اصحابِ بدرؓ (جلد پنجم)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 91 of 617

اصحابِ بدرؓ (جلد پنجم) — Page 91

اصحاب بدر جلد 5 91 کمان تھی کہ اس سے عمدہ لکڑی اور نرمی میں اس سے بہترین کمان میں نے پہلے کبھی نہیں دیکھی تھی۔کہتے ہیں کہ میں رسول اللہ صلی الم کی خدمت میں حاضر ہوا اور اس کے متعلق پوچھا کہ یارسول اللہ ! اس کے بارے میں آپ کی کیا رائے ہے ؟ اس طرح وہ مجھے کمان تحفہ دے کر گیا ہے۔آپ نے فرمایا کہ یہ تمہارے کندھوں کے درمیان ایک انگارہ ہے جو تم نے لٹکایا ہے۔یعنی یہ تحفہ جو تم لے رہے ہو وہ یہ اس لیے دے کے گیا ہے کہ تم نے اسے قرآن پڑھایا ہے اور اس طرح یہ تم نے آگ لی ہے جو اپنے کندھوں میں لٹکا رہے ہو۔۔212 قرآن پڑھانے کو ذریعہ آمد بنانا۔۔۔ایک اور روایت بھی ہے کہ حضرت عبادہ بن صامت نے بیان کیا کہ میں نے اہل صفہ میں سے کچھ لوگوں کو قرآن پڑھایا اور لکھنا سکھایا تو ان میں سے ایک شخص نے میرے پاس ہدیہ میں کمان بھیجی۔میں نے دل میں خیال کیا کہ یہ کوئی مال تو ہے نہیں، کوئی ایسی نقد چیز تو ہے نہیں، سونا چاندی تو ہے نہیں ، نہ کوئی کرنسی ہے اور میں اس سے اللہ کی راہ میں تیر اندازی کروں گا۔ایک کمان ہی ہے ناں ، میرے کام آئے گی۔اگر کبھی جہاد کا موقع ملا تو تیر اندازی کے کام آئے گی۔اللہ کے رستے میں استعمال ہونی ہے۔بہر حال کہتے ہیں میں نے رسول اللہ صلی العلیم سے اس بارے میں دریافت کیا تو آپ نے فرمایا کہ اگر تم آگ کا طوق پہننا پسند کرتے ہو تو اسے قبول کر لو۔213 یعنی اگر تم چاہتے ہو کہ آگ کا ایک طوق تمہارے گلے میں پہنایا جائے تو ٹھیک ہے لے لو۔یہ دونوں روایتیں جو ہیں ایک ہی طرح کی ہیں، مختلف جگہوں سے آئی ہوئی ہیں۔شارحین نے اس روایت سے یہ استدلال کیا ہے کہ گویا کمان قرآن پڑھانے کی اجرت کے طور پر تھی جسے حضور صلی للہ ہم نے نا پسند فرمایا۔پس وہ لوگ جو انفرادی طور پر قرآن کریم پڑھانے کو ذریعہ آمد بنا لیتے ہیں ان کے لیے بھی اس میں رہنمائی ہے۔آنحضرت ملا علم کی عیادت اور شہیدوں کی اقسام حضرت راشد بن محبّيش سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ رسول اللہ صلی الیکم حضرت عبادہ بن صامت کی عیادت کے لیے ان کے ہاں تشریف لائے جب کہ وہ بیمار تھے۔رسول اللہ صلی الیم نے فرمایا کہ کیا تم لوگ جانتے ہو کہ میری امت کے شہید کون لوگ ہیں ؟ تو لوگ ایک دوسرے کی طرف دیکھنے لگے۔رسول اللہ صلی علی کم عبادہ بن صامت کی عیادت کے لیے تشریف لائے تھے وہاں رسول اللہ صلی الی یوم نے فرمایا کہ تم لوگ جانتے ہو کہ میری امت کے شہید کون لوگ ہیں ؟ لوگ ایک دوسرے کی طرف دیکھنے لگے۔حضرت عبادہ نے ان سے کہا کہ مجھے سہارا دے کر بٹھا دو۔چنانچہ لوگوں نے آپ کو بٹھایا تو حضرت عبادہ نے عرض کی کہ یارسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! آپ نے سوال کیا ہے کہ شہید کون لوگ ہیں ؟ تو جو بہادری اور ثابت قدمی سے مقابلہ کرنے والا اور ثواب کی نیت رکھنے والا ہو وہ شہید ہے۔رسول