اصحابِ بدرؓ (جلد پنجم) — Page 99
اصحاب بدر جلد 5 99 99۔حضرت براء لکھتے ہیں کہ یہی وہ واقعہ ہے جس کے متعلق اللہ تعالیٰ فرماتا ہے جبکہ رسول تمہاری سب سے پچھلی جماعت میں کھڑا تمہیں بلا ر ہا تھا۔آل عمران کی آیت ہے۔نبی صلی علیکم کے پاس بارہ آدمیوں کے سوا اور کوئی نہ رہا اور کافروں نے ہم میں سے ستر آدمی شہید کئے۔اور نبی صلی علی کم اور آپ کے صحابہ نے جنگ بدر میں مشرکوں کے 140 آدمیوں کو نقصان پہنچایا تھا۔ستر قیدی اور ستر مقتول۔ابوسفیان کا کہنا یہ معرکہ بدر کے معرکہ کا بدلہ ہے ابوسفیان نے تین بار پکار کر کہا، یہ سارا واقعہ جنگ اُحد کا ہی بیان ہو رہا ہے ) کہ کیا ان لوگوں میں محمد ہے ؟ صلی اللہ علیہ وسلم نبی صلی علیم نے صحابہ کو اسے جواب دینے سے روک دیا۔کافروں کی جو شکست تھی وہ جب فتح میں بدل گئی ہے اور انہوں نے دوبارہ حملہ کر کے درے سے مسلمانوں کو زیر کر لیا۔تب اس نے کہا کہ کیا تم میں محمد ہے؟ نبی صلی علیہ تم نے صحابہ کو اسے جواب دینے سے روک دیا۔پھر اس نے تین بار پکار کر پوچھا کیالوگوں میں ابو قحافہ کا بیٹا ہے یعنی حضرت ابو بکر ہیں ؟ پھر تین بار پوچھا کیا ان لوگوں میں ابن خطاب ہے یعنی حضرت عمر کے بارے میں پوچھا؟ پھر وہ اپنے ساتھیوں کی طرف لوٹ گیا اور آنحضرت صلی علیہ یکم نے ہر دفعہ پوچھنے پر یہی فرمایا تھا کہ جواب نہیں دینا۔پھر کہتے ہیں کہ وہ اپنے ساتھیوں کی طرف لوٹ گیا اور کہنے لگا کہ یہ جو تھے وہ تو مارے گئے۔یہ تین ان کے لیڈر ہو سکتے تھے یہ تینوں تو مارے گئے۔یہ سن کر حضرت عمر اپنے آپ کو قابو میں نہ رکھ سکے اور بولے اے اللہ کے دشمن ! بخدا تم نے جھوٹ کہا ہے۔جن کا تو نے نام لیا ہے وہ سب زندہ ہیں۔جو بات ناگوار ہے اس میں سے ابھی تیرے لئے بہت کچھ باقی ہے۔ابوسفیان بولا یہ معرکہ بدر کے معرکے کا بدلہ ہے اور لڑائی تو ڈول کی طرح ہے کبھی اس کی فتح اور کبھی اس کی فتح۔تم ان لوگوں میں سے کچھ ایسے مردے پاؤ گے جن کے ناک کان کاٹے گئے ہیں یعنی مثلہ کیا گیا ہے۔اس نے کہا کہ میں نے اس کا حکم نہیں دیا اور میں نے اسے برا بھی نہیں سمجھا۔پھر اس کے بعد وہ یہ رجزیہ فقرہ پڑھنے لگا۔اُعْلُ هُبَل اُعْلُ هُبل قبل کی ہے ، ھبل کی ہے۔نبی صلی علی کرم نے فرمایا کیا اب اسے جواب نہیں دو گے ؟ صحابہ نے کہا یار سول اللہ ہم کیا کہیں ؟ آپ نے فرمایا تم کہو اللهُ أَعْلَیٰ وَاَجَلُ اللہ ہی سب سے بلند اور بڑی شان والا ہے۔پھر ابوسفیان نے کہا کہ عُری نامی بت ہمارا ہے اور تمہارا کوئی مزی نہیں۔نبی صلی للہ ہم نے یہ سن کر فرمایا کہ کیا تم اسے جواب نہیں دو گے۔حضرت براء بن عازب کہتے ہیں کہ صحابہ نے کہا یارسول اللہ ہم کیا کہیں ؟ آپ نے فرمایا کہو اللهُ مَوْلَانَا وَلَا مَوْلَى لَكُمْ کہ اللہ ہمارا مددگار ہے اور تمہارا کوئی مددگار نہیں۔232 جنگ احد اور ابو سفیان کا نعر۔۔۔۔۔حضرت مصلح موعودؓ نے بھی اس واقعہ پر کافی تفصیلی بحث کی ہے۔اور غزوۂ احد پر روشنی ڈالی ہے۔آپ فرماتے ہیں کہ وہ صحابہ جو رسول اللہ صلی علیکم کے گر د تھے اور جو کفار کے ریلے کی وجہ سے پیچھے