اصحابِ بدرؓ (جلد پنجم) — Page 123
اصحاب بدر جلد 5 123 میں حضرت عبد اللہ نے آنحضرت صلی اللی علم کو مخاطب کرتے ہوئے کہا: لَوْ لَمْ تَكُنْ فِيْهِ آيَاتٌ مُبَيِّنَةٌ كَانَتْ بَدِيهَتُهُ تُنْبِيْكَ بِالْخَبَرِ کہ اگر حضرت محمد مصطفی صلی علیم کی ذات کے بارے میں کھلے کھلے نشانات اور روشن معجزات نہ الله بھی ہوتے تو آپ صلی علی یم کی ذات ہی حقیقت حال کی آگاہی کے لیے کافی ہے۔277 حضرت عبد اللہ بن رواحہ جاہلیت کے زمانہ میں لکھنا پڑھنا جانتے تھے حالانکہ اس زمانے میں عرب میں کتابت بہت کم تھی۔غزوہ بدر کے اختتام پر نبی کریم صلی علیم نے حضرت زید بن حارثہ کو مدینے کی طرف اور حضرت عبد اللہ بن رواحہ کو عوالی کی جانب فتح کی نوید سنانے کے لیے بدر کے میدان سے روانہ فرمایا۔عوالی مدینہ کے بالائی جانب وہ علاقہ ہے جو چار میل سے لے کر آٹھ میل کے درمیان ہے۔اس میں قباء کی بستی اور چند دیگر قبائل رہتے ہیں، اسے کہتے ہیں۔حضرت سعید بن جبیر سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی علی یکم مسجد حرام میں اونٹ پر داخل ہوئے۔آپ عصا سے حجر اسود کو بوسہ دے رہے تھے۔آپ کے ہمراہ حضرت عبد اللہ بن رواحہ بھی تھے جو آپ کی اونٹنی کی نکیل پکڑے ہوئے تھے اور یہ اشعار کہہ رہے تھے کہ خَلُوا بَنِي الْكُفَّارِ عَن سَبِيْلِة نَحْنُ ضَرَبْنَاكُمْ عَلَى تَأْوِيْلِة ضَرْبَا يُزِيلُ الْهَامَ عَنْ مَقِيْلِهْ کہ اے کفار ! آپ کے راستے سے ہٹ جاؤ ہم نے آپ صلی علی ایم کے رجوع کرنے پر تمہیں ایسی مار ماری جو سروں کو مقام استراحت سے ہٹا دے۔حضرت قیس بن ابو حازم سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی علیم نے حضرت عبد اللہ بن رواحہ سے فرمایا کہ اترو اور ہمارے اونٹوں کو حرکت دو یعنی کچھ شعر کہہ کر اونٹوں کو تیز کرو جسے حدی کہتے ہیں۔عرض کی کہ یارسول اللہ ؟ میں نے یہ کلام ترک کر دیا ہے۔حضرت عمرؓ نے کہا سنو اور اطاعت کرو۔اور حضرت عبد اللہ بن رواحہ یہ اشعار کہتے ہوئے اپنے اونٹ سے اترے کہ يَا رَبِّ لَوْلَا أَنْتَ مَا اهْتَدَيْنَا وَلَا تَصَدَّقُبًا وَلَا صَلَّيْنَا فَأَنْزِلَن سَكِينَةً عَلَيْنَا وَثَبَتِ الْأَقْدَامَ إِنْ لَا قَيْنَا إِنَّ الْكُفَّارَ قَدْ بَغَوُا عَلَيْنَا کہ اے پروردگار ! اگر تو نہ ہو تا تو ہم لوگ ہدایت نہ پاتے۔نہ تو صدقہ و خیرات کرتے۔نہ نماز پڑھتے۔ہم پر سکون و اطمینان نازل فرما اور جب ہم دشمن کا مقابلہ کریں تو ہمارے قدم ثابت رکھ کیونکہ کفار ہم پر حملہ آور ہوئے ہیں۔وکیع نے کہا کہ دوسرے راوی نے اتنا اور اضافہ کیا تھا کہ وَإِنْ أَرَادُوا فِتْنَةً أَبَيْنَا کہ اگر وہ فتنہ وفساد بر پا کرناچاہیں تو ہم انکار کرتے ہیں۔یعنی اس فتنہ اور فساد کا سد باب کرتے ہیں