اصحابِ بدرؓ (جلد چہارم)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 64 of 672

اصحابِ بدرؓ (جلد چہارم) — Page 64

ب بدر جلد 4 64 بنو قریظہ کی بد عہدی۔۔۔۔۔حضرت مصلح موعود کی بیان کردہ تفصیل حضرت خلیفتہ المسیح الثانی نے اس تفصیل کے علاوہ بھی اس واقعہ کی تفصیل بیان فرمائی ہے۔آپ فرماتے ہیں کہ بنو قریظہ کا معاملہ طے ہونے والا تھا۔ان کی غداری ایسی نہیں تھی کہ نظر انداز کی جاتی۔رسول کریم صلی اللہ ہم نے واپس آتے ہی اپنے صحابہ سے فرمایا کہ گھروں میں آرام نہ کرو بلکہ شام سے پہلے پہلے بنو قریظہ کے قلعوں تک پہنچ جاؤ اور پھر آپ نے حضرت علی کو بنو قریظہ کے پاس بھجوایا کہ وہ ان سے پوچھیں کہ انہوں نے معاہدہ کے خلاف یہ غداری کیوں کی ہے۔بیچ میں چھوڑ کے چلے گئے تھے۔بجائے اس کے کہ بنو قریظہ شر مندہ ہوتے یا معافی مانگتے یا کوئی معذرت کرتے انہوں نے حضرت علی اور ان کے ساتھیوں کو برا بھلا کہنا شروع کر دیا اور رسول اللہ صلی علی یم اور آپ کے خاندان کی مستورات کو گالیاں دینے لگے اور کہا ہم نہیں جانتے کہ محمد صلی علیہ تم کیا چیز ہیں۔ہمارا ان کے ساتھ کوئی معاہدہ نہیں۔حضرت علی ان کا یہ جواب لے کر واپس لوٹے تو اتنے میں رسول اللہ صلی اللیل کم صحابہ کے ساتھ یہود کے قلعوں کی طرف جارہے تھے۔چونکہ یہود گندی گالیاں دے رہے تھے اور رسول اللہ صلی للی کم کی بیویوں اور بیٹیوں کے متعلق ناپاک کلمات بول رہے تھے۔حضرت علی نے اس خیال سے کہ آپ کو ان خیالات سے تکلیف ہو گی عرض کیا یا رسول اللہ ! آپ کیوں تکلیف کرتے ہیں۔ہم لوگ اس لڑائی کے لئے کافی ہیں۔آپ واپس تشریف لے جائیں۔رسول صلی علیم نے فرمایا کہ میں سمجھتا ہوں کہ وہ گالیاں دے رہے ہیں اور تم یہ نہیں چاہتے کہ میرے کان میں وہ گالیاں پڑیں۔حضرت علی نے عرض کیا ہاں یا رسول اللہ ! بات تو یہی ہے۔رسول اللہ صلی سلیم نے فرمایا پھر کیا ہوا اگر وہ گالیاں دیتے ہیں۔موسیٰ نبی تو ان کا اپنا تھا ان کو اس سے بھی زیادہ انہوں نے تکلیفیں پہنچائی تھیں۔یہ کہتے ہوئے آپ یہود کے قلعوں کی طرف چلے گئے مگر یہود دروازے بند کر کے قلعہ بند ہو گئے اور مسلمانوں کے ساتھ لڑائی شروع کر دی حتی کہ ان کی عورتیں بھی لڑائی میں شریک ہوئیں۔چنانچہ قلعہ کی دیوار کے نیچے کچھ مسلمان بیٹھے تھے کہ ایک یہودی عورت نے اوپر سے پتھر پھینک کر ایک مسلمان کو مار دیا۔لیکن کچھ دن کے محاصرہ کے بعد یہود نے یہ محسوس کر لیا کہ وہ لمبا مقابلہ نہیں کر سکتے۔تب ان کے سرداروں نے رسول اللہ صلی علیم سے خواہش کی کہ وہ ابو لبابہ انصاری کو جو اُن کے دوست اوس قبیلہ کے سردار تھے ان کے پاس بھجوائیں تا کہ وہ ان سے مشورہ کر سکیں۔آپ نے ابو لبابہ کو بھجوا دیا۔ان سے یہود نے یہ مشورہ پوچھا کہ کیا محمد رسول اللہ صلی علی ایم کے اس مطالبہ کو کہ فیصلہ میرے سپرد کرتے ہوئے تم ہتھیار پھینک دو۔ہم یہ مان لیں ؟ ابو لبابہ نے منہ سے تو کہا ہاں لیکن اپنے گلے پر اس طرح ہاتھ پھیر اجس طرح قتل کی علامت ہوتی ہے۔رسول اللہ صلی علیم نے اس وقت تک اپنا کوئی فیصلہ ظاہر نہیں کیا تھا مگر ابو لبابہ نے اپنے دل میں یہ سمجھتے ہوئے کہ ان کے جرم کی سزا سوائے قتل کے اور کیا ہو گی بغیر سوچے سمجھے اشارے کے ساتھ ان سے ایک بات کہہ دی جو آخر ان کی تباہی کا موجب ہوئی۔