اصحابِ بدرؓ (جلد چہارم) — Page 286
اصحاب بدر جلد 4 پید اہوئی تھی۔286 حضرت ابو بکر صدیق کی وفات کے بعد حضرت حبیب نے ان کی بیوہ یعنی حضرت ابو بکر کی بیوہ حبيبه بنتِ خارجہ سے شادی کی تھی۔677 مسلمان نہ ہونے کے باوجود مہاجرین کی میزبانی حضرت حبیب بے شک ہجرت مدینہ کے وقت مسلمان نہ تھے لیکن پھر بھی انہیں ہجرت مدینہ کے وقت مہاجرین کی میزبانی کا شرف حاصل ہو ا تھا۔مسلمان نہیں تھے لیکن انہوں نے بڑی میز بانی کی، مہمان نوازی کی۔حضرت طلحہ بن عبد اللہ اور حضرت صہیب بن سنان ان کے گھر ٹھہرے۔البتہ ایک دوسرے قول کے مطابق حضرت طلحہ ، حضرت اسعد بن زرارہ کے گھر ٹھہرے تھے۔678 اسی طرح حضرت ابو بکر صدیق نے جب مدینہ کی طرف ہجرت کی تو ایک روایت کے مطابق انہوں نے حضرت خبیب کے ہاں قبا میں سُنح کے مقام پر قیام کیا تھا۔یہ سُنح ایک جگہ کا نام ہے جو مدینے کے اطراف بلند دیہات میں ہے۔جہاں بنی حارث بن خزرج کے لوگ رہا کرتے تھے اس کو کہتے ہیں۔جبکہ دوسری روایت کے مطابق حضرت ابو بکر حضرت خَارِجہ بن زید کے گھر ٹھہرے تھے۔679 قبول اسلام ایک روایت کے مطابق حبیب کا مدینے میں پڑاؤ تھا لیکن اس کے باوجود انہوں نے اسلام قبول نہیں کیا تھا یہاں تک کہ نبی کریم صلی اللہ علم غزوہ بدر کے لیے روانہ ہو گئے۔تب یہ راستے میں نبی کریم صلی الی یکم 680 الله سے جاملے اور اسلام قبول کیا۔صحیح مسلم میں حضرت حبیب کے اسلام قبول کرنے کا ذکر یوں ملتا ہے کہ نبی کریم صلی یہ کام کی زوجہ مطہرہ ام المؤمنین حضرت عائشہ سے یہ روایت ہے۔وہ فرماتی ہیں کہ رسول اللہ صلی لیلی کیم بدر کی طرف نکلے۔جب آپ حرِّةُ الوبرة جو مدینے سے تین میل کے فاصلے پر ایک مقام ہے وہاں پہنچے تو آپ کو ایک شخص ملا جس کی جرات اور بہادری کا ذکر کیا جاتا تھا۔رسول اللہ صلی العلم کے صحابہ نے جب اسے دیکھا تو بہت خوش ہوئے۔جب وہ آپ سے ملا تو اس نے رسول اللہ صلی تعلیم کی خدمت میں عرض کیا کہ میں آپ کے ساتھ جانے اور آپ کے ساتھ مالِ غنیمت میں حصہ پانے کے لیے آیا ہوں۔رسول اللہ صلی علیم نے اسے فرمایا۔تم اللہ اور اس کے رسول پر ایمان لاتے ہو ؟ اس نے کہا نہیں۔میں ایمان نہیں لاتا۔مسلمان نہیں ہوں۔آپ صلی علیہ ہم نے اس پر فرمایا کہ واپس چلے جاؤ کیونکہ میں کسی مشرک سے مدد نہیں لوں گا۔وہ فرماتی ہیں کہ وہ چلا گیا یہاں تک کہ پھر جب آپ شجرہ پہنچے جو ذوالحلیفہ ، یہ مدینہ سے چھ سات میل کے فاصلے پر مقام ہے اور شجرۃ اس کے پاس ہی ایک مقام ہے۔بہر حال وہاں جب پہنچے تو وہ شخص پھر آپ کو ملا اور پھر ویسا ہی کہا جیسا پہلی مرتبہ کہا تھا۔نبی کریم صلی ال کلم نے اسے ویسے ہی فرمایا جیسے پہلے فرمایا تھا۔