اصحابِ بدرؓ (جلد چہارم)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 473 of 672

اصحابِ بدرؓ (جلد چہارم) — Page 473

اصحاب بدر جلد 4 473 آپ حضرت سعد بن معاذ اور حضرت سعد بن عبادہ کا سہارا لیتے ہوئے اپنے گھر میں داخل ہوئے۔زحمی تھے۔اس حالت میں جب اترے تو آپ نے ان دونوں کا سہارا لیا۔غزوہ حمراء الاسد 1116 حضرت جابر بن عبد اللہ بیان کرتے ہیں کہ غزوہ حمراء الاسد میں ہمارا عام زاد راہ کھجوریں تھیں۔غزوہ حمراء الاسد شوال 3 ہجری میں ہوا۔غزوۂ احد سے واپسی پر قریش کے لوگ روحاء مقام پر ٹھہرے جو مدینہ سے 36 میل کے فاصلے پر واقع ہے۔اس جگہ قریش کو خیال آیا کہ مسلمانوں کو نقصان بہت پہنچا ہے۔واپس جا کر مدینے پر اچانک حملہ کر دینا چاہیے اور مسلمان مقابلہ نہیں کر سکیں گے کیونکہ کافی ان کو نقصان پہنچ چکا ہے۔ادھر رسول اللہ صلی علی کلم قریش کے تعاقب میں نکلے اور حمراء الاسد مقام تک پہنچے۔آپ کو بھی پتالگا کہ یہ ارادہ ہے تو آپ نے کہا چلو ہم ان کے تعاقب میں چلتے ہیں۔حمراء الاسد مدینہ سے ذوالحلیفہ کی جانب آٹھ میل کے فاصلے پر ہے۔قریشی لشکر کو جب نبی کریم صلی للی کم کی یہ خبر ملی تو وہ سکے کی طرف بھاگ کھڑا ہوا۔جب انہوں نے دیکھا کہ مسلمان بجائے اس کے کہ کمزور ہوں یہ تو ہم پر حملہ کرنے آرہے ہیں تو وہ دوڑ گئے۔حضرت سعد بن عبادہ تھیں اونٹ اور کھجوریں لائے جو حمراء الاسد مقام تک ہمارے لیے وافر ر ہیں۔راوی نے لکھا ہے وہ اونٹ بھی لے کر آئے تھے جو کسی دن دو یا کسی دن تین 1117 کر کے ذبح کیے جاتے تھے۔اور ان کو کھایا جاتا تھا۔غزوہ بنو نضیر اور انصار کا عجیب قابل رشک محبت و ایثار کا اظہار غزوہ بنو نضیر ، یہ غزوہ ربیع الاول 4 ہجری میں ہوا تھا۔نبی کریم صلی ا ہم نے یہود کے قبیلہ بنو نضیر کے قلعوں کا 15 روز تک محاصرہ کیا تھا۔نبی کریم صلی علی کلم نے ان لوگوں کو خیبر کی طرف جلا وطن کر دیا تھا۔اس موقع پر اموال غنیمت حاصل ہوا تو آپ نے حضرت ثابت بن قیس کو بلا کر فرمایا۔میرے پاس اپنی قوم کو بلاؤ۔حضرت ثابت بن قیس نے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! کیا خزرج کو ؟ آپ نے فرمایا نہیں تمام انصار کو بلاؤ۔چنانچہ انہوں نے اوس اور خزرج کو آپ کے لیے بلایا۔رسول اللہ صلی علیکم نے اللہ تعالیٰ کی حمد و ثنا بیان کی جس کا وہ اہل ہے۔پھر آپ نے انصار کے ان احسانات کا ذکر کیا جو انہوں نے مہاجرین پر کیے ہیں۔تم نے مہاجرین پر کس طرح احسان کیے ہیں کہ انہیں اپنے گھروں میں ٹھہرایا اور مہاجرین کو اپنے نفوس پر ترجیح دی۔مة الله پھر آپ صلی علیہ ہم نے فرمایا اگر تم پسند کرو تو میں بنو نضیر سے حاصل ہونے والے مال سے، وہ اموال غنیمت جو کفار سے جنگ کے بغیر مسلمانوں کو حاصل ہو ، یہ وہ مال تھا، اس میں سے تم میں اور مہاجرین میں برابر تقسیم کر دوں۔اس حالت میں مہاجرین حسب سابق تمہارے گھروں اور اموال میں رہیں گے اور اگر تم پسند کرو تو یہ اموال میں مہاجرین میں تقسیم کر دوں ، یعنی آدھا آدھا تقسیم کروں تو ٹھیک ہے جس طرح