جعفر اور حضرت عبد اللہ بن رواحہ کی شہادت کی خبر پہنچی تو نبی کریم صلی علی تیم ان کا حال بیان کرنے کے لیے کھڑے ہوئے اور حضرت زید کے ذکر سے آغاز فرمایا۔آپ نے فرمایا: اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِزِّي، اللهُمَّ اغْفِرْ لِزَيْبِ اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِزَيْبِ اللَّهُمَّ اغْفِرْ جَعْفَرٍ وَلِعَبْدِ اللهِ ابْنِ رَوَاحَةَ۔کہ اے اللہ ازید کی مغفرت فرما۔اے اللہ ازید کی مغفرت فرما۔اے اللہ ! زید کی مغفرت فرما۔اے اللہ ! جعفر اور عبد اللہ بن رواحہ کی مغفرت فرما۔282 حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا بیان فرماتی ہیں کہ جب حضرت زید بن حارثہ ، حضرت جعفر اور حضرت عبد اللہ بن رواحہ شہید ہو گئے تو رسول اللہ صلی علیکم مسجد میں بیٹھ گئے۔آپ کے چہرے سے غم و حزن کا اظہار ہو رہا تھا۔283 جنگ موتہ اور حضرت مصلح موعود کا بیان حضرت مصلح موعودؓ نے غزوہ موتہ کا ذکر کرتے ہوئے اس طرح فرمایا ہے۔یہ پہلے حضرت زید کے ضمن میں بھی ذکر ہو چکا ہے 281 لیکن بہر حال تھوڑا سا حصہ دوبارہ پیش کرتا ہوں۔آپ لکھتے ہیں کہ: " اس کا افسر آنحضرت صلی علیم نے انہیں زید کو مقرر کیا تھا مگر ساتھ ہی یہ ارشاد فرمایا کہ میں اس وقت زید کو لشکر کا سردار بناتا ہوں۔اگر زید لڑائی میں مارے جائیں تو ان کی جگہ جعفر لشکر کی کمان کریں۔اگر وہ بھی مارے جائیں تو عبد اللہ بن رواحہ کمان کریں۔اگر وہ بھی مارے جائیں تو پھر جس پر مسلمان متفق ہوں وہ فوج کی کمان کرے۔جس وقت آپ نے یہ ارشاد فرمایا اس وقت ایک یہودی بھی آپ کے پاس بیٹھا ہوا تھا۔اس نے کہا کہ میں آپ کو نبی تو نہیں مانتا لیکن اگر آپ سچے بھی ہوں تو ان تینوں میں سے کوئی بھی زندہ بچ کر نہیں آئے گا کیونکہ نبی کے منہ سے جو بات نکلتی ہے وہ پوری ہو کر رہتی ہے۔وہ یہودی حضرت زید کے پاس گیا اور انہیں بتایا کہ اگر تمہارار سول سچا ہے تو تم زندہ واپس نہیں آؤ گے۔حضرت زید نے فرمایا میں زندہ آؤں گا یا نہیں آؤں گا اس کو تو اللہ ہی جانے مگر ہمارا رسول صلی علیکم ضرور سچا ہے۔" یعنی نہ مانتے ہوئے بھی یہودی اس بات پر یقین رکھتا تھا کہ آپ کی بات پوری ہو گی لیکن پھر بھی جنہوں نے نہیں ماننا ان لوگوں کی ہٹ دھرمی ہوتی ہے۔آپ لکھتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کی حکمت ہے کہ یہ واقعہ بالکل اسی طرح پورا ہوا۔پہلے حضرت زید شہید ہوئے۔ان کے بعد حضرت جعفر نے لشکر کی کمان سنبھالی وہ بھی شہید ہو گئے اور ان کے بعد حضرت عبد اللہ بن رواحہ نے لشکر کی کمان سنبھالی لیکن وہ بھی مارے گئے اور قریب تھا کہ لشکر میں انتشار الله س