اصحابِ بدرؓ (جلد پنجم) — Page 109
اصحاب بدر جلد 5 109 ہوتے جس کا مقابلہ کرنا قلیل التعداد بے سروسامان صحابہ کے لئے ناگوار صورت رکھتا۔لیکن حضرت عبد اللہ بن جحش کے واقعہ سے مغرور سرداران قریش آگ بگولہ ہو گئے اور اس طیش اور غرور میں جلدی سے وہ ایک ہزار کے لگ بھگ مسلح افواج کے ساتھ اس زعم میں مقام بد ر پر پہنچ گئے کہ وہ اپنے قافلے کو بچائیں اور وہ نہیں جانتے تھے کہ وہیں ان کی موت مقدر ہے۔اور دوسری طرف اس بات کا بھی امکان تھا کہ اگر صحابہ کرام کو یہ معلوم ہوتا کہ ایک مسلح فوج کے مقابلہ کے لئے انہیں لے جایا جارہا ہے تو ان میں سے بعض تردد میں پڑ جاتے۔پس راز داری نے وہ کام کیا جو جنگ میں ایسے مورچے کام دیتے ہیں جنہیں آجکل جنگی اصطلاح میں آوٹ کہا جاتا ہے یا camouflage بھی کہا جاتا ہے۔تاریخ میں لکھا ہے خدا اور رسول کی محبت نے ان کو تمام دنیا سے بے نیاز کر دیا تھا۔انہیں اگر کوئی تمنا تھی تو صرف یہ کہ جان عزیز کسی طرح راہ خدا میں شمار ہو جائے۔چنانچہ ان کی یہ آرزو پوری ہوئی اور الْمُجَدَّدعُ في الله ( خدا کی راہ میں کان کٹا ہوا) ان کے نام کا امتیازی نشان ہو گیا۔18 شہادت سے قبل کی ایک مقبول دعا 247 248 حضرت عبد اللہ بن جحش کے بارے میں مزید تفصیل کہ آپ کی دعا کس طرح قبول ہوتی تھی۔آپ کی شہادت سے قبل کی دعا کی قبولیت کا ایک واقعہ مشہور ہے۔اسحاق بن سعد بن ابی وقاص اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ حضرت عبد اللہ بن جحش نے میرے والد یعنی سعد سے غزوہ اُحد کے دن کہا کہ آؤ اللہ تعالیٰ سے دعا کریں چنانچہ دونوں ایک جانب ہو گئے۔پہلے حضرت سعد نے دعا کی کہ اے اللہ جس وقت میں کل دشمنوں سے ملوں تو میرا مقابلہ ایسے شخص سے ہو جو حملہ کرنے میں سخت ہو اور اس کا رعب غالب ہو۔پس میں اس سے لڑوں اور اس کو تیری راہ میں قتل کر دوں اور اس کے ہتھیاروں کو لے لوں۔اس پر عبد اللہ بن جحش نے آمین کہی۔اس کے بعد حضرت عبد اللہ بن جحش نے یہ دعا کی کہ اے اللہ ! کل میرے سامنے ایسا شخص آئے جو حملہ کرنے میں سخت ہو اور اس کار عب غالب ہو اس سے میں تیری خاطر قتال کروں اور وہ مجھ سے قتال کرے۔وہ غالب آکر مجھے قتل کر دے اور مجھ کو پکڑ کر میری ناک کان کاٹ ڈالے۔پس جس وقت میں تیرے حضور حاضر ہوں تو تو مجھ سے پوچھے کہ اے عبد اللہ ! کس کی راہ میں تیری ناک اور تیرے دونوں کان کاٹے گئے۔میں عرض کروں کہ تیری اور تیرے رسول ملی کم کی راہ میں۔جواب میں تو یہ کہے کہ تو نے سچ کہا۔حضرت سعد کہتے ہیں کہ حضرت عبد اللہ بن جحش کی دعا میری دعا سے بہتر تھی۔اس لئے کہ اخیر دن میں میں نے ان کی ناک اور دونوں کانوں کو دیکھا کہ ایک دھاگے میں معلق تھے۔249 یعنی کٹے ہوئے تھے اور انہیں پرویا ہوا تھا۔یہ ظالمانہ فعل ہے جو وہ کافر کرتے تھے اور یہی آجکل بھی بعض دفعہ بعض شدت پسند مسلمان اسلام کے نام پر کر رہے ہیں۔