اصحابِ بدرؓ (جلد چہارم)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 512 of 672

اصحابِ بدرؓ (جلد چہارم) — Page 512

اصحاب بدر جلد 4 512 آنحضرت صلی اللہ نے فرمایا اس بارہ میں کوئی خدائی حکم نہیں ہے۔تم کوئی مشورہ دینا چاہتے ہو تو بتاؤ۔حُباب نے عرض کیا تو پھر میرے خیال میں یہ جگہ اچھی نہیں ہے۔“جنگی لحاظ سے۔”بہتر ہو گا کہ آگے بڑھ کر قریش سے قریب ترین چشمہ پر قبضہ کر لیا جاوے۔میں اس چشمہ کو جانتا ہوں۔اس کا پانی اچھا ہے اور عموماً ہوتا بھی کافی ہے۔آنحضرت صلی علی یم نے اس تجویز کو پسند فرمایا اور چونکہ ابھی تک قریش ٹیلہ کے پرے ڈیرہ ڈالے پڑے تھے اور یہ چشمہ خالی تھا مسلمان آگے بڑھ کر اس چشمہ پر قابض ہو گئے لیکن جیسا کہ قرآن شریف میں اشارہ پایا جاتا ہے اس وقت اس چشمہ میں بھی پانی زیادہ نہیں تھا مسلمانوں کو پانی کی قلت محسوس ہوتی تھی۔پھر یہ بھی تھا کہ وادی کے جس طرف مسلمان تھے وہ ایسی اور اچھی نہ تھی کیونکہ اس طرف ریت بہت تھی جس کی وجہ سے پاؤں اچھی طرح جمتے نہیں تھے۔جگہ کے انتخاب کے بعد سعد بن معاذر ئیس اوس کی تجویز سے صحابہ نے میدان کے ایک حصہ میں آنحضرت صلی علی کریم کے واسطے ایک سائبان ساتیار کر دیا اور سعد نے آنحضرت صلی علیہ کیم کی سواری سائبان کے پاس باندھ کر عرض کیا کہ یار سول اللہ ! آپ اس سائبان میں تشریف رکھیں اور ہم اللہ کا نام لے کر دشمن کا مقابلہ کرتے ہیں۔اگر خدا نے ہمیں فتح دی تو یہی ہماری آرزو ہے“ تو الحمد للہ۔”لیکن اگر خدانخواستہ معاملہ دگر گوں ہوا تو آپ اپنی سواری پر سوار ہو کر جس طرح بھی ہو مدینہ پہنچ جائیں۔“ اس خیمہ کے ساتھ ہی اچھی قسم کی سواری، ایک اونٹ بھی باندھ کر رکھ دیا۔پھر انہوں نے عرض کیا کہ آپ وہاں مدینہ پہنچ جائیں۔وہاں ہمارے ایسے بھائی بند موجود ہیں جو محبت واخلاص میں ہم سے کم نہیں ہیں لیکن چونکہ ان کو یہ خیال نہیں تھا کہ اس مہم میں جنگ پیش آجائے گی اس لیے وہ ہمارے ساتھ نہیں آئے ورنہ ہر گز پیچھے نہ رہتے لیکن جب انہیں حالات کا علم ہو گا تو وہ آپ کی حفاظت میں جان تک لڑا دینے سے دریغ نہیں کریں گے۔یہ سعد کا جوش اخلاص تھا جو ہر حالت میں قابل تعریف ہے ورنہ بھلا خدا کار سول اور میدان سے بھاگے ؟ آنحضرت صلی اینم تو جنگوں میں سب سے آگے ہوتے تھے۔وو چنانچہ حنین کے میدان میں ہم دیکھتے ہیں کہ ”بارہ ہزار فوج نے پیٹھ دکھائی مگر یہ مرکز توحید اپنی جگہ سے متزلزل نہیں ہوا۔بہر حال سائبان تیار کیا گیا جیسا کہ سعد نے کہا تھا ” اور سعد اور بعض دوسرے انصار اس کے گرد پہرہ دینے کے لیے کھڑے ہو گئے۔آنحضرت صلی ای کم اور حضرت ابو بکر نے اسی سائبان میں رات بسر کی اور آنحضرت صلی علیہم نے رات بھر خدا کے حضور گریہ وزاری سے دعائیں کیں اور لکھا ہے کہ سارے لشکر میں صرف آپ ہی تھے جو رات بھر جاگے۔باقی سب لوگ باری باری اپنی نیند لیے۔1166CC سعد بن معاذ اور سعد بن عبادہ آپ کی سواری کے سامنے آہستہ آہستہ دوڑتے جاتے تھے غزوہ احد کے موقعے پر جمعے کی شب حضرت سعد بن معاذ، حضرت اُسید بن حضیر اور حضرت سعد بن عبادہ مسجد نبوی میں ہتھیار پہنے رسول اللہ صلی ال نیم کے دروازے پر پہرہ دیتے رہے۔غزوۂ احد کے