اصحابِ بدرؓ (جلد چہارم)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 80 of 672

اصحابِ بدرؓ (جلد چہارم) — Page 80

اصحاب بدر جلد 4 80 وہ جان بھی اسی کی چیز ہے اور کسی کی امانت کو واپس کر دینا بڑی قربانی نہیں ہو تا۔آپ فرماتے ہیں کہ احادیث میں ایک صحابیہ ام سلیم کا ہی یہ قصہ آتا ہے کہ رسول کریم صلی الم نے اس کے شوہر ابو طلحہ کو کسی اسلامی خدمت کے سلسلہ میں باہر بھیجا۔ان کا بچہ بیمار تھا اور ان کو اپنے بچے کی بیماری کا قدرتی طور پر فکر تھا۔وہ صحابی جب واپس آئے تو ان کی غیر حاضری میں ان کا بچہ فوت ہو چکا تھا۔ماں نے اپنے مردہ بچے پر کپڑا ڈال دیا۔وہ نہائی، دھوئی اور خوشبو لگائی اور بڑے حوصلے کے ساتھ اس نے اپنے خاوند کا استقبال کیا۔وہ صحابی جب گھر آئے تو انہوں نے آتے ہی سوال کیا کہ بچے کا کیا حال ہے ؟ اس صحابیہ نے جواب دیا بالکل آرام سے ہے۔انہوں نے کھانا کھایا۔پھر تسلی کے ساتھ آرام سے لیٹ گئے اور تعلقات زوجیت بھی پورے کیے۔جب وہ اپنی بیوی سے مل چکے تو بیوی نے کہا کہ میں آپ سے ایک بات دریافت کرنا چاہتی ہوں۔خاوند نے جواب دیا کیا؟ بیوی نے کہا کہ اگر کوئی شخص کسی کے پاس امانت رکھ جائے اور کچھ عرصہ کے بعد وہ چیز واپس لینا چاہے تو کیا وہ چیز اسے واپس کی جائے یانہ کی جائے؟ انہوں نے جواب دیا وہ کون بیوقوف ہو گا جو کسی کی امانت کو واپس نہیں کرے گا۔بیوی نے کہا آخر اسے افسوس تو ہو گا کہ میں امانت واپس کر رہا ہوں۔انہوں نے جواب دیا افسوس کس بات کا ؟ وہ چیز اس کی اپنی نہیں تھی۔اگر وہ اسے واپس کر دے تو اسے کیا افسوس ہو سکتا ہے۔بیوی نے کہا اچھا اگر یہ بات ہے تو ہمارا بچہ جو خدا تعالیٰ کی ایک امانت تھی اسے خدا تعالیٰ نے ہم سے واپس لے لیا۔اور یہ حوصلہ تھا جو اس وقت کی عورتوں میں پایا جاتا تھا۔پس جان کا دینا تو کوئی چیز ہی نہیں خصوصاً مومن کے لیے تو یہ ایک معمولی بات ہوتی ہے۔15 ولڑ کے اور سب قرآن کے قاری 205 پھر جو حدیث پہلے بیان ہو چکی ہے اس کے مطابق آنحضرت صلی للی یکم نے ان کو یہ دعادی بعد میں ان کے بچے پیدا ہوئے۔فوری طور پر کچھ عرصے بعد ان کا بیٹا پید اہوا اور پھر اتنا نوازا اللہ تعالیٰ نے کہ انصار میں سے ایک شخص نے روایت کی ہے کہ میں نے حضرت ابو طلحہ کے نو بچے دیکھے اور وہ سب نو لڑکے قرآن کے قاری تھے۔206 نبی اکرم علی ایم کا ایک پیالہ عاصم احول بیان کرتے ہیں کہ میں نے نبی کریم کی تعلیم کا پیالہ حضرت انس کے پاس دیکھا۔اس میں دراڑ پڑ گئی تھی۔حضرت انس نے اسے چاندی سے جوڑ دیا تھا۔وہ ایک خوبصورت چوڑا اور عمدہ لکڑی کا بناہو اپیالہ تھا۔حضرت انس نے بتایا کہ میں نے اس پیالے میں نبی کریم صلی لیلی کیم کو بار باپانی پلایا ہے۔ابن سیرین کہتے ہیں کہ وہ پیالہ لوہے کی تار سے جڑا ہوا تھا۔حضرت انس نے ارادہ کیا کہ اس کی جگہ سونے یا چاندی سے جڑوا دیں لیکن حضرت ابو طلحہ نے ان سے کہا کہ جسے رسول اللہ صلی علیم نے بنایا ہے اس میں ہر گز کوئی تبدیلی نہ کرو۔چنانچہ انہوں نے ارادہ چھوڑ دیا۔207