اصحابِ بدرؓ (جلد چہارم) — Page 250
اصحاب بدر جلد 4 250 کرتا تھا۔چنانچہ ہم نے اس کا پتہ دریافت کیا۔ہم سے کہا گیا کہ وہ اپنے محل کے سائے میں بیٹھا ہے جیسے بڑی مشک ہو۔جعفر کہتے ہیں کہ ہم اس کے پاس جا کر تھوڑی دیر کھڑے رہے۔ہم نے السلام علیکم کہا۔اس نے سلام کا جواب دیا۔کہتے تھے : عبید اللہ اس وقت پگڑی اور سر اور منہ لیٹے ہوئے تھے۔وحشی صرف ان کی آنکھیں اور پاؤں ہی دیکھ سکتا تھا۔عبید اللہ نے کہا وحشی کیا مجھے پہچانتے ہو ؟ کہتے تھے کہ اس نے غور سے انہیں دیکھا تو اس نے کہا اللہ کی قسم نہیں۔سوائے اس کے کہ میں اتنا جانتا ہوں کہ عدی بن خیار نے ایک عورت سے شادی کی تھی جسے اتم قتال بنت ابی العیص کہتے تھے۔مکہ میں عدی کے لئے اس کے ہاں بچہ پید ا ہوا۔اور میں اسے دودھ پلو یا کرتا تھا اور بچے کو اٹھا کر اس کی ماں کے ساتھ لے جاتا تھا اور وہ بچہ اس کی ماں کو دے دیتا تھا۔میں نے تمہارا پاؤں دیکھا ہے اس سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ وہی ہے۔یعنی اس نے پاؤں سے پہچان لیا۔یہ سن کر عبید اللہ نے اپنا منہ کھول دیا۔حضرت حمزہ کی شہادت کا قصہ، شہید کرنے والے کی زبانی تو پھر انہوں نے کہا کہ حضرت حمزہ کے قتل کا واقعہ ہمیں بتاؤ۔اس نے کہا کہ حضرت حمزہ نے طعیمہ بن عدی بن خیار کو بدر میں قتل کیا تھا۔میرے آقا جبیر بن مطعم نے مجھ سے کہا کہ اگر تم میرے چچا کے بدلہ میں حمزہ کو قتل کرو تو تم آزاد ہو۔اس نے کہا جب لوگوں نے دیکھا کہ جنگ اُحد ہونے والی ہے اور عینین اُحد کی پہاڑیوں میں سے ایک پہاڑی ہے۔اُحد کے اور اس کے درمیان ایک وادی ہے۔میں بھی لوگوں کے ساتھ لڑنے کے لئے نکلا۔جب لوگ لڑنے کے لئے صف آراء ہوئے تو سباع میدان میں نکلا اور اس نے پکارا کہ کیا کوئی مقابلہ کرنے کے لئے میدان میں نکلے گا۔یہ سن کر حضرت حمزہ بن عبد المطلب اس کے مقابل نکلے اور کہنے لگے اے سباع ! کیا تم اللہ اور اس کے رسول صلی میں کم سے مقابلہ کرتے ہو۔یہ کہہ کر حضرت حمزہ نے اس پر حملہ کیا اور وہ ایسا ہو گیا جیسے کل کا گزرا ہو ادن۔یعنی فوراً ہی اس کو زیر کر لیا اور ختم کر دیا۔وحشی کہتا ہے کہ میں ایک چٹان کے نیچے حضرت حمزہ کے لئے گھات میں بیٹھ گیا جب وہ میرے قریب پہنچے تو میں نے اپنابر چھا مارا اور اس کو ان کے زیر ناف رکھ کر جو زور سے دبایا تو آر پار نکل گیا اور یہی ان کی آخری گھڑی تھی۔تو آرپار وحشی کا قبول اسلام اور۔۔۔۔۔۔جب لوگ لوٹے تو میں بھی ان کے ساتھ لوٹا اور مکہ میں ٹھہرا رہا یہاں تک کہ جب اس میں اسلام پھیلا تو میں وہاں سے نکل کر طائف چلا گیا۔لوگوں نے رسول اللہ صلی علیکم کی طرف اینچی بھیجے اور مجھ سے کہا گیا کہ آپ ایلچیوں سے تعارض نہیں کرتے۔انہیں یعنی ایلچیوں کو کچھ نہیں کہتے۔میں بھی ان کے ساتھ گیا۔جب رسول اللہ صلی علیم کے پاس پہنچا تو آپ نے مجھے دیکھ کر فرمایا کہ تم ہی وحشی ہو۔میں نے کہا جی ہاں۔آپ نے فرمایا۔تم نے حمزہ کو قتل کیا تھا؟ میں نے کہا ٹھیک بات ہے جو آپ کو پہنچی ہے۔آپ نے فرمایا تم سے ہو سکے تو میرے سامنے نہ آیا کرو۔وہ کہتے ہیں یہ سن کر میں وہاں سے نکل گیا۔جب رسول اللہ صلی الم فوت ہوئے اور مسیلمہ کذاب نے بغاوت کی تو میں نے کہا میں مسیلمہ کی