اصحابِ بدرؓ (جلد چہارم)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 199 of 672

اصحابِ بدرؓ (جلد چہارم) — Page 199

تاب بدر جلد 4 الله سة 199 یہی فرماتے تھے کہ اس کا راستہ چھوڑ دو اس کو حکم دیا گیا ہے۔یعنی اللہ کی مرضی سے یہ خود ہی بیٹھے گی۔یہاں تک کہ آپ کی اونٹنی چلتے چلتے جہاں اب مسجد نبوی کا دروازہ ہے اس جگہ پہنچی اور مسجد کے دروازے والی جگہ پر بیٹھ گئی۔جب اونٹنی بیٹھ چکی تو آپ صلی علی کم پر نزول وحی کی کیفیت طاری ہوئی۔آپ ابھی اونٹنی پر ہی تشریف فرما تھے کہ پھر وہ اونٹنی اٹھی اور تھوڑا آگے گئی۔آپ صلی ای ندیم نے اس کی نکیل چھوڑی ہوئی تھی۔پھر وہ اونٹنی دوبارہ وہیں آکر بیٹھ گئی اور اپنی گردن زمین پر رکھ دی۔اس موقع پر حضرت جبار بن حظر اس امید پر کہ اونٹنی بنو سلمہ کے محلے میں جاکر ٹھہرے اسے اٹھانے کی کوشش کرنے لگے لیکن وہ نہ اٹھی اور رسول اللہ صلی للی کم نیچے اترے اور فرمایا کہ انشاء اللہ یہاں ہمارا قیام ہو گا اور آپ نے اس آیت کی تلاوت فرمائی وَقُل رَّبِّ اَنْزِلْنِي مُنْزَلًا مُبَرَكَا وَ اَنْتَ خَيْرُ الْمُنْزِلِينَ (المؤمنون: 30) کہ اے میرے رب ! تو مجھے ایک مبارک اترنے کی جگہ پر اتار اور تو اتار نے والوں میں سے سب سے بہتر ہے۔پھر رسول اللہ صلی علی یم نے فرمایا کہ کون سب سے قریب ہے۔حضرت ابو ایوب انصاری نے عرض کیا کہ میں یارسول اللہ ! یہ میر اکھر ہے۔یہ میر ادروازہ ہے اور ہم نے آپ کا کجاوہ اندر رکھ دیا ہے۔آپ نے فرمایا کہ چلو اور ہمارے آرام کرنے کی جگہ تیار کرو۔پس وہ گئے اور آپ کے آرام کرنے کی جگہ تیار کی۔494 ایک حاسد کا بہکاوا اور ندامت کے آنسو شناس بن قیس ایک عمر رسیدہ شخص تھا اور سخت کافر تھا۔مسلمانوں سے سخت شدید کینہ اور بغض رکھتا تھا۔اس کا گزر مسلمانوں کی ایک جماعت پر ہوا جو مجلس میں بیٹھے باتیں کر رہے تھے۔جب اس نے ان کی باہمی الفت، اتحاد اور آپس کی صلح کاری دیکھی کہ یہ بیٹھے ہوئے ہیں اور جنسی خوشی پیار اور محبت سے باتیں کر رہے ہیں۔صلح کی جو یہ فضا تھی یہ جاہلیت کی دشمنی کے بعد اسلام کی بدولت انہیں حاصل ہوئی تھی۔اس سے پہلے ان لوگوں کی دشمنیاں تھیں۔لیکن اسلام کی بدولت انہیں یہ صلح کی ، باہمی الفت اور پیار اور محبت کے سلوک کی توفیق ملی تو کہتے ہیں وہ ایسی بات کو دیکھ کے غضبناک ہو گیا کیونکہ جب وہ مسلمان ہوئے تو اللہ تعالیٰ نے ان کے دلوں کو ملا دیا۔شاس بن قیس نے کہا کہ بنو قیلہ کے سردار اس علاقے میں بیٹھے ہیں۔جب تک ان کے سردار آپس میں اکٹھے ہیں ہمیں قرار نصیب نہیں ہو سکتا۔یہ کس طرح ہو سکتا ہے کہ یہ جو دشمنیاں ہیں وہ دوستیوں میں بدل جائیں بلکہ محبت اور پیار میں بدل جائیں۔اس نے ایک یہودی جو ان کو جو اس کے ساتھ تھا اس کام پر لگایا کہ ان کے پاس جاکر ان کے ساتھ بیٹھے اور جنگ بعاث اور اس سے پہلے کے حالات کا ذکر چھیڑے اور انہیں وہ شعر سنائے جو یہی لوگ اور دو مختلف قبیلے ایک دوسرے کے خلاف کہا کرتے تھے۔پس اس نے ایسا ہی کیا اور ایک قبیلے نے جنگ میں جو دوسرے قبیلے کے خلاف اشعار کہے تھے ان میں سے بعض پڑھے۔اس بات نے گویا ان کے سینوں میں آگ بھڑ کا دی۔دوبارہ وہی جاہلیت کا شعر سن کر جاہلیت کا زمانہ ان پر عود کر آیا۔اس پر دوسرے قبیلے