اصحابِ بدرؓ (جلد چہارم)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 515 of 672

اصحابِ بدرؓ (جلد چہارم) — Page 515

اصحاب بدر جلد 4 515 سة احد میں اس کا ایک بیٹا عمرو بن معاذ بھی مارا گیا تھا۔اسے دیکھ کر سعد بن معاذ نے کہا یار سول اللہ ! اُمّی۔اے اللہ کے رسول ! میری ماں آرہی ہے۔آپؐ نے فرمایا خدا تعالیٰ کی برکتوں کے ساتھ آئے۔بڑھیا آگے بڑھی اور اپنی کمزور پھٹی آنکھوں سے اِدھر اُدھر دیکھا کہ کہیں رسول کریم صلی الم کی شکل نظر آ جائے۔آخر رسول اللہ صلی تین کم کا چہرہ پہچان لیا اور خوش ہو گئی۔رسول اللہ صلی ا ہم نے فرمایا مائی ! مجھے تمہارے بیٹے کی شہادت پر تم سے ہمدردی ہے۔اس پر نیک عورت نے کہا حضور ! جب میں نے آپ کو سلامت دیکھ لیا تو سمجھو کہ میں نے مصیبت کو بھون کر کھا لیا۔” مصیبت کو بھون کر کھالیا کیا عجیب محاورہ ہے۔محبت کے کتنے گہرے جذبات پر دلالت کرتا ہے۔غم انسان کو کھا جاتا ہے۔وہ عورت جس کے بڑھاپے میں اس کا عصائے پیری ٹوٹ گیا کس بہادری سے کہتی ہے کہ میرے بیٹے کے غم نے مجھے کیا کھانا ہے جب محمد رسول اللہ صلی لی کہ زندہ ہیں تو میں اس غم کو کھا جاؤں گی۔میرے بیٹے کی موت مجھے مارنے کا موجب نہیں ہو گی بلکہ یہ خیال کہ رسول اللہ صلی املی کام کے لیے اس نے جان دی۔“ یہ خیال تو ” میری قوت کے بڑھانے کا موجب ہو گا۔“میری طاقت کو بڑھانے کا موجب ہو گا۔حضرت مصلح موعود انصار کی تعریف کرتے ہوئے اور ان کو دعا دیتے ہوئے فرماتے ہیں۔”اے انصار ! میری جان تم پر فدا ہو۔تم کتنا ثواب لے گئے۔1171 کعب بن اشرف کی سازشیں اور اس کا قتل کعب بن اشرف کو اس کی ریشہ دوانیوں، اسلام کے خلاف بغض اور دشمنی پھیلانے حتی کہ آنحضرت صلی الم کے قتل کی سازش کرنے پر جو قتل کی سزا کا فیصلہ آنحضرت صلی اللہ ہم نے فرمایا تھا اس میں بھی بحیثیت سردار قبیلہ انصار کے ، سردار قبیلہ کے طور پر حضرت سعد بن معاذ کے مشورے کو بھی شامل کیا گیا تھا۔اس کی تفصیل یعنی اس سزا کے عمل درآمد ہونے اور کعب بن اشرف کے قتل کی یہ تفصیل جو ہے وہ میں کچھ عرصہ پہلے دو صحابہ کے ذکر میں بیان کر چکا ہوں 1172 تاہم اس کا کچھ حصہ یہاں بھی بیان کر تاہوں جس کا تعلق حضرت سعد بن معاذ سے ہے۔اور یہ جو میں بیان کروں گا اس میں بھی کچھ اخذ کیا ہے اور کچھ اقتباس میں نے سیرت خاتم النبیین سے ہی لیا ہے۔جب آنحضرت علی ای کم مدینہ میں ہجرت کر کے تشریف لائے تو کعب بن اشرف نے دوسرے یہودیوں کے ساتھ مل کر اس معاہدہ میں شرکت کی جو آنحضرت صلی علی یکم اور یہود کے درمیان باہمی دوستی اور امن وامان اور مشتر کہ دفاع کے متعلق تحریر کیا گیا تھا مگر اندر ہی اندر کعب کے دل میں بغض و عداوت کی آگ سلگنے لگ گئی اور اس نے خفیہ چالوں اور مخفی ساز باز سے اسلام اور بانی اسلام کی مخالفت شروع کر دی۔چنانچہ لکھا ہے کہ کعب ہر سال یہودی علماء و مشائخ کو بہت سی خیرات دیا کرتا تھا۔اس نے ایک دن ان مشائخ سے ان کی مذہبی کتابوں کی رو سے آپ ملی لی ایم کے متعلق سوال کیا کہ تمہارا کیا خیال ہے یہ سچا ہے کہ نہیں ؟ انہوں نے کہا کہ بظاہر تو یہ وہی نبی معلوم ہوتا ہے جس کا ہمیں وعدہ دیا گیا تھا، ہماری تعلیم میں ذکر ہے۔کعب تو آنحضرت صلی علیہم کا اور اسلام کا بڑا سخت مخالف تھا۔اس جواب پر وہ