اصحابِ بدرؓ (جلد چہارم)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 262 of 672

اصحابِ بدرؓ (جلد چہارم) — Page 262

بدر جلد 4 262 و تشنیع سے گذر کر نوبت یہاں تک پہنچ گئی کہ اسی مجلس میں مسلمانوں کے اندر تلوار کھی گئی مگر خیر گذری کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو بروقت اس کی اطلاع مل گئی اور آپ مہاجرین کی ایک جماعت کے ساتھ فوراً موقعہ پر تشریف لے آئے اور فریقین کو سمجھا بجھا کر ٹھنڈا کیا اور پھر ملامت بھی فرمائی کہ تم میرے ہوتے ہوئے جاہلیت کا طریق اختیار کرتے ہو اور خدا کی اس نعمت کی قدر نہیں کرتے کہ اُس نے اسلام کے ذریعہ تمہیں بھائی بھائی بنا دیا ہے۔انصار پر آپ کی اس نصیحت کا ایسا اثر ہوا کہ ان کی آنکھوں سے آنسو جاری ہو گئے اور وہ اپنی اس حرکت سے تائب ہو کر ایک دوسرے سے بغلگیر ہو گئے۔جب جنگ بدر ہو چکی اور اللہ تعالیٰ نے اپنے فضل سے مسلمانوں کو باوجود ان کی قلت اور بے سرو سامانی کے قریش کے ایک بڑے جزار لشکر پر نمایاں فتح دی اور مکہ کے بڑے بڑے عمائد خاک میں مل گئے تو مدینہ کے یہودیوں کی آتش حسد بھڑک اٹھی اور انھوں نے مسلمانوں کے ساتھ کھلم کھلا نوک جھونک شروع کر دی اور مجلسوں میں بر ملا طور پر کہنا شروع کیا کہ قریش کے لشکر کو شکست دینا کونسی بڑی بات تھی ہمارے ساتھ محمد (صلی اللہ علیہ وسلم) کا مقابلہ ہو تو ہم بتا دیں کہ کس طرح لڑا کرتے ہیں۔حتی کہ ایک مجلس میں انھوں نے خود آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے منہ پر اسی قسم کے الفاظ کہے۔چنانچہ روایت آتی ہے کہ جنگ بدر کے بعد جب آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ تشریف لائے تو آپ نے ایک دن یہودیوں کو جمع کر کے ان کو نصیحت فرمائی اور اپنا دعویٰ پیش کر کے اسلام کی طرف دعوت دی۔آپ کی اس پر امن اور ہمدردانہ تقریر کار و سائے یہود نے ان الفاظ میں جواب دیا کہ ”اے محمد (صلی اللہ علیہ وسلم) تم شاید چند قریش کو قتل کر کے مغرور ہو گئے ہو۔وہ لوگ لڑائی کے فن سے ناواقف تھے۔اگر ہمارے ساتھ تمہارا مقابلہ ہو تو تمہیں پتہ لگ جاوے کہ لڑنے والے ایسے ہوتے ہیں۔یہود نے صرف عام دھمکی پر ہی اکتفاء نہیں کی بلکہ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ انھوں نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے قتل کے منصوبے بھی شروع کر دیئے تھے۔کیونکہ روایت آتی ہے کہ جب ان دنوں میں طلحہ بن براء جو ایک مخلص صحابی تھے فوت ہونے لگے تو انہوں نے وصیت کی کہ اگر میں رات کو مروں تو نماز جنازہ کے لیے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو اطلاع نہ دی جاوے تا کہ ایسانہ ہو کہ میری وجہ سے آپ پر یہود کی طرف سے کوئی حادثہ گذر جاوے۔الغرض جنگ بدر کے بعد یہود نے کھلم کھلا شرارت شروع کر دی اور چونکہ مدینہ کے یہود میں بنو قینقاع سب میں زیادہ طاقتور اور بہادر تھے اس لیے سب سے پہلے انہی کی طرف سے عہد شکنی شروع ہوئی۔چنانچہ مورخین لکھتے ہیں کہ مدینہ کے یہودیوں میں سے سب سے پہلے بنو قینقاع نے اس معاہدہ کو توڑا جو اُن کے اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے درمیان ہوا تھا اور بدر کے بعد انھوں نے بہت سرکشی شروع کر دی اور بر ملا طور پر بغض وحسد کا اظہار کیا اور عہد و پیمان کو توڑ دیا۔۔۔