اصحابِ بدرؓ (جلد چہارم)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 484 of 672

اصحابِ بدرؓ (جلد چہارم) — Page 484

اصحاب بدر جلد 4 484 نزع میں ہے ہمارے پاس آئیں تو آپ نے کہلا بھیجا اور فرمایا کہ اللہ ہی کا ہے جو لے لے اور اسی کا ہے جو عنایت کرے اور ہر بات کا اس کے ہاں ایک وقت مقرر ہے۔اس لیے تم صبر کرو اور اللہ تعالیٰ کی رضامندی چاہو۔انہوں نے پھر آپ کو بلا بھیجا اور آپ صلی علی کیم کو قسم دی کہ ان کے پاس ضرور آئیں۔آپ اٹھے اور آپ کے ساتھ حضرت سعد بن عبادہ، حضرت معاذ بن جبل، حضرت ابی بن کعب، حضرت زید بن ثابت اور کئی آدمی نبی کریم صلی علی نیم کے پاس تھے۔جب آپ پہنچے تو بچہ اٹھا کر لایا گیا۔وہ بچہ اس وقت دم توڑ رہا تھا اور ایسی ہی دم توڑنے کی آواز آرہی تھی۔عثمان کہتے تھے کہ میرا خیال ہے اسامہ نے کہا کہ جیسے پرانی مشک ٹھکرانے سے آواز دیتی ہے یعنی ایسی آواز آرہی تھی کہ بڑے بڑے سانس لے رہا تھا۔بچے کی یہ حالت دیکھ کر آپ صلی ایام کے آنسو بہنے لگے۔حضرت سعد نے کہا کہ یارسول اللہ یہ کیا ہے ! آپ نے جواب دیا یہ رحمت ہے جو اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں کے دلوں میں پیدا کی ہے اور اللہ بھی اپنے بندوں میں سے انہی پر رحم کرتا ہے جو دوسروں پر رحم کرتے ہیں۔یہ کوئی جذباتی حالت ہے تو ایسی کوئی بات نہیں۔محض اللہ تعالیٰ کا فضل ہے۔حضرت سعد کی عیادت اور آپ صلی ال نیم کا رو دینا 1133 حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ حضرت سعد بن عبادہ کو کسی بیماری کی شکایت ہوئی تو رسول اللہ صلی علی و کم حضرت عبد الرحمن بن عوف، حضرت سعد بن ابی وقاص اور حضرت عبد اللہ بن مسعودؓ ان سب کو اپنے ساتھ لے کر ان کی بیمار پرسی کے لیے تشریف لے گئے۔جب ان کے پاس پہنچے تو آپ نے ان کو گھر والوں کے جمگھٹ میں پایا۔آپ نے فرمایا کیا یہ فوت ہو گئے ؟ لوگ بیماری کی وجہ سے اکٹھے ہوئے تھے ، شدید بیماری تھی۔گھر والے ارد گرد اکٹھے تھے۔انہوں نے کہا نہیں یا رسول اللہ ! فوت نہیں ہوئے۔بہر حال نبی کریم صلی للی کم قریب گئے۔ان کی حالت دیکھی تو آپ رو پڑے۔لوگوں نے نبی کریم صلی علی یم کو روتے دیکھا تو وہ بھی رو دیے۔پھر آپ نے فرمایا کہ سنتے نہیں۔دیکھو کہ اللہ آنکھ کے آنسو نکلنے سے عذاب نہیں دیتا اور نہ دل کے غمگین ہونے پر بلکہ اس کی وجہ سے سزا دے گا یا رحم کرے گا اور آپ نے اپنی زبان کی طرف اشارہ کیا اور پھر فرمایا اور میت کو بھی اس کے گھر والوں کے اس پر نوحہ کرنے کی وجہ سے عذاب ہوتا ہے۔نوحہ کرنا جو ہے وہ غلط ہے۔اس وقت ہو سکتا ہے کہ دیکھ کر ان کی ایسی حالت ہو یا آپ کی دعا کی کیفیت پید اہوئی ہو اس میں بھی آپ کو رونا آگیا ہو لیکن باقیوں نے یہ سمجھا ہو کہ ان کا آخری وقت ہے اس لیے رونا شروع کر دیا۔اس بات پر آنحضرت صلی علی یکم نے انہیں سمجھایا کہ رونا منع نہیں ہے لیکن بری بات اور منع یہ ہے کہ انسان اللہ تعالیٰ کی قضا و قدر کے ظاہر ہونے پر ناراض ہو جائے۔پس آنسو اللہ تعالیٰ کی رضا چاہتے ہوئے نکلیں تو اس کار حم جذب کرتے ہیں ورنہ اگر بر امنا کر نکلیں اور اس پر نوحہ کیا جائے تو پھر یہ سنز امل جاتی ہے۔بہر حال اس وقت فوت نہیں ہوئے تھے جبکہ بیماری ان کی شدید تھی۔1134