اصحابِ بدرؓ (جلد چہارم)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 460 of 672

اصحابِ بدرؓ (جلد چہارم) — Page 460

اصحاب بدر جلد 4 لگتا 460 نا ہے کہ جتنا گھلا ہاتھ حضرت سعد بن عبادہ کا تھا اور جس طرح وہ تقسیم کیا کرتے تھے اس کے بعد وہ کام جاری نہیں رہا۔اس لیے حضرت عبد اللہ بن عمرؓ نے ان سے یہ پوچھا۔حضرت نافع بیان کرتے ہیں کہ حضرت عبد اللہ بن عمر حضرت سعد بن عبادہ کے قلعہ کے پاس سے گزرے تو انہوں نے مجھے کہا کہ اے نافع ! یہ ان کے آباؤ اجداد کے گھر ہیں۔سال میں ایک دن منادی کرنے والا یہ آواز دیتا کہ جو چربی اور گوشت کھانے کا خواہش مند ہے وہ ڈلیم کے گھر آجائے پھر ڈلیم فوت ہو گیا تو عبادہ ایسے اعلان کرنے لگے۔جب عیادہ فوت ہو گئے تو حضرت سعد ایسے اعلان کرنے لگے۔پھر میں نے قیس بن سعد کو ایسا کرتے دیکھا اور فیس حد سے زیادہ سخاوت کرنے والے لوگوں میں سے تھا۔1087 پس اس روایت سے مزید وضاحت ہو گئی کہ ان کی اولاد تک یہ سلسلہ جاری رہا۔اس کے بعد وہ حالت نہیں رہی۔قبولیت اسلام رض 1088 حضرت سعد بن عبادہ نے بیعت عقبہ ثانیہ کے موقعے پر اسلام قبول کیا تھا۔سیرت خاتم النبیین میں اس کے حالات اس طرح بیان ہوئے ہیں کہ 13 نبوی کے ماہ ذوالحجہ میں حج کے موقع پر اوس اور خزرج کے کئی آدمی مکہ میں آئے۔ان میں ستر شخص ایسے شامل تھے جو یا تو مسلمان ہو چکے تھے اور یا مسلمان ہو نا چاہتے تھے اور آنحضرت صلی یی کم سے ملنے کے لیے مکہ آئے تھے۔مُصعب بن عمیر بھی ان کے ساتھ تھے۔مُضعَب کی ماں زندہ تھی اور گو مشرکہ تھی مگر ان سے بہت محبت کرتی تھی۔جب اسے ان کے آنے کی خبر ملی تو اس نے ان کو کہلا بھیجا کہ پہلے مجھ سے آکر مل جاؤ۔پھر کہیں دوسری جگہ جانا۔مُضعَب " نے جواب دیا، اپنی ماں کو کہا کہ میں ابھی تک رسول اللہ صلی اللی کم سے نہیں ملا۔آپ صلی للی کم سے مل کر پھر آپ کے پاس آؤں گا۔چنانچہ وہ آنحضرت صلی عملی کام کے پاس حاضر ہوئے۔آپ سے مل کر اور ضروری حالات عرض کر کے پھر اپنی ماں کے پاس گئے۔ماں ان کی یہ بات کہ پہلے مجھے نہیں ملے سن کے بڑی جلی بھی بیٹھی تھی۔ان کو دیکھ کر بہت روئی اور بڑا شکوہ کیا۔مُصْعَب نے کہا کہ ماں میں تم سے ایک بڑی اچھی بات کہتا ہوں جو تمہارے واسطے بہت ہی مفید ہے اور سارے جھگڑوں کا فیصلہ ہو جاتا ہے۔اس نے کہا وہ کیا؟ مُضعَب "کہنے لگے، بڑی آہستہ سے جواب دیا کہ میں یہی کہ بت پرستی ترک کر کے مسلمان ہو جاؤ اور آنحضرت صلی علیکم پر ایمان لے آؤ۔وہ پکی مشرکہ تھی۔سنتے ہی شور مچادیا کہ مجھے ستاروں کی قسم ہے۔میں تمہارے دین میں کبھی داخل نہ ہوں گی اور اپنے رشتہ داروں کو اشارہ کیا کہ مصعب کو پکڑ کر قید کر لیں مگر وہ ہوشیار تھے جلدی سے بھاگ کر نکل گئے۔بیعت عقبہ ثانیہ کے تعلق میں لکھا ہے کہ آنحضرت سلیم کو مصعب سے انصار کی آمد کی اطلاع مل