اصحابِ بدرؓ (جلد چہارم)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 171 of 672

اصحابِ بدرؓ (جلد چہارم) — Page 171

اصحاب بدر جلد 4 171 اس وجہ سے میرے پاس ٹھہر جاؤ۔اس پر حضرت بلال حضرت ابو بکر کی وفات تک ان کے پاس ہی رہے۔حضرت ابو بکر کی وفات کے بعد حضرت بلال حضرت عمرؓ کے پاس آئے اور ان سے بھی وہی بات کہی جو حضرت ابو بکر کو کہی تھی۔حضرت عمرؓ نے بھی انہیں ویسا ہی جواب دیا جیسا حضرت ابو بکر نے دیا تھا مگر حضرت بلال نہ مانے۔حضرت بلال جہاد پر جانے پر مصر تھے اور انہوں نے حضرت عمرؓ کے سامنے اسی بات کا اصرار کیا۔حضرت عمرؓ نے ان سے فرمایا کہ میں تمہارے بعد اذان دینے کی ذمے داری کس کے سپر د کروں گا ؟ حضرت بلال نے عرض کی کہ حضرت سعد کے کیونکہ انہوں نے رسول اللہ صلی علیم کے زمانے میں اذان دی ہوئی ہے۔پس حضرت عمرؓ نے حضرت سعد اور ان کے بعد ان کی اولاد کے سپرد اذان کی ذمہ داری لگائی اور حضرت بلال کو ان کے اصرار کی وجہ سے جہاد پر بھیج دیا۔یہ ایک روایت ہے اور ایک روایت میں حضرت بلال اور حضرت ابو بکر کے اذان دینے کے حوالے سے جو مکالمہ ہوا اس کا بھی یوں ذکر ملتا ہے کہ موسیٰ بن محمد اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی ایم کی وفات ہوئی تو حضرت بلال نے اس روز اس وقت اذان دی کہ ابھی رسول اللہ صلی للی کم کی تدفین نہ ہوئی تھی۔جب انہوں نے أَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللہ کے الفاظ اپنی زبان میں 428 کہے۔آسھد کہتے تھے۔تو مسجد میں لوگوں کے رونے کی وجہ سے ہچکیاں بندھ گئیں۔جب رسول اللہ صلی علیکم کی تدفین ہو گئی تو حضرت ابو بکر نے حضرت بلال کو اذان دینے کا کہا۔حضرت بلال نے جو ابا کہا اگر تو آپ نے مجھے اس لیے آزاد کیا ہے کہ میں آپ کے ساتھ رہوں تو اس کا راستہ تو یہی ہے جس طرح آپ کہہ رہے ہیں لیکن اگر آپ نے مجھے اللہ کے لیے آزاد کیا ہے تو مجھے اس کے لیے چھوڑ دیجئے جس کے لیے مجھے آزاد کیا ہے۔حضرت ابو بکر نے کہا کہ میں نے تمہیں اللہ کی خاطر آزاد کیا ہے۔اس پر حضرت بلال نے کہا کہ میں رسول اللہ صلی لی ایم کی وفات کے بعد کسی کے لیے اذان نہ دوں گا۔حضرت ابو بکر نے کہا یہ آپ کی مرضی ہے۔اس کے بعد حضرت بلال مدینے میں ہی مقیم رہے یہاں تک کہ حضرت عمررؓ کے دورِ خلافت میں شام کے لیے لشکر روانہ ہوئے تو حضرت بلال بھی ان لشکروں کے ساتھ شام چلے گئے۔129 الله سة حضرت بلال کا جہاد میں شامل ہونے کے لئے شام کی طرف چلے جانا اسد الغابہ کی ایک روایت کے مطابق حضرت بلال نے حضرت ابو بکر سے کہا کہ اگر آپ نے مجھے اپنے لیے آزاد کیا ہے تو مجھے اپنے پاس روک لیں لیکن اگر آپ نے مجھے اللہ کی راہ میں آزاد کیا ہے تو مجھے اللہ کی راہ میں جہاد کے لیے جانے دیں۔اس پر حضرت ابو بکر نے حضرت بلال سے فرمایا جاؤ۔اس پر حضرت بلال شام چلے گئے اور وفات تک وہیں رہے جو اکثر روایتیں ہیں وہ یہی ہیں کہ حضرت ابو بکڑ کے زمانے میں نہیں گئے تھے بلکہ حضرت عمرؓ کے زمانے میں گئے تھے اور ایک قول کے مطابق حضرت بلال