اصحابِ بدرؓ (جلد چہارم) — Page 312
312 99 99 صحاب بدر جلد 4 نام و نسب و کنیت حضرت خُنيس بن حُذَافَه حضرت خُنيس بن حذافہ ان کی کنیت ابو حذافہ تھی۔حضرت خُنیس کی والدہ کا نام ضَعِيفه بنتِ حِذْیم تھا۔ان کا تعلق بنی سهم بن عمرو سے تھا۔انہوں نے رسول اللہ صلی الی یوم کے دار ارقم میں جانے سے پہلے اسلام قبول کیا تھا۔حضرت خُنیس حضرت عبد اللہ بن حذافہ کے بھائی تھے۔حبشہ اور مدینہ کی طرف ہجرت حضرت خنيس ان مسلمانوں میں شامل تھے جنہوں نے دوسری دفعہ حبشہ کی طرف ہجرت کی۔حضرت جنیس کا شمار اولین مہاجرین میں ہوتا ہے۔جب حضرت خنیس نے مدینہ ہجرت کی تو حضرت رفاعه بن عبد المنذر کے پاس رہے۔آنحضور صلی علیہم نے حضرت خُنَيْس اور ابو عبس بن جبر کے در میان عقد مؤاخات قائم کیا۔حضرت خُنیس غزوہ بدر میں شامل ہوئے۔ام المؤمنین حضرت حفصہ آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم سے قبل حضرت خنیس کے عقد میں تھیں۔ان کی شادی ہوئی تھی۔742 حضرت خنیس کی شہادت اور حضرت حفصہ کی دوسری شادی سیرت خاتم النبیین میں اس کی تفصیل میں لکھا ہے کہ : حضرت عمر بن خطاب کی ایک صاحبزادی تھیں جن کا نام حفصہ تھا۔وہ حُنَيْس بن حذافہ کے عقد میں تھیں جو ایک مخلص صحابی تھے اور جنگ بدر میں شریک ہوئے تھے۔بدر کے بعد مدینہ واپس آنے پر خنیس بیمار ہو گئے اور اس بیماری سے جانبر نہ ہو سکے اور ان کی وفات ہو گئی۔حضرت عمرؓ کو حضرت حفصہ کے نکاح ثانی کی بڑی فکر تھی۔اس وقت حضرت حفصہ کی عمر میں سال سے اوپر تھی۔حضرت عمر نے اپنی فطرتی سادگی میں خو د عثمان بن عفان سے مل کر ذکر کیا کہ میری لڑکی حفصہ بیوہ ہے۔آپ اگر پسند کریں تو اس کے ساتھ شادی کر لیں مگر حضرت عثمان نے ٹال دیا اس کے بعد حضرت عمرؓ نے حضرت ابو بکر سے شادی کا ذکر کیا کہ آپ اس سے شادی کر لیں لیکن حضرت ابو بکر نے بھی خاموشی اختیار کی۔کوئی جواب نہیں دیا۔اس پر حضرت عمرؓ کو بہت ملال ہوا، رنج ہوا۔انہوں نے اسی دکھ کی حالت میں آنحضرت صلی علیم کی خدمت میں حاضر ہو کر آپ سے یہ ساری سرگذشت بیان کی، عرض کی۔آنحضرت صلی الی ایم نے فرمایا کہ عمر اکچھ فکر نہ کرو۔خدا کو منظور ہوا تو حفصہ کو عثمان اور ابو بکر کی نسبت بہتر خاوند مل جائے گا اور عثمان کو حفصہ کی نسبت بہتر بیوی ملے گی۔یہ