اصحابِ بدرؓ (جلد چہارم)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 3 of 672

اصحابِ بدرؓ (جلد چہارم) — Page 3

تاب بدر جلد 4 3 دیکھیں اور پھر جب اللہ تعالیٰ نے لوگوں کو آزمائش میں ڈالنا چاہا تو میری بینائی ختم کر دی۔رض میری نظر ختم ہو گئی تاکہ میں ان بری حالتوں کو نہ دیکھ سکوں۔حضرت عثمان بن عبید اللہ جو حضرت سعد بن ابی وقاص کے آزاد کردہ غلام تھے وہ بیان کرتے ہیں کہ " میں نے حضرت ابن عمرؓ، حضرت ابو ہریرۃ، حضرت ابو قتادہ اور حضرت ابواسید ساعدی کو دیکھا۔یہ حضرات ہم پر سے گزرتے تھے اس حال میں کہ ہم مکتب میں ہوتے تھے تو ہم ان سے عبیر کی خوشبو محسوس کیا کرتے تھے۔" یہ خوشبو ہے جو زعفران اور کئی چیزوں سے ملا کر بنائی جاتی ہے۔10 امانت و دیانت کے اعلیٰ معیار مروان بین الحکم حضرت ابو اسید ساعدی کو صدقے پر عامل بنایا کرتے تھے۔یعنی اکٹھا کرنے کے لئے اور اس کی تقسیم کے لئے۔حضرت ابواسید ساعدی جب دروازے پر آتے تو اونٹ بٹھاتے اور ان کو تمام چیزیں تقسیم کے لئے دیتے۔آخری چیز جو ان کو دیتے وہ چابک ہو تا۔اسے دیتے ہوئے یوں کہتے کہ یہ تمہارے مال میں سے ہے۔حضرت ابواسید ایک مرتبہ زکوۃ کامال تقسیم کرنے آئے اور جو سامان تھا وہ کر کے چلے گئے۔گھر میں جا کر جو سوئے تو خواب میں انہوں نے دیکھا کہ ایک سانپ ان کی گردن سے لپٹ گیا ہے۔وہ گھبر اگر اٹھے اور پوچھا کہ اے فلاں ! (خادمہ سے یا بیوی سے پوچھا کہ ) کیا مال میں سے کوئی چیز رہ گئی ہے جو تقسیم کرنے کے لئے مجھے دی گئی تھی۔وہ بولی کہ نہیں۔حضرت ابواسید نے فرمایا کہ پھر کیا بات ہے کہ سانپ میری گردن میں لپٹ گیا تھا۔دیکھو شاید کچھ رہ گیا ہو۔جب انہوں نے دیکھا تو وہ بولی کہ ہاں اونٹ کو باندھنے والی ایک رسی ہے جس کے ساتھ ایک تھیلے کا منہ باندھ دیا گیا تھا۔چنانچہ حضرت ابواسید نے وہ رستی بھی جاکر ان کو واپس کر دی۔11 اللہ تعالیٰ ان صحابہ کو تقویٰ کے باریک ترین معیاروں پر رکھ کر امانت کی ادائیگی کے اعلیٰ ترین معیار قائم کروانا چاہتا تھا اور اسی لئے پھر خوابوں میں بھی ان کی رہنمائی ہو جاتی تھی۔انصار کے فضائل عماره بن غزيه اپنے والد کا یہ بیان نقل کرتے ہیں کہ کچھ جوانوں نے حضرت ابواسید سے انصار کے متعلق رسول اللہ صلی الم کے بیان کردہ فضائل کے بارے میں دریافت کیا تو انہوں نے کہا کہ میں نے رسول اللہ صلی الیم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ انصار کے تمام قبائل میں سب سے اچھے بنو نجار کے گھرانے ہیں۔پھر بنو عبد الْاَشْهَل، پھر بنو حارث بن خزرج، پھر بنو ساعدہ اور انصار کے تمام گھرانوں میں خیر ہی خیر ہے۔حضرت ابواسید اس پر فرماتے تھے کہ اگر میں حق کے سوا کسی چیز کو قبول کرنے والا ہوتا تو میں بنو ساعدہ کے کسی خاندان سے شروع کرتا۔12 بنت الجون کا قصہ اور مخالفین کے ایک اعتراض کا جواب حضرت مصلح موعودؓ نے ایک جگہ تاریخ کے حوالے سے ذکر فرمایا ہے کہ جب عرب فتح ہوا اور