اصحابِ بدرؓ (جلد چہارم) — Page 209
ناب بدر جلد 4 209 ساتھی رات کو آنے کا وعدہ دے کر واپس چلے گئے اور جب رات ہوئی تو یہ لوگ کھلے طور پر اپنے ہتھیار لے کر آئے۔اس کو بلایا، گھر سے باہر لے کر آئے، اس پر قابو پالیا اور پھر انہوں نے اس کو قتل کر دیا۔جب قتل کیا تو اس وقت حضرت حارث کا جو ذکر آرہا ہے وہ زخمی ہو گئے تھے ، ان کو اپنے لوگوں کی تلوار لگ گئی تھی۔اور پھر جب اس کو قتل کر دیا تو آنحضرت صلی ال کم کی خدمت میں حاضر ہو کر اس قتل کی اطلاع دی۔است اپنے سردار کے قتل کی وجوہات سن کر یہود کا خاموش ہو جانا جب صبح اس کے قتل کی خبر مشہور ہوئی تو شہر میں بڑی سنسنی پھیل گئی۔سب یہودی جوش میں آگئے۔دوسرے دن یعنی اگلے دن صبح یہودیوں کا ایک وفد آنحضرت صلی الی یکم کی خدمت میں حاضر ہوا اور شکایت کی کہ ہمارا سر دار کعب بن اشرف اس طرح قتل کر دیا گیا ہے تو آنحضرت صلی الی یکم نے سن کر فرمایا، انکار نہیں کیا نہ یہ کہا کہ اچھا مجھے نہیں پتہ، کوئی ایسی بات نہیں ہوئی۔آپ نے فرمایا کہ تمہیں معلوم ہے کہ کعب کس کس جرم کا مرتکب ہوا ہے۔پھر آپ نے اجمالاً ان کو کعب کی عہد شکنی، تحریک جنگ، فتنہ انگیزی، فحش گوئی، سازش قتل و غیرہ کی کارروائیاں یاد دلائیں جس پر یہ لوگ ڈر کر خاموش ہو گئے۔تب ان کا جوش ٹھنڈا ہو گیا۔ان کو پتہ لگ گیا کہ ہاں بات تو حقیقت ہے اور یہی اس کی سزا ہونی چاہئے تھی۔یہود کے ساتھ نیا معاہدہ پھر آنحضرت صلی اللہ کریم نے ان سے فرمایا کہ تمہیں چاہئے کہ کم از کم آئندہ کے لئے امن اور تعاون کا معاہدہ کرو اور عداوت اور فتنہ و فساد کا بیج نہ بوؤ۔چنانچہ یہود کی رضامندی کے ساتھ آئندہ کے لئے ایک نیا معاہدہ لکھا گیا اور یہود نے مسلمانوں کے ساتھ امن و امان کے ساتھ رہنے اور فتنہ و فساد کے طریقوں سے بچنے کا از سر نو وعدہ کیا اور یہ عہد نامہ حضرت علی کی سپر د گی میں دے دیا گیا۔تاریخ میں کسی بھی جگہ مذکور نہیں کہ اس کے بعد یہودیوں نے کبھی کعب بن اشرف کے قتل کا ذکر کر کے مسلمانوں پر الزام عائد کیا ہو کیونکہ ان کے دل محسوس کرتے تھے کہ کعب اپنی مستحق سزا کو پہنچا ہے۔بعض مغربی مورخین کا اعتراض اور جواب الله سة حضرت مرزا بشیر احمد صاحب لکھتے ہیں کہ مغربی مورخین بعد میں یہ اعتراض کرتے ہیں کہ آنحضرت صلی علیم نے ایک ناجائز قتل کروایا اور یہ غلط چیز تھی۔تو وہ لکھتے ہیں کہ یہ ناجائز قتل نہیں تھا۔کیونکہ کعب بن اشرف آنحضرت صلی علیم کے ساتھ باقاعدہ امن کا معاہدہ کر چکا تھا اور مسلمانوں کے خلاف کارروائی کرنا تو در کنار رہا اس نے اس بات کا عہد کیا تھا کہ وہ ہر بیرونی دشمن کے خلاف مسلمانوں کی مدد کرے گا اور مسلمانوں کے ساتھ دوستانہ تعلقات رکھے گا۔اس نے اس معاہدے کی رو سے یہ بھی تسلیم کیا تھا کہ جو رنگ مدینہ میں جمہوری سلطنت کا قائم کیا گیا ہے اس میں آنحضرت صلی لی کا صدر ہوں گے اور ہر قسم کے تنازعات وغیرہ میں آپ کا فیصلہ سب کے لئے واجب القبول ہو گا۔