اصحابِ بدرؓ (جلد چہارم) — Page 251
اصحاب بدر جلد 4 251 طرف ضرور جاؤں گا شاید میں اسے قتل کروں اور اس طرح حضرت حمزہ کے گناہ کا کفارہ ادا کروں۔کہتے ہیں کہ میں بھی لوگوں کے ساتھ جنگ میں نکلا۔پھر جنگ کا حال جو ہو اوہ ہوا۔میں نے دیکھا کہ ایک دیوار کے ایک شگاف میں کھڑا ہے۔ایسے معلوم ہوتا تھا کہ جیسے گندمی رنگ کا اونٹ ہے۔سر کے بال پراگندہ ہیں۔تو کہتے ہیں کہ میں نے اس کو اپنا بر چھامارا اور اس کی چھاتیوں کے درمیان رکھ کر زور سے جو دبایا تو دونوں کندھوں کے درمیان سے پار نکل گیا۔اس کے بعد ایک انصاری نے بھی اس کی گردن کاٹ دی۔تو بعد میں یہ انجام اس کا ہوا۔دو تلواروں سے لڑنے والا شیر خدا 598 عمیر بن اسحاق سے اس طرح مروی ہے کہ اُحد کے روز حمزہ بن عبد المطلب رسول اللہ صلی ایم کے آگے دو تلواروں سے جنگ کر رہے تھے اور کہہ رہے تھے کہ میں اسد اللہ ہوں۔یہ کہتے ہوئے کبھی آگے جاتے اور کبھی پیچھے ہٹتے۔وہ اسی حالت میں تھے کہ یکا یک پھسل کر اپنی پیٹھ کے بل گرے۔انہیں وحشی اسود نے دیکھ لیا۔ابو اسامہ نے کہا کہ اس نے انہیں نیزہ کھینچ کر مارا اور قتل کر دیا۔599 اور حضرت حمزہ ہجرت نبوی کے بعد بنتیسویں مہینہ میں جنگ اُحد میں شہید ہوئے۔آپ کی عمر اس وقت انسٹھ سال تھی۔100 حضرت حمزہ کی نعش کی بے حر متی۔۔۔601 روایت یہ ہے کہ ابوسفیان کی بیوی ہند غزوہ اُحد کے دن لشکروں کے ہمراہ آئی۔اس نے اپنے باپ کا انتقام لینے کے لئے جو بدر میں حضرت حمزہ کے ساتھ مقابلہ کرتے ہوئے مارا گیا تھا یہ نذرمان رکھی تھی کہ مجھے موقع ملا تو میں حمزہ کا کلیجہ چباؤں گی۔جب یہ صورتحال ہو گئی اور حضرت حمزہ پر مصیبت آگئی تو مشرکین نے مقتولین کو مثلہ کر دیا۔ان کی شکلیں بگاڑ دیں ناک کان وغیرہ عضو کاٹے۔وہ حمزہ کے جگر کا ایک ٹکڑ الائے۔ہند اسے لے کر چباتی رہی کہ کھا جائے مگر جب وہ اس کو نگل نہ سکی تو پھینک دیا۔یہ واقعہ رسول اللہ صلی یکم کو معلوم ہوا تو آپ صلی علیم نے فرمایا کہ اللہ نے آگ پر ہمیشہ کے لئے حرام کر دیا ہے کہ حمزہ کے گوشت میں سے کچھ بھی چکھے۔آنحضرت صلی الی یکم نے حضرت حمزہ کی نعش کے پاس آکر جن جذبات کا اظہار کیا اور آپ کو بلند مقام کی جو خوشخبری دی اس کے بارہ میں روایت ہے کہ رسول کریم ملی تعلیم نے جب حضرت حمزہ کی نعش کو دیکھا تو ان کا کلیجہ نکال کر چبایا گیا تھا۔ابن ہشام کہتے ہیں تاریخ میں یہ لکھا ہے کہ رسول اللہ صلی علیم نے اس حال میں جب حضرت حمزہ کی نعش پر آکر کھڑے ہوئے تو فرمانے لگے کہ اے حمزہ تیری اس مصیبت جیسی کوئی مصیبت مجھے کبھی نہیں پہنچے گی۔میں نے اس سے زیادہ تکلیف دہ منظر آج تک نہیں دیکھا۔پھر آپ نے فرمایا جبریل نے آکر مجھے خبر دی ہے کہ حمزہ بن عبد المطلب کو سات آسمانوں میں اللہ اور اس کے رسول کا شیر لکھا گیا ہے۔602