اصحابِ بدرؓ (جلد چہارم)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 169 of 672

اصحابِ بدرؓ (جلد چہارم) — Page 169

تاب بدر جلد 4 169 فرمایا ہے اور یہ میں اس لیے کہہ رہا ہوں کہ بعض لوگ لکھ دیتے ہیں کہ فلاں جگہ تو یوں فرمایا تھا۔دونوں بیانوں میں تفصیل اور اختصار کے علاوہ کوئی فرق نہیں ہے۔بعض لوگ بڑے نکتے نکال کر فرق بھی بتانے شروع کر دیتے ہیں۔واقعاتی طور پر بھی اور نتیجے کے طور پر بھی ایک ہی چیز ہے۔بہر حال یہاں جو بیان ہے وہ اس طرح ہے کہ ”ابو سفیان نے کہا یارسول اللہ ! اگر مکہ کے لوگ تلوار نہ اٹھائیں تو کیا وہ امن میں ہوں گے ؟ آپ نے فرمایا ہاں ! ہر شخص جو اپنے گھر کا دروازہ بند کرلے اسے امن دیا جائے گا۔حضرت عباس نے کہا یار سول اللہ ! ابو سفیان فخر پسند آدمی ہے اس کا مطلب ہے کہ میری عزت کا بھی کوئی سامان کیا جائے۔“ یہ حضرت عباس کے حوالے سے زائد چیز ہے۔” آپ نے فرمایا بہت اچھا، جو شخص ابو سفیان کے گھر میں چلا جائے اس کو بھی امن دیا جائے گا۔جو مسجد کعبہ میں گھس جائے اس کو بھی امن دیا جائے گا۔جو اپنے ہتھیار پھینک دے اس کو بھی امن دیا جائے گا۔جو اپنا دروازہ بند کر کے بیٹھ جائے گا اس کو بھی امن دیا جائے گا۔جو حکیم بن حزام کے گھر میں چلا جائے اس کو بھی امن دیا جائے گا۔اس کے بعد آئی ڈونیہ جن کو آپ نے بلال حبشی غلام کا بھائی بنایا ہوا تھا ان کے متعلق آپ نے فرمایا ہم اس وقت آپی دونیچے کو اپنا جھنڈا دیتے ہیں جو شخص ابی رویحہ کے جھنڈے کے نیچے کھڑا ہو گا ہم اس کو کبھی کچھ نہ کہیں گے اور بلال سے کہا تم ساتھ ساتھ یہ اعلان کرتے جاؤ کہ جو شخص ابی رویحہ کے جھنڈے کے نیچے آجائے گا اس کو امن دیا جائے گا۔یہ چیز یہاں زائد ہے کہ بلال ساتھ اعلان کرتے جائیں۔” اس حکم میں کیا ہی لطیف حکمت تھی۔مکہ کے لوگ بلال کے پیروں میں رسی ڈال کر اس کو گلیوں میں کھینچا کرتے تھے ، مکہ کی گلیاں، مکہ کے میدان بلال کے لیے امن کی جگہ نہیں تھے بلکہ عذاب اور تذلیل اور تضحیک کی جگہ تھے۔رسول اللہ صلی علی یم نے خیال فرمایا کہ بلال کا دل آج انتظام کی طرف بار بار مائل ہو تا ہو گا۔اس وفادار ساتھی کا انتقام لینا بھی نہایت ضروری ہے مگر یہ بھی ضروری ہے کہ ہمارا انتقام اسلام کی شان کے مطابق ہو۔پس آپ نے بلال کا انتقام اس طرح نہ لیا کہ تلوار کے ساتھ اس کے دشمنوں کی گردنیں کاٹ دی جائیں بلکہ اس کے بھائی کے ہاتھ میں ایک بڑا جھنڈ ادے کر کھڑا کر دیا اور بلال کو اس غرض کے لیے مقرر کر دیا کہ وہ اعلان کر دے کہ جو کوئی میرے بھائی کے جھنڈے کے نیچے آکر کھڑا ہو گا اسے امن دیا جائے گا۔کیسا شاندار یہ انتظام تھا، کیسا حسین یہ انتظام تھا۔جب بلال بلند آواز سے یہ اعلان کرتا ہو گا کہ اے مکہ والو ! آؤ میرے بھائی کے جھنڈے کے نیچے کھڑے ہو جاؤ تمہیں امن دیا جائے گا تو اس کا دل خود ہی انتقام کے جذبات سے خالی ہو تا جاتا ہو گا اور اس نے محسوس کر لیا ہو گا کہ جو انتقام محمد رسول اللہ صلی علیم نے میرے لیے تجویز کیا اس سے زیادہ شاندار اور اس سے زیادہ حسین انتقام میرے لیے اور کوئی نہیں ہو سکتا۔424 پھر حضرت خلیفۃ المسیح الثانی نے حضرت بلال کے صبر اور فتح مکہ کے وقت ان کی حالت کا تذکرہ کرتے ہوئے یوں بیان فرمایا ہے کہ ”یہ تکالیف تھیں جو بلال کو پہنچائی گئیں۔مکے میں جو تکالیف ہوتی تھیں ان کا ذکر پہلے بھی ہو چکا ہے۔مگر جانتے ہو جب مکہ فتح ہوا تو وہ بلال حبشی غلام جس کے سینے پر مکہ کے بڑے بڑے افسر نا چا کرتے تھے اس کو رسول کریم صلی علیہم نے کیا عزت دی؟ اور کس طرح اس کا کفار