اصحابِ بدرؓ (جلد پنجم) — Page 98
اصحاب بدر جلد 5 98 بھی مسلمان ہو کر مدینہ میں ہجرت کر آئے اور اس طرح خاوند بیوی پھر اکٹھے ہو گئے۔غزوہ احد میں تیر اندازوں کے دستہ کے سپہ سالار 23011 غزوہ اُحد میں آنحضرت صلی للی یکم نے حضرت عبد اللہ بن جبیر کو ان پچاس تیر اندازوں کے دستے کا سالار مقرر فرمایا جسے آپ نے مسلمانوں کے عقب میں واقع دڑے کی حفاظت کے لئے مقرر فرمایا تھا۔باقی تفصیل تو عبد اللہ بن محمیر کے واقعہ میں بیان ہو گئی ہے اور کچھ مزید یہ ہے جو حضرت مرزا بشیر احمد صاحب نے ہی لکھی ہے کہ : " آنحضرت صلی ام خدا کی مدد پر بھروسہ کرتے ہوئے آگے بڑھے اور اُحد کے دامن میں ڈیرہ ڈال دیا ایسے طریق پر کہ اُحد کی پہاڑی مسلمانوں کے پیچھے کی طرف آگئی اور مدینہ گویا سامنے رہا اور اس طرح آپ نے لشکر کا عقب محفوظ کر لیا آپ نے یہ انتظام فرمایا کہ عبد اللہ بن جبیر کی سرداری میں پچاس تیر انداز صحابی وہاں متعین فرما دیئے اور ان کو تاکید فرمائی کہ خواہ کچھ ہو جاوے وہ اس جگہ کو نہ چھوڑیں اور دشمن پر تیر برساتے جائیں۔"231۔۔۔۔۔۔جیسا کہ پہلے بھی ذکر آچکا ہے کہ آنحضرت علی علیم کو اس درے کی حفاظت کا اس قدر خیال تھا کہ آپ صلی علیم نے عبد اللہ بن جبیر سے یہ تکرار سے فرمایا کہ دیکھو یہ درہ کسی صورت میں خالی نہ رہے اور اگر فتح بھی ہو جائے، دشمن پسپا ہو کر دوڑ جائے تب بھی تم نے جگہ نہیں چھوڑنی اور مسلمانوں کو اگر شکست ہو جائے اور دشمن ہم پہ غالب آجائیں تب بھی تم نے نہیں چھوڑنی۔حضرت براء بن عازب بیان کرتے ہیں کہ نبی صلی علیم نے جنگ اُحد کے دن پیادہ فوج پر حضرت عبد اللہ بن جبیر کو مقرر فرمایا اور یہ پچاس آدمی تھے اور ان سے فرمایا کہ اپنی اس جگہ سے نہ ہٹنا خواہ دیکھو کہ پرندے ہم پر جھپٹ رہے ہیں۔اپنی جگہ پر رہنا تاوقتیکہ میں تمہیں نہ بلا بھیجوں اور اگر تم ہمیں اس حالت میں بھی دیکھو کہ لوگوں کو ہم نے شکست دے دی ہے اور انہیں ہم نے روند ڈالا ہے تب بھی یہاں سے نہ سر کنا جب تک کہ میں تمہیں نہ کہلا بھیجوں۔چنانچہ مسلمانوں نے ان کو شکست دے کر بھگا دیا۔حضرت براء کہتے تھے کہ بخدا میں نے مشرک عورتوں کو دیکھا کہ وہ بھاگ رہی تھیں اور وہ اپنے کپڑے اٹھائے ہوئے تھیں۔( اس زمانے میں فوجوں کے ساتھ عورتیں بھی ان کے جذبات ابھارنے کے لئے جایا کرتی تھیں) ان کی پازیبیں اور پنڈلیاں ننگی ہو رہی تھیں یہ حضرت عبد اللہ بن جبیر کے ساتھیوں نے یہ دیکھ کر کہا کہ لو گو ! چلو غنیمت حاصل کریں۔تمہارے ساتھی غالب ہو گئے تم کیا انتظار کر رہے ہو ؟ حضرت عبد اللہ بن جبیر نے کہا کیا تم وہ بات بھول گئے ہو جو رسول اللہ صلی للی کلم نے تم سے فرمائی تھی ؟ انہوں نے یعنی ان لوگوں نے جو جگہ چھوڑنا چاہتے تھے کہا کہ بخد ا ضرور ہم بھی ان لوگوں کے پاس پہنچیں گے اور غنیمت کا مال لیں گے۔یہ باقی وہاں غنیمت کا مال لے رہے ہیں تو ہم بھی جائیں گے۔جب وہ وہاں پہنچے تو ان کے منہ پھیر دئے گئے اور شکست کھا کر بھاگتے ہوئے لوٹے یعنی پھر دشمن نے حملہ کیا اور یہ جو فتح ہے وہ