اصحابِ بدرؓ (جلد چہارم)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 373 of 672

اصحابِ بدرؓ (جلد چہارم) — Page 373

ناب بدر جلد 4 373 آئیں گی اس لیے آپ اس معاملہ میں اپنا ذاتی تعلق سمجھتے ہوئے بالکل غیر متعلق اور غیر جانبدارانہ رویہ رکھنا چاہتے تھے اور اپنی طرف سے اس بات کی پوری پوری کوشش کرنا چاہتے تھے کہ زید اور زینب کے تعلق کے قطع ہونے میں آپ کا کوئی دخل نہ ہو اور جب تک نبھاؤ کی صورت ممکن ہو نبھاؤ ہو تا رہے اور تعلق قائم رہے اور اسی خیال کے ماتحت آپ صلی علیہ ہم نے بڑے اصرار کے ساتھ زید کو یہ نصیحت فرمائی کہ تم طلاق نہ دو اور خدا کا تقویٰ اختیار کر کے جس طرح بھی ہو نبھاؤ کرو۔آپ صلی علیم کو یہ بھی اندیشہ تھا کہ اگر زید کی طلاق کے بعد زینب آپ صلی یہ کام کے عقد میں آئیں تو لوگوں میں اس کی وجہ سے اعتراض ہو گا کہ آپ صلی الی یکم نے اپنے متبنی کی مطلقہ سے شادی کر لی ہے اور خواہ نخواہ ابتلا کی صورت پید اہو گی۔چنانچہ قرآن شریف میں اللہ تعالی فرماتا ہے کہ وَتُخْفِی فِی نَفْسِكَ مَا اللَّهُ مُبْدِيْهِ وَ تَخْشَى النَّاسَ وَاللهُ اَحَقُّ اَنْ تَخْشه ( 1 حرب: 38) کہ اے نبی !تو اپنے دل میں چھپائے ہوئے تھا وہ بات جسے خدا نے آخر ظاہر کر دیا وَ تُخْفِي فِي نَفْسِكَ مَا الله۔۔۔جسے خدا نے آخر ظاہر کر دیا تھا۔اور تو لوگوں کی وجہ سے ڈرتا تھا اور یقیناً خدا اس بات کا بہت زیادہ حق دار ہے کہ اس سے ڈرا جائے۔بہر حال آنحضرت صلی الم نے زید کو تقوی اللہ کی نصیحت کر کے طلاق دینے سے منع فرمایا اور آپ کی اس نصیحت کے سامنے سر تسلیم خم کرتے ہوئے زید خاموش ہو کر واپس آگئے مگر اکھڑی ہوئی طبیعتوں کاملنا مشکل تھا۔دراڑیں پیدا ہو چکی تھیں۔اب بڑا مشکل تھا اور جو بات نہ بنی تھی نہ بنی اور کچھ عرصے کے بعد زید نے طلاق دے دی۔جب زینب کی عدت ختم ہو چکی تو ان کی شادی کے متعلق آنحضرت صلی للی کم پر پھر وحی نازل ہوئی کہ آپ صلی علیہ تم کو انہیں خود اپنے عقد میں لے لینا چاہیے اور اس خدائی حکم میں علاوہ اس حکمت کے کہ اس سے حضرت زینب کی دلداری ہو جائے گی اور مطلقہ عورت کے ساتھ شادی کرنا مسلمانوں میں عیب نہ سمجھا جائے گا۔یہ حکمت بھی مدِ نظر تھی کہ چونکہ حضرت زید آنحضرت صلی ایم کے متبنیٰ تھے اور آپ کے بیٹے کہلاتے تھے اس لیے جب آپ خود اس کی مطلقہ سے شادی فرمالیں گے تو اس بات کا مسلمانوں میں ایک عملی اثر ہو گا کہ منہ بولا بیٹا حقیقی بیٹا نہیں ہو تا اور نہ اس پر حقیقی بیٹوں والے احکام جاری ہوتے ہیں اور آئندہ کے لیے عرب کی جاہلانہ رسم مسلمانوں میں پورے طور پر مٹ جائے گی۔چنانچہ اس بارہ میں قرآن شریف نے جو تاریخ اسلامی کا سب سے زیادہ صحیح ریکارڈ ہے یوں فرماتا ہے کہ فَلَمَّا قَضَى زَيْدٌ مِنْهَا وَطَرًا زَوَجُنُكَهَا لِكَيْ لَا يَكُونَ عَلَى الْمُؤْمِنِينَ حَرَجٌ فِي أَزْوَاجِ أَدْعِيَا بِهِمْ إِذَا قَضَوا مِنْهُنَّ وَطَرًا وَ كَانَ أَمْرُ اللَّهِ مَفْعُولًا (1 حساب : 38) یعنی جب زید نے زینب سے قطع تعلق کر لیا تو ہم نے زینب کی شادی تیرے ساتھ کر دی تاکہ مومنوں کے لیے اپنے منہ بولے بیٹوں کی مطلقہ بیویوں کے ساتھ شادی کرنے میں کوئی روک نہ رہے بعد اس کے کہ وہ منہ بولے بیٹے اپنی بیویوں سے قطع تعلق کر لیں اور خدا کا یہ حکم اسی طرح پورا ہونا تھا۔الغرض اس خدائی وحی کے نازل ہونے کے بعد جس میں آنحضرت صلی للی کم کی اپنی خواہش اور خیال کا