اصحابِ بدرؓ (جلد چہارم)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 223 of 672

اصحابِ بدرؓ (جلد چہارم) — Page 223

تاب بدر جلد 4 223 مبارک خاتون ہیں جن کے بطن سے آنحضرت صلی علیم کے صاحبزادے حضرت ابراہیم پیدا ہوئے جو زمانہ نبوت کی گو یاواحد اولاد تھی۔یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ یہ دونوں لڑکیاں مدینہ پہنچنے سے پہلے ہی حاطب بن ابی بلتعہ کی تبلیغ سے مسلمان ہو گئی تھیں۔جو خچر اس موقع پر آنحضرت صلی اللہ ہی کو تحفہ میں آئی تھی وہ سفید رنگ کی تھی۔آنحضرت صلی الیم اس پر اکثر سواری فرمایا کرتے تھے اور غزوہ حنین میں بھی یہی خچر آپ کسی لی کر کے نیچے تھی۔535 جو خط مقوقس کو لکھا گیا تھا اس کے بارے میں حضرت مصلح موعودؓ نے یہ بات زائد بیان فرمائی ہے کہ : " یہ خط بعینہ وہی ہے " اسی طرح کا خط ہے۔وہی الفاظ ہیں " جو روم کے بادشاہ کو لکھا گیا تھا۔صرف یہ فرق ہے کہ اس میں یہ لکھا تھا کہ اگر تم نہ مانے تو رومی رعایا کے گناہوں کا بوجھ بھی تم پر ہو گا اور اس میں یہ تھا کہ قبطیوں کے گناہوں کا بوجھ تم پر ہو گا۔جب حاطب رضی اللہ عنہ مصر پہنچے تو اس وقت مقوقس اپنے دارالحکومت میں نہیں تھا بلکہ اسکندریہ میں تھا۔حاطب اسکندریہ گئے جہاں بادشاہ نے سمندر کے کنارے ایک مجلس لگائی ہوئی تھی۔حاطب بھی ایک کشتی میں " ہو سکتا ہے وہ وہاں کہیں جزیرہ ہو " سوار ہو کر اس مقام تک گئے اور چونکہ ارد گرد پہرہ تھا انہوں نے دور سے خط کو بلند کر کے آوازیں دینی شروع کیں۔بادشاہ نے حکم دیا کہ اس شخص کو لایا جائے اور اس کی خدمت میں پیش کیا جائے۔" پھر آپ نے یہ بھی لکھا کہ حاطب نے مقوقس کو یہ بھی کہا کہ خدا کی قسم موسیٰ نے عیسی کے متعلق ایسی خبریں نہیں دیں جیسی کہ عیسی نے محمد صلی اللہ علم کے متعلق دی ہیں اور ہم تمہیں اسی طرح محمد رسول اللہ صلی علیم کی طرف بلاتے ہیں جس طرح تم لوگ یہودیوں کو عیسی کی طرف بلاتے ہو۔" پھر کہنے لگے کہ " ہر نبی کی ایک امت ہوتی ہے اور اس کا فرض ہوتا ہے کہ اس کی اطاعت کرے۔پس جبکہ تم نے اس نبی کا زمانہ پایا ہے " جس کو اللہ تعالیٰ نے تمام دنیا کے لئے نبی بنا کے بھیجا ہے " تو تمہارا فرض ہے کہ اس کو قبول کرو اور ہمارا دین تم کو مسیح کی اتباع سے روکتا نہیں بلکہ ہم تو دوسروں کو بھی حکم دیتے ہیں کہ وہ مسیح پر ایمان لائیں۔"536 یہ وہ لوگ تھے جو بڑی جرآت سے اور بڑی حکمت سے تبلیغ کا فریضہ سر انجام دیتے تھے۔کوئی حاکم ہے یا والی ہے یا بادشاہ ہے کسی کے سامنے کبھی ان کو خوف نہیں ہوا۔مکہ والوں کے نام ایک خط جس کی خبر آنحضرت علی ایم کو ہو گئی پھر مکہ والوں کی طرف عورت کے خط لے جانے کا جو واقعہ آتا ہے یہ حاطب بن ابی بلتعہ ہی تھے جنہوں نے اس عورت کے ہاتھ مکہ والوں کے لئے خط بھیجا تھا اور آپ صلی علیکم کے آنے کی اطلاع دی تھی۔چنانچہ روایات میں آتا ہے کہ رسول اللہ صلی الی ایم نے جب فتح مکہ کے لئے لشکر کے ساتھ کوچ فرمایا تو اس وقت آپ صلی علیکم کے ایک صحابی حضرت حاطب بن ابی بلتعہ نے قریش مکہ کو ایک عورت کے ہاتھ خط بھیجا۔