اصحابِ بدرؓ (جلد پنجم) — Page 125
125 اصحاب بدر جلد 5 مجید کی رو سے اگلے جہان میں دوزخ میں کبھی نہیں جائیں گے۔کیونکہ قرآن مجید مومنوں کے متعلق فرماتا ہے کہ لَا يَسْمَعُونَ حَسَهَا یعنی مومن دوزخ سے اتنے دور رہیں گے کہ وہ اس کی آواز بھی نہیں سن سکیں گے۔پس مومنوں کے دوزخ میں جانے سے مراد ان کا دنیا میں تکالیف اٹھانا ہے۔رسول کریم صلی علیکم نے بخار کو بھی ایک قسم کا دوزخ قرار دیا ہے۔فرمایا تخمی حظ كُلّ مُؤْمِنٍ مِنَ النَّارِ یعنی بخار دوزخ کی آگ کا مومن کے لیے ایک حصہ ہے۔" بہر حال یہ اس کی تھوڑی سی وضاحت ہے اور جور خصت کیا مسلمانوں نے، مومنوں نے انہیں کہا کہ اللہ تعالیٰ تمہیں دشمنوں کے شر سے بچائے۔حضرت عبد اللہ بن رواحہ نے اس وقت یہ اشعار پڑھے کہ : لَكِنَّنِي أَسْأَلُ الرَّحْمَانَ مَغْفِرَةً ووَضَرْبَةٌ ذَاتَ فَرْغَ يَقْذِفُ الزَّبَدَا اوَطَعْنَةٌ بِيَدَيْ حَزَانَ مُجْهِزَةٌ بِحَرْبَةٍ تُنْفِزُ الْأَحْشَاءَ وَالْكَبِدَا 279 11 حَتَّى يَقُولُوا إِذَا مَرُّوا عَلَى جَدَتِي يَا أَرْشَدَ اللهُ مِنْ غَازِ وَقَدْ رَشَدًا لیکن میں خدائے رحمن سے مغفرت طلب کرتا ہوں اور تلواروں کا ایساوار کرنے کی توفیق مانگتا ہوں جو کشادہ گھاؤ والا ہو اور تازہ خون نکالنے والا ہو جس میں جھاگ اٹھ رہی ہو اور نیزے کا ایسا حملہ جو پوری تیاری سے خون کے شدید پیاسے کے ہاتھوں سے کیا گیا ہو جو انتڑیوں اور جگر کے پار ہو جائے یہاں تک کہ جب لوگ میری قبر کے پاس سے گزریں تو کہیں کہ اے جنگ میں شامل ہونے والے ! اللہ تیرا بھلا کرے اور اس خدا نے بھلا کر دیا ہو۔پھر عبد اللہ بن رواحہ رسول اللہ صلی علیم کی خدمت میں حاضر ہوئے۔آپ صلی ا ہم نے ان کو رخصت کیا۔لشکر نے کوچ کیا یہاں تک کہ معان مقام پر پڑاؤ کیا۔معان ملک شام میں حجاز کی جانب بلقاء کے نواح میں ایک شہر ہے۔وہاں جا کر معلوم ہوا کہ ہر قل ایک لاکھ رومی اور ایک لاکھ عربی فوج کے ساتھ ماب مقام پر موجود ہے۔ماب بھی ملک شام میں بلقاء کے نواح میں ایک شہر ہے۔مسلمانوں نے دو دن معان میں قیام کیا اور آپس میں کہا کہ رسول اللہ صلی للی نیم کے پاس کسی کو بھیج کر اپنے دشمن کی کثرت سے خبر دیں۔یعنی کہ دشمن بہت بڑی تعداد میں ہے یا تو آپ ہماری مدد کریں گے یا کچھ اور حکم دیں گے۔مگر حضرت عبد اللہ بن رواحہ نے مسلمانوں کو جوش دلایا۔چنانچہ وہ لوگ باوجودیکہ تین ہزار تھے آگے بڑھے اور رومیوں سے بلقاء کی ایک بستی مشارف کے قریب جاملے۔مشارف ، ملک شام میں اس نام کی کئی بستیاں تھیں جس میں ایک خوران شہر کے پاس ہے، ایک دمشق کے قریب، ایک بلقاء کے قریب ہے۔پھر مسلمان وہاں سے موتہ کی طرف ہٹ آئے۔280 پھر عبد اللہ بن رواحہ بھی شہید ہوئے اور آپ کی آنکھوں سے آنسو جاری تھے حضرت انس سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی ال کلم نے حضرت زید، حضرت جعفر اور حضرت عبد اللہ بن رواحہ کے شہید ہو جانے کی خبر لوگوں کو سنائی۔قبل اس کے کہ ان تک اس کی کوئی خبر نہیں آئی تھی۔