اصحابِ بدرؓ (جلد چہارم)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 39 of 672

اصحابِ بدرؓ (جلد چہارم) — Page 39

ناب بدر جلد 4 39 ان کو پتہ لگ گیا کہ یہ مسلمان ہیں۔انہوں نے ان سے جنگ کرنے کی ٹھان لی، دونوں آمنے سامنے ہو گئے۔مسلمانوں نے آپس میں مشورہ کیا کہ اب کیا کرنا چاہیے کیونکہ آنحضرت صلی علیم نے ان کو خفیہ خفیہ خبر رسانی کے لئے بھیجا تھا لیکن دوسری طرف قریش سے جنگ شروع ہو چکی تھی اور اب دونوں حریف ایک دوسرے کے سامنے تھے۔اور پھر طبعاً یہ اندیشہ بھی تھا کہ اب جو قریش کے اس قافلے والوں نے مسلمانوں کو دیکھ لیا ہے تو اس خبر رسانی کا راز بھی مخفی نہ رہ سکے گا۔اور ایک دِقت یہ بھی تھی کہ بعض مسلمانوں کو خیال تھا کہ شاید یہ دن رجب یعنی شہر حرام کا آخری ہے۔( حرمت والے مہینے کا آخری دن ہے) جس میں عرب کے قدیم دستور کے مطابق لڑائی نہیں ہونی چاہیے تھی۔اور بعض سمجھتے تھے کہ رجب گزر چکا ہے اور شعبان شروع ہے۔اور بعض روایات میں یہ ہے کہ یہ سر یہ جمادی الآخر میں بھیجا گیا تھا اور شک یہ تھا کہ یہ دن جمادی کا ہے یا رجب کا؟ لیکن دوسری طرف نکلے کی وادی بھی عین حرم کے علاقے کی حد پر واقع تھی۔اور یہ ظاہر تھا کہ اگر آج ہی کوئی فیصلہ نہ ہوا تو کل کو یہ قافلہ حرم کے علاقے میں داخل ہو جائے گا جس کی حرمت یقینی ہو گی۔عمرو بن الحضرمی کا مارا جانا غرض ان سب باتوں کو سوچ کر ان چھ مسلمانوں نے یہی فیصلہ کیا کہ قافلے پر حملہ کر کے یا تو قافلے والوں کو قید کر لیا جائے یا مار دیا جائے۔چنانچہ انہوں نے اللہ کا نام لے کر حملہ کر دیا جس کے نتیجہ میں کفار کا ایک آدمی جس کا نام عمر و بن الحضرمی تھا مارا گیا اور دو آدمی قید ہو گئے۔لیکن چوتھا آدمی بھاگ نکلا اور مسلمان اسے پکڑ نہ سکے اور اس طرح ان کی تجویز جو تھی کہ ان کو پکڑ لیا جائے یا مار دیا جائے وہ کامیاب ہوتے ہوتے رہ گئی۔اس کے بعد مسلمانوں نے قافلے کے سامان پر قبضہ کر لیا اور چونکہ قریش کا ایک آدمی بیچ کر نکل گیا تھا اور یقین تھا کہ اس لڑائی کی خبر جلدی مکہ پہنچ جائے گی۔عبد اللہ بن جحش اور اس کے ساتھی سامان غنیمت لے کر جلدی جلدی مدینہ کی طرف واپس لوٹ آئے۔مستشرقین بھی اس پر اعتراض کرتے ہیں کہ یہ دیکھو یہ جان کر بھیجا گیا تھا۔قافلے پر حملہ کروایا گیا، جو قطعأغلط ہے۔بہر حال حقیقت یہ ہے کہ آنحضرت صلی علی نظم کو جب یہ علم ہوا کہ صحابہ نے قافلے پر حملہ کیا تھا تو آپ سخت ناراض ہوئے۔چنانچہ روایت میں آتا ہے کہ جب یہ جماعت آنحضرت صلی علیکم کی خدمت میں حاضر ہوئی اور آپ کو سارے ماجرے کی اطلاع ہوئی تو آپ سخت ناراض ہوئے اور فرمایا کہ میں نے تمہیں شہر حرام میں لڑنے کی اجازت نہیں دی۔اور پھر آپ نے مال غنیمت لینے سے انکار کر دیا کہ اس میں سے میں کچھ بھی نہیں لوں گا۔اس پر عبد اللہ اور ان کے ساتھی سخت نادم اور پشیمان ہوئے اور انہوں نے خیال کیا کہ بس اب ہم خدا اور اس کے رسول کی ناراضگی کی وجہ سے ہلاک ہو گئے۔ان میں بڑا خوف پید اہوا۔صحابہ نے بھی ان کو سخت ملامت کی۔مدینہ میں جو صحابہ تھے انہوں نے بھی کہا کہ تم نے وہ کام کیا جس کا تمہیں حکم نہیں دیا گیا تھا اور تم نے شہر حرام میں لڑائی کی۔حرمت والے مہینے میں لڑائی کی حالانکہ