اصحابِ بدرؓ (جلد چہارم)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 530 of 672

اصحابِ بدرؓ (جلد چہارم) — Page 530

اصحاب بدر جلد 4 530 ہوئے لیکن اس جنگ میں قریش کو کچھ ایسا دھکالگا کہ اس کے بعد ان کو پھر کبھی مسلمانوں کے خلاف اس طرح جتھہ بنا کر نکلنے یا مدینہ پر حملہ آور ہونے کی ہمت نہیں ہوئی اور آنحضرت صلی للی نام کی پیشگوئی لفظ بلفظ پوری ہوئی۔1184<< جیسا کہ پچھلے خطبے میں ذکر ہو چکا ہے کہ آپ نے فرمایا تھا: آئندہ سے کفار کو ہمت نہیں ہو گی کہ ہم پر حملہ کریں۔حضرت سعد بن معاذ کو غزوہ خندق کے موقعے پر کلائی میں زخم آیا جس سے آپ کی شہادت ہوئی۔حضرت عائشہ بیان کرتی ہیں کہ میں غزوہ خندق کے روز نکلی اور لوگوں کے قدموں کے نشان پر چل رہی تھی کہ میں نے پیچھے سے آہٹ سنی۔میں نے پیچھے مڑ کر دیکھا تو حضرت سعد بن معاذ اپنے بھتیجے حارث بن اوس کے ہمراہ ڈھال لیے ہوئے تھے۔میں زمین پر بیٹھ گئی۔حضرت سعد بن معاذ میرے پاس سے رجزیہ شعر پڑھتے ہوئے گزرے کہ لَيْكَ قَلِيْلًا يُدْرِكُ الْهَيْجَا حَمَلْ مَا أَحْسَنَ الْمَوْتَ إِذَا حَانَ الْأَجَلْ کہ کچھ دیر انتظار کرو یہاں تک کہ حمل جنگ کے لیے حاضر ہو جائے۔موت کیا ہی اچھی ہوتی ہے جب مقررہ میعاد کا وقت آ گیا ہو۔حضرت عائشہ فرماتی ہیں کہ حضرت سعد بن معاذ کے بدن پر ایک زرہ تھی جس سے آپ کی دونوں اطراف باہر تھیں۔یعنی جسم بھاری ہونے کی وجہ سے، چوڑا ہونے کی وجہ سے اس سے باہر نکل رہا تھا۔کہتی ہیں کہ مجھے اس بات پر حضرت سعد کی دونوں اطراف کے زخمی ہونے کا اندیشہ ہوا کہ زرہ سے باہر ہیں۔حضرت سعد طویل القامت اور عظیم الجثہ لوگوں میں سے تھے۔1185 حضرت سعد بن معاذ کو ابن عرقہ نے زخمی کیا تھا۔ابن عرقہ کا نام حبان بن عبد مناف تھا۔قبیلہ 1187 بنو عامر بن لوٹی سے تعلق رکھتا تھا۔عرقہ اس کی والدہ کا نام تھا۔1186 حضرت جابر سے روایت ہے۔وہ کہتے ہیں کہ حضرت سعد بن مُعاذ کے بازو کی رگ میں تیر لگا تو رسول اللہ صلی العلیم نے اپنے ہاتھ سے تیر کے پھل کو نکال کر پھل سے اس کو پھر بعد میں کاٹ کر داغ دیا، اس زخم کو کاٹ کر داغ دیا پھر وہ سوج گیا۔آپ نے اس کو دوبارہ کاٹ کر دوبارہ داغ دیا۔جو زخم لگا تھا تیر کے پھل سے ہی اس کو کاٹا اور پھر داغ دیا۔7 زخمی ہونے پر حضرت سعد کی ایک دعا حضرت عائشہ فرماتی ہیں کہ مشرکین میں سے ایک شخص ابن عرقہ حضرت سعد بن معاذ کو تیر مار رہا تھا۔اس نے ایک تیر مارتے ہوئے کہا: یہ لو میں ابن عرقہ ہوں۔وہ تیر حضرت سعد کے بازو کی رگ میں لگا۔زخمی ہونے پر حضرت سعد نے اللہ تعالیٰ سے یہ دعا کی کہ اے اللہ ! مجھے اس وقت تک موت نہ دینا جب تک کہ تو بنو قریظہ سے میری تسلی نہ کرا دے۔1188