اصحابِ بدرؓ (جلد چہارم)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 10 of 672

اصحابِ بدرؓ (جلد چہارم) — Page 10

اصحاب بدر جلد 4 10 کا معاملہ جیسے آپ ارشاد فرمائیں گے ویسا ہی ہو گا۔(ابو الْهَیم اس موقع پر آنحضرت صلی علم کی خدمت میں عرض کرتے ہیں کہ) اس موقع پر میں آپ کی خدمت میں ایک گزارش کرنا چاہتا ہوں کہ اے اللہ کے رسول ! اب ہمارا تعلق آپ سے قائم ہو رہا ہے جب اللہ تعالیٰ آپ کی نصرت فرمائے اور آپ کی قوم پر آپ کو غلبہ نصیب ہو تو اس وقت آپ ہمیں چھوڑ کر واپس اپنی قوم میں نہ چلے جائیں اور ہمیں داغ مفارقت نہ دیں۔آنحضرت ملا ل لم یہ سن کر مسکرائے اور فرمایا اب تمہارا خون میر اخون ہو چکا ہے۔اب میں تم میں سے ہوں اور تم مجھ میں سے ہو۔جو تم سے جنگ کرے گا وہ مجھ سے جنگ کرے گا اور جو تم سے صلح کرے گا وہ مجھ سے صلح کرے گا۔31 مواخات رسول اللہ صلی الم نے ہجرت مکہ کے بعد حضرت عثمان بن مظعون اور حضرت ابو الْهَيْئَمُ انصاری کے درمیان مواخات قائم فرمائی۔32 نبی اکرم صلی الم کی ضیافت حضرت جابر بن عبد اللہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ملی ایل میں ایک انصاری شخص کے پاس گئے اور آپ کے ساتھ آپ کے ایک ساتھی بھی تھے۔نبی کریم صلی علی ایم نے ان سے فرمایا کہ اگر تمہارے پاس پانی ہو یا آج رات مشک میں رہا ہو تو پلاؤ ورنہ ہم یہیں ہے منہ لگا کر پانی پی لیں گے۔وہاں پانی بہہ رہا تھا۔وہ شخص اپنے باغ میں پانی لگا رہا تھا۔اس شخص نے کہا یا رسول اللہ ! میرے پاس رات کا پانی ہے آپ جھونپڑی کی طرف چلئے۔وہ شخص یعنی حضرت ابو الْهَيْنم آپ اور آپ کے ساتھی دونوں کو لے گیا اور ایک پیالے میں پانی ڈالا۔پھر اس پر گھر کی بکری کا دودھ دھویا۔رسول اللہ صلی یکم نے یہ مشروب پیا پھر اس شخص نے بھی پیا جو آپ کے ساتھ تھا۔یہ بخاری کی روایت ہے۔33 اسی طرح ایک روایت ہے حضرت جابر بن عبد اللہ بیان کرتے ہیں کہ حضرت ابو الْهَيْقم بن الیمان نے نبی کریم صلی علیکم کے لئے کھانا تیار کیا اور نبی کریم صل علی کی اور آپ کے اصحاب کو دعوت دی۔جب سب کھانا کھا چکے تو آپ صلی علیہم نے صحابہ سے فرمایا۔اپنے بھائی کو بدلہ بھی دو۔صحابہ نے کہا یار سول اللہ ! ہم اس کا کیا بدلہ دیں ؟ آپ صلی یکم نے فرمایا جب کوئی شخص کسی کے گھر میں جا کر کھانا کھائے اور پانی بیٹے تو اس کے لئے دعا کرے۔یہ اس کے لئے اس کھانے کا بدلہ ہے۔34 یہ ہیں اعلیٰ اخلاق جو ہر مسلمان کے لئے ضروری ہیں۔حضرت ابو ہریرۃ بیان کرتے ہیں کہ نبی کر یم ملی ایک ایسے وقت میں گھر سے باہر نکلے جب عام طور پر کوئی باہر نہیں نکلتا اور نہ کوئی کسی سے ملتا ہے۔پھر آپ صلی علیہ کرم کے پاس حضرت ابو بکر آئے۔آپ صلی علیہم نے دریافت فرمایا کہ اے ابو بکر تجھے کیا چیز لے آئی ؟ ( یعنی گھر سے باہر آئے ) تو انہوں نے عرض کیا کہ میں رسول اللہ صلی الی و کم سے ملاقات کے لئے