اصحابِ بدرؓ (جلد چہارم)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 93 of 672

اصحابِ بدرؓ (جلد چہارم) — Page 93

اصحاب بدر جلد 4 93 آپ کی وہی حیثیت ہو گی جو پہلے ہے۔ہم آپ کی نافرمانی نہیں کریں گے اور نہ آپ کو نظر انداز کر کے کوئی فیصلہ کریں گے۔آپ مسلمانوں کے سردار ہیں۔آپؐ کی فضیلت کا ہم انکار نہیں کرتے اور نہ آپ کے مشورے سے مستغنی ہو سکتے ہیں۔242 یہ دیکھیں یہ ہے مومنانہ شان۔دونوں طرف سے کس طرح عاجزانہ طور پر اطاعت کا اظہار کیا گیا ہے۔جنگ اجنادین۔جمادی الاول تیرہ ہجری میں اجنادین فلسطین کے نواحی علاقے میں سے ایک بستی کا نام ہے۔اس مقام پر ایک لاکھ رومی فوج سے مسلمانوں کا یہ مقابلہ ہوا۔روایات میں آتا ہے کہ اجنادین فوج کا سپہ سالار قیصر روم ہر قل کا بھائی تھیوڈور (Theodore) تھا۔پینتیس ہزار کے قریب مسلمانوں نے ایک لاکھ کی فوج کو شکست دے کر اجنادین کو فتح کر لیا۔3 243 فتح دمشق اجنادین کی فتح کے بعد مسلمانوں نے دمشق کا محاصرہ کر لیا اور پھر اس کی تفصیل اس طرح ہے۔یہ شام کا دارالحکومت ہے اور دنیا کے قدیم ترین شہروں میں سے ایک ہے۔دمشق کا مسلمانوں نے محاصرہ محرم 114 ہجری میں کیا اور یہ محاصرہ چھ ماہ تک جاری رہا۔دوسری پارٹی، جو مخالفین تھے ، دوسری طرف کی فوج وہ قلعہ بند ہو گئے۔اپنے علاقے میں تھے اس لیے اپنے قلعے بند کر لیے۔مسلمانوں کے پانچوں سالار اپنی فوجوں سمیت اس شہر کا محاصرہ کیے ہوئے تھے۔حضرت ابو عبیدہ اپنی فوج کے ساتھ مشرقی دروازے پر تھے۔حضرت خالد بن ولید ان کے بالمقابل مغربی دروازے پر تھے اور باقی تین سالار بھی، کمانڈر جو تھے مختلف دروازوں پر متعین تھے۔رومی گاہے بگاہے نکل کر جنگ کرتے مگر پھر واپس چلے جاتے اور قلعہ بند ہو جاتے تھے۔انہیں امید تھی کہ قیصر روم کمک بھیجے گا مگر اسلامی افواج کی چوکسی نے ان کی امیدیں خاک میں ملادی تھیں۔ایک رات جبکہ شہر میں کوئی جشن ہو رہا تھا اور فصیل کے پہرے دار بھی اس جشن کی خوشی میں پہرے داری سے غافل تھے تو حضرت خالد بن ولید اپنے کچھ ساتھیوں سمیت شہر کی فصیل پھلانگ کر شہر میں داخل ہو گئے اور دروازہ کھول دیا۔اس طرح ان کی فوج شہر میں داخل ہو گئی۔یہ دیکھ کر شہر والوں نے حضرت ابو عبیدہ سے صلح کرلی جو کہ شہر کے دوسری طرف تھے مگر حضرت خالد کو یہ خبر نہیں ہوئی اور مسلسل جنگ کر رہے تھے۔حضرت ابو عبیدہ کے پاس لوگ گئے اور ان سے التجا کی کہ ہمیں خالد سے بچائیے۔شہر کے درمیان میں ان دونوں سرداروں کا آمنا سامنا ہوا اور پھر جب خالد بن ولید اور حضرت ابو عبیدہ شہر کے درمیان میں آکے شہر والوں کے ساتھ ملے تو پھر شہر والوں کے ساتھ صلح کر لی گئی کیونکہ معاہدہ حضرت ابو عبیدہ کر چکے تھے۔244 معرکہ فخل یہ شام کا ایک شہر ہے۔دمشق فتح کرنے کے بعد مسلمان آگے بڑھے تو معلوم ہوا کہ رومی بیسان