اصحابِ بدرؓ (جلد پنجم)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 111 of 617

اصحابِ بدرؓ (جلد پنجم) — Page 111

111 اصحاب بدر جلد 5 محاورہ ہے جس کے معنی یہ ہوتے ہیں کہ میں تمہیں خبر دیتا ہوں کہ تمہارا عزیز مارا گیا ہے۔حمنہ بنت جحش نے عرض کیا کہ یار سول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! کس مردہ کا افسوس کروں۔آپ نے فرمایا تمہارا ماموں حمزہ شہید ہو گیا ہے۔یہ سن کر حضرت حمنہ نے إِنَّا لِلهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رجِعُونَ پڑھا اور پھر کہا اللہ تعالیٰ ان کے مدارج بلند کرے وہ کیسی اچھی موت مرے ہیں۔اس کے بعد آپ نے فرمایا اچھا اپنے ایک اور مرنے والے کا افسوس کر لو۔حمنہ نے عرض کیا یارسول اللہ صلی للی کم کس کا؟ آپ نے فرمایا تمہارا بھائی عبد اللہ بن جحش بھی شہید ہو گیا ہے۔حمنہ نے پھر اِنَّا لِلَّهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رجِعُونَ پڑھا اور کہا الحمد للہ وہ تو بڑی اچھی موت مرے ہیں۔آپ نے پھر فرمایا حمنہ ! اپنے ایک اور مردے کا بھی افسوس کرو۔اس نے پوچھا یا رسول اللہ صلی علیکم کس کا؟ آپ نے فرمایا تیرا خاوند بھی شہید ہو گیا۔یہ سن کر حمنہ کی آنکھوں سے آنسو رواں ہو گئے اور اس نے کہا ہائے افسوس۔نیہ دیکھ کر رسول کریم صلی اللہ ﷺ نے فرمایا کہ دیکھو عورت کو اپنے خاوند کے ساتھ کتنا گہرا تعلق ہوتا ہے۔جب میں نے حمنہ کو اس کے ماموں کے شہید ہونے کی خبر دی تو اس نے پڑھا إِنَّا لِلَّهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ جب میں نے اسے اس کے بھائی کے شہید ہونے کی خبر دی تو اس نے پھر بھی اِنَّا لِلَّهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رجِعُونَ ہی پڑھا۔لیکن جب میں نے اس کے خاوند کے شہید ہونے کی خبر دی تو اس نے ایک آہ بھر کر کہا کہ ہائے افسوس اور وہ اپنے آنسوؤں کو روک نہ سکی اور گھبر اگئی۔پھر آپ صلی نمی یکم نے فرمایا عورت کو ایسے وقت میں اپنے عزیز ترین رشتہ دار اور خونی رشتہ دار بھول جاتے ہیں لیکن اسے محبت کرنے والا خاوند یاد رہتا ہے۔اس کے بعد آپ نے حمنہ سے پوچھا تم نے اپنے خاوند کی وفات کی خبر سن کر ہائے افسوس کیوں کہا تھا ؟ حمنہ نے عرض کیا یارسول اللہ مجھے اس کے بیٹے یاد آ گئے تھے کہ ان کی کون رکھوالی کرے گا۔یہاں خاوند کی محبت اپنی جگہ۔ایک محبت کرنے والا خاوند ہو تو بیوی یادر کھتی ہے۔لیکن اس کے بچوں کی فکر تھی۔اس کا اظہار انہوں نے کیا۔محبت کرنے والے خاوند بنیں اور بچوں کی فکر کرنے والی مائیں بہنیں اور اس میں آجکل کے مردوں کے لئے بھی اور عورتوں کے لئے بھی سبق ہے کہ محبت کرنے والے خاوند بنیں اور بچوں کی فکر کرنے والی مائیں بہنیں۔اور محبت کرنے والے خاوند بننے کے لئے بیوی اور بچوں کے حق ادا کر نے بھی ضروری ہیں جس کی آجکل بڑی شکایتیں ملتی ہیں کہ حق ادا نہیں ہو رہے۔پھر صلی ای ایم نے بھی کیسا خوبصورت ارشاد فرمایا۔آپ نے حمنہ کو فرمایا کہ میں اللہ تعالیٰ سے دعا کرتاہوں کہ خدا تعالیٰ ان کی تمہارے خاوند سے بہتر خبر گیری کرنے والا کوئی شخص پیدا کرے۔یعنی بچوں کی خبر گیری کرنے والا کوئی بہتر شخص پیدا ہو جائے۔چنانچہ اسی دعا کا نتیجہ تھا کہ حمنہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کی شادی حضرت طلحہ کے ساتھ ہوئی اور ان کے ہاں محمد بن طلحہ پیدا ہوئے۔مگر تاریخوں میں ذکر آتا ہے کہ حضرت طلحہ اپنے بیٹے محمد کے ساتھ اتنی محبت اور شفقت نہیں کرتے تھے جتنی کہ حمنہ کے پہلے بچوں کے ساتھ اور لوگ یہ کہتے تھے کہ کسی کے بچوں کو اتنی محبت سے پالنے والا طلحہ سے بڑھ کر اور کوئی نہیں۔اور یہ رسول اللہ صلی علی یم کی دعا کا نتیجہ تھا۔253