اصحابِ بدرؓ (جلد چہارم)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 278 of 672

اصحابِ بدرؓ (جلد چہارم) — Page 278

ب بدر جلد 4 278 تم محمد کا انکار نہ کرو۔اس بات کا اعلان نہ کرو کہ میں آنحضرت صلی لیلی کیم کی بیعت سے باہر آتا ہوں۔جب تک تم محمد کا انکار نہ کرو گے میں ادا نہیں کروں گا تو حضرت خباب کہتے ہیں کہ میں نے اس سے کہا کہ میں آپ صلی یم کا ہر گز انکار نہیں کروں گا یہاں تک کہ تو مرے اور پھر زندہ کیا جائے یعنی ناممکن ہے کہ میں انکار کروں۔آگے سے اس نے بھی اس طرح کا جواب دیا کہ جب میں مرنے کے بعد زندہ کیا جاؤں گا اور اپنے مال اور اولاد کے پاس آؤں گا تو اس وقت تیر ا قرض ادا کر دوں گا۔اس نے بھی کہہ دیا میں نے تو نہیں دینا۔حضرت خباب کہتے ہیں کہ اسی کے بارے میں یہ آیات نازل ہوئیں کہ : أَفَرَوَيْتَ الَّذِي كَفَرَ بِأَيْتِنَا وَ قَالَ لأوتَيَنَ مَالًا وَ وَلَدًا أَطلَعَ الْغَيْبَ أَمِ اتَّخَذَ عِنْدَ الرَّحْمَنِ عَهْدَ اللا سَنَكْتُبُ مَا يَقُولُ وَنَمُلُ لَهُ مِنَ الْعَذَابِ مَنَّا وَنَرِثُهُ مَا يَقُولُ وَيَأْتِينَا فَرْدًا ( م :8178) | (مریم: تا کیا تو نے اس شخص کی حالت پر غور نہیں کیا جس نے ہمارے نشانوں کا انکار کیا اور کہا کہ مجھے یقیناً بہت سا مال اور بہت سے بیٹے دیے جائیں گے۔کیا اس نے غیب کا حال معلوم کر لیا ہے یا خدائے رحمان سے کوئی وعدہ لے لیا ہے۔ایسا ہر گز نہیں ہو گا ہم اس کے اس قول کو محفوظ رکھیں گے اور اس کے عذاب کو لمبا کر دیں گے اور جس چیز پر وہ فخر کر رہا ہے اس کے ہم وارث ہو جائیں گے اور وہ ہمارے پاس اکیلا ہی آئے گا۔سر پر گرم لوہار کھ دینا اور خدائے قادر و غیور کا بدلہ حضرت خباب لوہار تھے اور تلواریں بنایا کرتے تھے۔رسول اللہ صلی العلم ان سے بہت الفت رکھتے تھے اور ان کے پاس تشریف لے جایا کرتے تھے۔ان کی مالکہ کو اس کی خبر ملی کہ آنحضرت صلی الیکم حضرت خباب کے پاس آتے ہیں تو وہ گرم گرم لوہا حضرت خباب کے سر پر رکھنے لگی۔لوہے کا کام تھا۔لوہے کو بھٹی میں ڈالتے تھے تو وہ گرم لوہا ان کے سر پر رکھنے لگی۔حضرت خباب نے رسول اللہ صلی للی نام سے اس کی شکایت کی تو آپ نے فرمایا: الله حباب کی مدد کر۔آپ نے دعا کی۔پس نتیجہ یہ ہوا کہ ایک روایت میں ہے کہ ان کی مالکہ ام انمار جو تھی اس کے سر میں کوئی بیماری پید اہو گئی اور وہ کتوں کی طرح آوازمیں نکالتی تھی۔اس سے کہا گیا کہ تو داغ لگوالے۔یعنی اپنے سر پہ گرم لوہا لگوا۔چنانچہ حضرت خباب گرم لوہے سے اس کے سر کو داغتے تھے۔مجبور ہوئی تو پھر وہ حضرت حباب کے ذریعے سے اپنے سر پہ گرم لو با لگواتی تھی۔658 657 نا حضرت عمر کی نظر میں ان کا مقام اور خباب کا اپنے زخم دکھانا۔۔۔۔رض ابولیلی کینڈی سے مروی ہے ، وہ کہتے ہیں کہ حضرت خباب حضرت عمرؓ کے پاس آئے۔حضرت عمرؓ نے ان کو کہا کہ قریب آجاؤ کیونکہ سوائے عمار بن یاسر کے اس مجلس کا تم سے زیادہ مستحق کوئی نہیں۔حضرت خباب اپنی پیٹھ کے وہ نشانات دکھانے لگے جو مشرکین کے تکلیف دینے سے پڑ گئے تھے۔طبقات الکبریٰ کی یہ روایت ہے۔659