اصحابِ بدرؓ (جلد چہارم) — Page 488
اصحاب بدر جلد 4 488 عبادہ اثر ورقه " لکھتے ہیں کہ " تاریخ سے ثابت ہے کہ صحابہ میں سے بہت سے قرآن کریم کے حافظ 1144 خلافت کے مقام کی اہمیت آنحضرت صلی ایم کی وفات کے بعد انصار اپنے میں سے جن کو خلیفہ منتخب کرنا چاہتے تھے ان میں ان کا نام بھی خاص طور پر لیا جاتا ہے۔حضرت مرزا بشیر احمد صاحب نے بھی سیرت خاتم النبیین میں لکھا ہے کہ انصار کا ان کو خلیفہ منتخب کرنے پر زور تھا اور یہ قوم کے سردار بھی تھے اور جب حضرت ابو بکر خلیفہ منتخب کیے گئے تو یہ اس وقت بلکہ اس سے پہلے ہی انصار کے کہنے پر کچھ متزلزل بھی ہو گئے تھے کہ ان کو ہونا چاہیے۔اس حوالے سے حضرت مصلح موعودؓ نے بڑی تفصیل سے روشنی ڈالی ہے اور خلافت کے مقام کی اہمیت بھی اس حوالے سے بیان کی ہے۔اس لیے میں اس بیان کو بڑا ضروری سمجھتا ہوں۔وقت کی بڑی ضرورت ہے۔مصلح موعودؓ کے اس حوالے سے پہلے حدیث اور ایک تاریخی حوالہ بھی پیش کروں گا۔حضرت ابو بکر کا انتخاب خلافت اور سعد بن عبادہ کا کردار محمید بن عبد الرحمن کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی نیلم کے وصال کے وقت حضرت ابو بکر مدینہ منورہ کے نواح میں تھے۔جب وہ آئے تو انہوں نے آپ صلی اللہ سلم کے چہرے سے کپڑا ہٹا کر آپ کے چہرہ مبارک کو چوما اور فرمایا میرے ماں باپ آپ پر قربان ! آپ زندہ ہونے اور وفات یافتہ ہونے کی حالت میں کس قدر پاکیزہ تھے۔پھر کہا کہ رب کعبہ کی قسم محمد صلی اللہ یوم وفات پاچکے ہیں۔اس کے بعد حضرت ابو بکر اور حضرت عمر رضی اللہ عنہما تیزی کے ساتھ سقیفہ بنو ساعدہ کی طرف روانہ ہوئے۔یہ دونوں وہاں پہنچے تو حضرت ابو بکر نے گفتگو شروع کی۔آپؐ نے قرآن کریم میں انصار کی بابت جو کچھ نازل ہوا اس میں سے کچھ نہ چھوڑا اور نبی کریم صلی للی ایم نے انصار کی فضیلت کے بارے میں جو کچھ فرمایا تھا وہ سب بیان کیا۔پھر آپ نے فرمایا تم لوگوں کو علم ہے کہ رسول اللہ صلی علیم نے فرمایا تھا کہ اگر لوگ ایک وادی میں چلیں اور انصار دوسری وادی میں تو میں انصار کی وادی میں چلوں گا۔پھر حضرت سعد کو مخاطب کر کے حضرت ابو بکر نے فرمایا کہ اے سعد! تجھے علم ہے کہ تو بیٹھا ہوا تھا جب رسول اللہ صلی نیلم نے فرمایا کہ خلافت کا حق دار قریش ہوں گے۔لوگوں میں سے جو نیک ہوں گے وہ قریش کے نیک افراد کے تابع ہوں گے اور جو فاجر ہوں گے وہ قریش کے فاجروں کے تابع ہوں گے۔حضرت سعد نے کہا کہ آپ نے سچ کہا۔ہم وزیر ہیں اور آپ لوگ امراء۔یہ مسند احمد بن حنبل کی حدیث ہے۔15 طبقات الکبریٰ میں اس موقعے کی تفصیل میں اس طرح لکھا ہے کہ نبی کریم صلی کم کی وفات کے بعد حضرت ابو بکر نے حضرت سعد بن عبادہ کی طرف پیغام بھجوایا کہ وہ آکر بیعت کریں کیونکہ لوگوں نے بیعت کرلی ہے اور تمہاری قوم نے بھی بیعت کرلی ہے۔اس پر انہوں نے کہا کہ اللہ کی قسم ! میں اس 1145