اصحابِ بدرؓ (جلد پنجم) — Page 113
اصحاب بدر جلد 5 113 میں آسانی ہو اور اس پارٹی پر آپ نے اپنے پھوپھی زاد بھائی عبد اللہ بن جحش کو مقرر فرمایا۔اور اس خیال سے کہ اس پارٹی کی غرض وغایت عامتہ المسلمین سے بھی مخفی رہے آپ نے اس سریہ کو روانہ کرتے ہوئے اس سریہ کے امیر کو بھی یہ نہیں بتایا کہ تمہیں کہاں اور کس غرض سے بھیجا جارہا ہے بلکہ چلتے ہوئے اُس کے ہاتھ میں ایک سر بمہر خط دے دیا اور فرمایا اس خط میں تمہارے لیے ہدایات درج ہیں۔گو یہ حوالہ پہلے کچھ حد تک بیان ہو چکا ہے لیکن حضرت مرزا بشیر احمد صاحب کے حوالے سے نہیں بیان ہوا تھا۔بہر حال آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں فرمایا کہ جب تم مدینہ سے دو دن کا سفر طے کر لو تو پھر اس خط کو کھول کر اس کی ہدایات کے مطابق عمل درآمد کرنا۔چنانچہ عبد اللہ اور ان کے ساتھی اپنے آقا کے حکم کے ماتحت روانہ ہو گئے اور جب دو دن کا سفر طے کر چکے تو عبد اللہ نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے فرمان کو کھول کر دیکھا تو اس میں یہ الفاظ درج تھے کہ تم مکہ اور طائف کے درمیان وادی نخلہ میں جاؤ اور وہاں جاکر قریش کے حالات کا علم لو اور پھر ہمیں اطلاع لا کر دو اور چونکہ مکہ سے اس قدر قریب ہو کر خبر رسانی کرنے کا کام بڑا نازک تھا۔آپ نے خط کے نیچے یہ ہدایت بھی لکھ دی کہ اس مشن کے معلوم ہونے کے بعد اگر تمہارا کوئی ساتھی اس پارٹی میں شامل رہنے سے متامل ہو اور واپس چلا آنا چاہے تو اسے واپس آنے کی اجازت دے دو۔عبد اللہ نے آپ کی یہ ہدایت اپنے ساتھیوں کو سنادی اور سب نے یک زبان ہو کر کہا کہ ہم بخوشی اس خدمت کے لیے حاضر ہیں۔اس کے بعد یہ جماعت نخلہ کی طرف روانہ ہوئی۔راستہ میں جب مقام بختران میں پہنچے تو سعد بن ابی وقاص اور عتبہ بن غزوان کا اونٹ کھو گیا اور وہ اس کی تلاش کرتے کرتے اپنے ساتھیوں سے بچھڑ گئے اور باوجود بہت تلاش کے انہیں نہ مل سکے اور اب یہ پارٹی صرف چھ کس کی رہ گئی۔سعد بن ابی وقاص کے ضمن میں اس کا کچھ حصہ بیان ہو ا تھا۔259 پھر لکھتے ہیں کہ مسٹر مار گولیس اس موقع پر لکھتے ہیں کہ سعد بن ابی وقاص اور عتبہ نے جان بوجھ کر اپنا اونٹ چھوڑ دیا اور اس بہانہ سے پیچھے رہ گئے۔آپ لکھتے ہیں کہ ان جاں نثارانِ اسلام پر جن کی زندگی کا ایک ایک واقعہ ان کی شجاعت اور فدائیت پر شاہد ہے اور جن میں سے ایک غزوہ بئر معونہ میں کفار کے ہاتھوں شہید ہوا اور دوسرا کئی خطرناک معرکوں میں نمایاں حصہ لے کر بالآخر عراق کا فاتح بنا، اس قسم کا شبہ کرنا اور شبہ بھی محض اپنے من گھڑت خیالات کی بنا پر کرنا مسٹر مار گولیس ہی کا حصہ ہے۔لکھتے ہیں کہ پھر لطف یہ ہے کہ مار گولیس صاحب اپنی کتاب میں دعوی یہ کرتے ہیں کہ میں نے یہ کتاب اپنی ہر قسم کے تعصب سے پاک ہو کر لکھی ہے۔بہر حال یہ جملہ معترضہ تھا۔لکھتے ہیں کہ مسلمانوں کی یہ چھوٹی سی جماعت نخلہ پہنچی اور اپنے کام میں مصروف ہو گئی اور ان میں سے بعض نے اخفائے راز کے خیال سے اپنے سر کے بال منڈوا دیے تاکہ راہگیر وغیرہ ان کو عمرہ کے خیال سے آئے ہوئے لوگ سمجھ کر کسی قسم کا شبہ نہ کریں لیکن ابھی ان کو وہاں پہنچے زیادہ عرصہ نہ گزرا تھا کہ اچانک وہاں قریش کا ایک چھوٹاسا