اصحابِ بدرؓ (جلد چہارم)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 459 of 672

اصحابِ بدرؓ (جلد چہارم) — Page 459

ناب بدر جلد 4 459 منڈوس بنت عُبادہ حضرت سعد بن عبادہ کی بہن تھیں جنہوں نے رسول اللہ صلی یم کی بیعت کر کے اسلام قبول کیا تھا۔حضرت سعد بن عبادہ کی ایک اور بہن بھی تھیں جن کا نام لیلیٰ بنت عبادہ تھا۔انہوں نے بھی رسول اللہ صلی الی یوم کی بیعت کر کے اسلام قبول کیا تھا۔84 کنیت 1084 حضرت سعد بن عبادہ کی کنیت ابو ثابت تھی۔بعض نے ان کی کنیت ابو قیس بھی بیان کی ہے جبکہ پہلا قول درست اور صحیح لگتا ہے یعنی ابو ثابت۔تمام غزوات میں انصار کا جھنڈا ان کے پاس رہا حضرت سعد بن عبادہ انصار کے قبیلہ خزرج کی شاخ بنو ساعدہ کے نقیب تھے۔حضرت سعد بن عبادہ سر دار اور سخی تھے اور تمام غزوات میں انصار کا جھنڈا ان کے پاس رہا۔حضرت سعد بن عبادہ انصار میں صاحب وجاہت اور ریاست تھے۔ان کی سرداری کو ان کی قوم تسلیم کرتی تھی۔کاملین میں سے ایک اور سخاوت میں اپنی مثال آپ 1085 حضرت سعد بن عبادہ زمانہ جاہلیت میں عربی لکھنا جانتے تھے حالانکہ اس وقت کتابت کم لوگ جانتے تھے۔وہ تیرا کی اور تیر اندازی میں بھی مہارت رکھتے تھے اور ان چیزوں میں جو شخص مہارت رکھتا تھا اس کو کامل کہا جاتا تھا۔زمانہ جاہلیت میں حضرت سعد بن عبادہ اور ان سے قبل ان کے آباؤ اجداد اپنے قلعہ پر اعلان کروایا کرتے تھے کہ جس کو گوشت اور چربی پسند ہو تو وہ دلیم بن حَارِثہ کے قلعہ میں آجائے۔ھشام بن عروہ نے اپنے والد سے روایت کی ہے کہ میں نے سعد بن عبادہ کو اس وقت پایا جب وہ اپنے قلعہ پر آواز دیا کرتے تھے کہ جو شخص چربی یا گوشت پسند کرتا ہے وہ سعد بن عبادہ کے پاس آئے یعنی جانوروں کا گوشت ذبح کروا کے تقسیم کرتے تھے۔میں نے ان کے بیٹے کو بھی اسی حالت میں پایا کہ وہ بھی اسی طرح دعوت دیتا تھا۔کہتے ہیں کہ میں مدینہ کے راستے پر چل رہا تھا۔اس وقت میں جوان تھا۔حضرت عبد اللہ بن عمرؓ میرے ساتھ سے گزر رہے تھے ، ہشام بن عروہ نے اپنے والد سے روایت کی ہے۔کہتے ہیں اس وقت میں جوان تھا اور حضرت عبد اللہ بن عمرؓ میرے پاس سے گزرے جو عالیہ مقام جو مدینہ سے نجد کی طرف چار سے آٹھ میل کے درمیان واقع ایک وادی ہے ، وہاں اپنی زمین کی طرف جارہے تھے۔انہوں نے کہا کہ اے جوان ! ادھر آؤ۔عبد اللہ بن عمر نے ان کے والد کو بلایا۔انہوں نے کہا کہ اے جو ان ! دیکھو! آیا تمہیں سعد بن عبادہ کے قلعہ پر کوئی آواز دیتا ہوا دکھائی دے رہا ہے۔قلعہ قریب تھا۔میں نے دیکھا اور کہا نہیں۔انہوں نے کہا تم نے سچ کہا۔86 1086