اصحابِ بدرؓ (جلد چہارم) — Page 5
اصحاب بدر جلد 4 5 ہے اسے تسلی دینے کے لئے اس پر اپنا ہاتھ رکھا۔آپ نے اپنا ہاتھ ابھی رکھا ہی تھا کہ اس نے یہ نہایت گندہ اور نا معقول فقرہ کہہ دیا کہ میں تجھ سے اللہ تعالی کی پناہ مانگتی ہوں۔حضرت مصلح موعودؓ فرماتے ہیں کہ چونکہ نبی خدا تعالیٰ کا نام سن کر ادب کی روح سے بھر جاتا ہے اور اس کی عظمت کا متوالا ہو جاتا ہے۔اس کے اس فقرے پر آپ صلی الیکم نے فوراً فرمایا کہ تو نے ایک بڑی ہستی کا واسطہ دیا ہے اور اس کی پناہ مانگی ہے جو بڑا پناہ دینے والا ہے اس لئے میں تیری در خواست کو قبول کرتا ہوں۔چنانچہ آپ صلی علی کم اسی وقت باہر تشریف لے آئے اور فرمایا کہ اے ابواسید اسے دو چادر میں دے دو اور اس کے گھر والوں کے پاس پہنچا دو۔چنانچہ اس کے بعد اسے مہر کے حصہ کے علاوہ بطور احسان دور از قی چادر میں دینے کا آپ نے حکم دیا تا کہ قرآن کریم کا حکم وَلَا تَنْسَوُا الْفَضْلَ بَيْنَكُمُ پورا ہو۔یعنی آپس میں احسان کا سلوک بھول نہ جایا کرو۔اس کے مطابق آپ نے زائد دیا، احسان کیا۔مصلح موعود لکھتے ہیں کہ جو ایسی عورتوں کے متعلق ہے جن کو بلا صحبت طلاق دے دی حضرت جائے اور آپ نے اسے رخصت کر دیا اور ابو اسید ہی اس کو اس کے گھر پہنچا آئے۔اس کے قبیلے کے لوگوں پر یہ بات نہایت شاق گزری اور انہوں نے اس کو ملامت کی۔مگر وہ یہی جواب دیتی رہی کہ یہ میری بد بختی ہے اور بعض دفعہ اس نے یہ بھی کہا کہ مجھے ورغلایا گیا تھا اور کہا گیا تھا کہ جب رسول کریم صلی یکم تیرے پاس آئیں تو تم پرے ہٹ جانا اور نفرت کا اظہار کرنا۔اس طرح ان پر تمہارا رعب قائم ہو جائے گا۔معلوم نہیں یہی وجہ ہوئی یا کوئی اور۔بہر حال اس نے نفرت کا اظہار کیا اور رسول کریم صلی علیم اس سے علیحدہ ہو گئے اور اسے رخصت کر دیا۔3 آنحضرت علی پر جو بیویوں کا الزام لگاتے ہیں کہ خوبصورت عورتوں کے نعوذ باللہ دلدادہ تھے۔یہ جو سارا واقعہ ہے ان کے لئے کافی جواب ہے۔حضرت ابو اسید کہا کرتے تھے کہ رسول اللہ صلی علیم سے جب بھی کوئی چیز مانگی جاتی تو آپ نے کبھی انکار نہیں فرمایا۔14 13 عثمان بن عبید اللہ سے مروی ہے کہ میں نے ابواسید کو دیکھا وہ اپنی داڑھی زر در نگتے تھے۔15 ابن اسحاق کہتے ہیں کہ ابو أسيد مالك بن ربيعه غزوہ بدر میں شریک تھے جب ان کی اخیر عمر میں بینائی چلی گئی تو انہوں نے کہا کہ اگر آج میں بدر کے مقام پر ہوتا اور میری بینائی بھی ٹھیک ہوتی تو میں تم کو وہ گھائی دکھاتا جہاں سے فرشتے نکلے تھے۔مجھے اس میں ذرا بھی شک اور و ہم نہیں ہو گا۔16 ابو أسيد مالك بن ربیعه ساعدی سے روایت ہے۔وہ کہتے ہیں کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بیٹھے ہوئے تھے کہ اسی دوران بنو سلمہ کا ایک شخص آپ کے پاس آیا اور اس نے کہا یار سول اللہ ! میرے ماں باپ کے مرجانے کے بعد بھی ان کے ساتھ حسن سلوک کی کوئی صورت ہے ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہاں۔ان کے لیے دعا کرنا اور ان کے لیے استغفار کرنا۔ان کے بعد ان کے