اصحابِ بدرؓ (جلد چہارم)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 259 of 672

اصحابِ بدرؓ (جلد چہارم) — Page 259

ناب بدر جلد 4 259 تھا کچھ ایسامر عوب ہوا کہ الٹے پاؤں بھاگ گیا اور جب لوگوں نے اسے روکا تو کہنے لگا۔” مجھے جو کچھ نظر آرہا ہے وہ تم نہیں دیکھتے۔“ حکیم بن حزام نے عمیر کی رائے سنی تو گھبرایا ہو اعتبہ بن ربیعہ کے پاس آیا تو اور کہنے لگا۔"اے عشبہ اتم محمد صلی اللہ علیہ وسلم سے آخر عمر و حضرمی کا بدلہ ہی چاہتے ہو۔وہ تمہارا حلیف تھا۔کیا ایسا نہیں ہو سکتا کہ تم اس کی طرف سے خون بہا ادا کر دو اور قریش کو لے کر واپس لوٹ جاؤ۔اس میں ہمیشہ کے لئے تمہاری نیک نامی رہے گی۔مشبہ کو جو خود گھبرایا ہوا تھا اور کیا چاہئے تھا جھوٹ بولا ”ہاں ہاں میں راضی ہوں اور پھر حکیم !دیکھو تو یہ مسلمان اور ہم آخر آپس میں رشتہ دار ہی تو ہیں۔کیا یہ اچھا لگتا ہے کہ بھائی بھائی پر تلوار اٹھائے اور باپ بیٹے پر۔تم ایسا کرو کہ ابھی ابوالحکم (یعنی ابو جہل) کے پاس جاؤ اور اس کے سامنے یہ تجویز پیش کرو“ اور ادھر عشبہ نے خود اونٹ پر سوار ہو کر اپنی طرف سے لوگوں کو سمجھانا شروع کر دیا کہ "رشتہ داروں میں لڑائی ٹھیک نہیں ہے۔ہمیں واپس لوٹ جانا چاہئے اور محمد کو اُس کے حال پر چھوڑ دینا چاہئے کہ وہ دوسرے قبائل عرب کے ساتھ نپتا رہے۔جو نتیجہ ہو گا دیکھا جائے گا۔اور پھر تم دیکھو کہ ان مسلمانوں کے ساتھ لڑنا بھی کوئی آسان کام نہیں ہے۔کیونکہ خواہ تم مجھے بزدل کہو حالانکہ میں بزدل نہیں ہوں۔۔۔مجھے تو یہ لوگ موت کے خریدار نظر آتے ہیں۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے دُور سے عشبہ کو دیکھا تو فرمایا۔”اگر لشکر کفار میں سے کسی میں شرافت ہے تو اس سرخ اونٹ کے سوار میں ضرور ہے۔اگر یہ لوگ اس کی بات مان لیں تو ان کے لیے اچھا ہو۔لیکن جب حکیم بن حزام ابو جہل کے پاس آیا اور اس سے یہ تجویز بیان کی تو وہ فرعونِ امت بھلا ایسی باتوں میں کب آنے والا تھا چھٹتے ہی بولا۔اچھا اچھا اب غلبہ کو اپنے سامنے اپنے رشتہ دار نظر آنے لگے ہیں۔اور پھر اس نے عمر و حضرمی کے بھائی عامر حضر می کو بلا کر کہا تم نے سنا تمہارا حلیف عشبہ کیا کہتا ہے اور وہ بھی اس وقت جبکہ تمہارے بھائی کا بدلہ گو یا ہاتھ میں آیا ہوا ہے۔عامر کی آنکھوں میں خون اتر آیا اور اس نے عرب کے قدیم دستور کے مطابق اپنے کپڑے پھاڑ کر اور ننگا ہو کر چلانا شروع کیا۔ہائے افسوس !امیر ابھائی بغیر انتقام کے رہا جاتا ہے۔ہائے افسوس ! امیر ابھائی بغیر انتظام کے رہا جاتا ہے !! اس صحرائی آواز نے لشکر قریش کے سینوں میں عداوت کے شعلے بلند کر دیئے اور جنگ کی بھٹی اپنے پورے زور سے دہکنے لگ گئی۔“ ابو جہل کے طعنے نے عشبہ کے تن بدن میں آگ لگادی تھی۔اس غصہ میں بھر اہو اوہ اپنے بھائی شیبہ اور اپنے لڑ کے ولید کو ساتھ لے کر لشکر کفار سے آگے بڑھا اور عرب کے قدیم دستور کے مطابق انفرادی لڑائی کے لیے مبارز طلبی کی۔چند انصار ان کے مقابلہ کے لیے آگے بڑھنے لگے مگر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو روک دیا اور فرمایا۔حمزہ تم اُٹھو۔علی تم اُٹھو۔عبیدہ تم اٹھو! یہ تینوں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے نہایت قریبی رشتہ دار تھے اور آپ چاہتے تھے کہ خطرہ کی جگہ پر سب سے پہلے آپ کے عزیز واقارب آگے بڑھیں۔دوسری طرف عشبہ وغیرہ نے بھی انصار کو دیکھ کر آواز دی کہ ان لوگوں کو ہم کیا جانتے ہیں۔ہماری ٹکر کے ہمارے سامنے آئیں۔چنانچہ حمزہ اور علی اور عبیدہ آگے بڑھے۔