اصحابِ بدرؓ (جلد چہارم)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 422 of 672

اصحابِ بدرؓ (جلد چہارم) — Page 422

اصحاب بدر جلد 4 422 جارہاتھا اور ہر دو جماعتیں ایک دوسرے کے سامنے ہو گئیں اور حالات ایسے بن گئے کہ نہ چاہتے ہوئے بھی مسلمانوں نے آخر اپنی مرضی کے خلاف یہی فیصلہ کیا اور آنحضرت صلی میں کمی کا حکم بھی یہی تھا لیکن حالات کی وجہ سے یہی فیصلہ کیا کہ قافلے پر حملہ کر کے یا تو قافلے والوں کو قید کر لیا جاوے یا مار دیا جائے۔چنانچہ انہوں نے اللہ کا نام لے کر حملہ کر دیا جس کے نتیجہ میں کفار کا ایک آدمی مارا گیا اور دو آدمی قید ہو گئے لیکن بد قسمتی سے چوتھا آدمی بھاگ کر نکل گیا اور مسلمان اسے پکڑ نہ سکے اور اس طرح ان کی یہ تجویز کامیاب ہوتے ہوتے رہ گئی۔بہر حال اس کے بعد مسلمانوں نے قافلے کے سامان پر قبضہ کر لیا اور قیدی اور سامانِ غنیمت لے کر جلد جلد مدینے کی طرف واپس لوٹ آئے لیکن آنحضرت صلی کام کو جب یہ علم ہوا کہ صحابہ نے قافلے پر حملہ کیا تھا تو آپ سخت ناراض ہوئے اور فرمایا مَا أَمَرْتُكُمْ بِقِتَالٍ فِي الشَّهْرِ الْحَرَامِ کہ میں نے تمہیں شہر حرام میں لڑنے کی اجازت نہیں دی تھی اور آپ نے مالِ غنیمت لینے سے انکار کر دیا۔دوسری طرف قریش نے بھی شور مچادیا کہ مسلمانوں نے شہر حرام کی حرمت کو توڑا ہے اور بڑا اس لیے بھی کہ جو آدمی مارا گیا تھا وہ عمرو بن حزر می تھا۔یہ ایک بہت بڑار میں تھا۔بہر حال اس دوران میں ان کے آدمی، کفار کے آدمی اپنے دو قیدیوں کو چھڑانے کے لیے مدینہ بھی پہنچ گئے لیکن چونکہ حضرت سعد بن ابی وقاص اور حضرت عتبہ بن غزوان واپس نہیں آئے تھے اور آنحضرت صلی الله علم ان کے متعلق سخت خدشے میں تھے، خدشہ تھا کہ اگر قریش کے ہاتھ وہ پڑ گئے تو قریش انہیں زندہ نہیں چھوڑیں گے اس لیے صلی اللی نیلم نے ان کی واپسی تک قیدیوں کو چھوڑنے سے انکار کر دیا اور فرمایا کہ میرے آدمی بخیریت مدینہ پہنچ جائیں گے تو پھر میں تمہارے آدمیوں کو چھوڑ دوں گا۔چنانچہ وہ دونوں واپس پہنچ گئے تو آپ نے دونوں قیدیوں کو چھوڑ دیا۔ان دو میں سے ایک شخص پر مدینہ کے قیام کا ایسا اثر ہوا کہ وہ مسلمان ہو گیا اور ما بئر معونہ کے موقع پر شہید ہوا۔997 جنگ بدر سے پہلے کے کچھ حالات غزوہ بدر کے موقعے پر جنگ سے پہلے کے حالات بیان کرتے ہوئے بھی حضرت مرزا بشیر احمد صاحب نے سیرت خاتم النبیین میں یہ لکھا ہے کہ آنحضرت صلی للہ یکم تیزی کے ساتھ بدر کی طرف بڑھنے شروع ہوئے اور جب آپ بدر کے قریب پہنچے تو کسی خیال کے ماتحت جس کا ذکر روایات میں نہیں ہے پ صلی علیکم حضرت ابو بکر صدیق کو اپنے پیچھے سوار کر کے اسلامی لشکر سے کچھ آگے نکل گئے۔اس وقت آپ کو رستے میں ایک بوڑھا بدوی ملا جس سے آپ کو باتوں باتوں میں یہ معلوم ہوا کہ اس وقت قریش کا لشکر بدر کے بالکل پاس پہنچا ہوا ہے۔آپ صلی علیہم یہ خبر سن کر واپس تشریف لے آئے اور حضرت علیؓ، حضرت زبیر بن عوام اور حضرت سعد بن ابی وقاص کو دریافت حال کے لیے آگے روانہ فرمایا۔جب یہ لوگ بدر کی وادی میں گئے تو اچانک کیا دیکھتے ہیں کہ مکہ کے چند لوگ ایک چشمہ سے پانی بھر رہے ہیں۔ان صحابیوں نے اس جماعت پر حملہ کر کے ان میں سے ایک حبشی غلام کو پکڑ لیا اور اسے آنحضرت صلی علیکم کے پاس لے آئے۔آپ نے نرمی سے اس سے دریافت فرمایا کہ لشکر اس وقت کہاں ہے ؟ اس نے جواب دیا اس سامنے والے ٹیلے کے پیچھے ہے۔آپ نے پوچھا کہ لشکر میں کتنے آدمی ہیں۔اس نے کہا