اصحابِ بدرؓ (جلد چہارم)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 63 of 672

اصحابِ بدرؓ (جلد چہارم) — Page 63

بدر جلد 4 63 آئے ( ابولبابہ مسجد نبوی میں آئے) اور مسجد کے ایک ستون سے اپنے آپ کو باندھ دیا کہ یہ میری سزا ہے ) اور کہا کہ جب تک خدا تعالیٰ میری توبہ قبول نہ کرے گا اسی طرح بندھا رہوں گا۔حضرت ابولبابہ کہتے ہیں کہ میرے بنو قریظہ جانے اور جو کچھ میں نے وہاں کیا اس کی خبر رسول اللہ صلیالی کم تک پہنچی تو آپ نے فرمایا اسے چھوڑ دو یہاں تک کہ خدا تعالیٰ اس کے بارے میں جو چاہے گا فرمائے گا۔اگر وہ میرے پاس آتا تو میں اس کے لئے بخشش طلب کرتا۔جب وہ میرے پاس نہیں آیا اور چلا گیا ہے تو اسے جانے دو۔حضرت ابو لبابہ کہتے ہیں کہ میں پندرہ دن اس ابتلا میں رہا۔آپ کہتے ہیں کہ میں نے ایک خواب دیکھا تھا اور میں اسے یاد کرتا تھا۔میں نے خواب میں دیکھا کہ ہم نے بنو قریظہ کا محاصرہ کیا ہوا ہے اور گویا میں ایک بد بودار کیچڑ میں ہوں۔میں اس سے نکل نہیں سکتا اور قریب تھا کہ میں اس کی بدبو سے ہلاک ہو جاتا۔پھر میں نے ایک نہر دیکھی جو بہہ رہی تھی۔پھر میں نے دیکھا کہ میں اس میں غسل کر رہا ہوں یہاں تک کہ میں نے اپنے آپ کو پاک صاف کیا اور تب مجھے خوشبو آرہی تھی۔آپ حضرت ابو بکڑ کے پاس اس کی تعبیر پوچھنے کے لئے گئے تھے تو حضرت ابو بکر نے اس کی تعبیر یہ کی کہ تمہیں ایسا معاملہ پیش آئے گا جس کی وجہ سے تمہیں غم پہنچے گا پھر تمہیں اس سے نجات دی جائے گی۔حضرت ابولبابہ کہتے ہیں کہ میں بندھا ہوا حضرت ابو بکر کی بات کو یاد کرتا تھا اور امید رکھتا تھا کہ میری توبہ قبول کی جائے گی۔ا حضرت ام سلمہ بیان کرتی ہیں کہ ابو لبابہ کے توبہ کی قبولیت کی خبر میرے گھر میں نازل ہوئی۔آنحضرت صلی علی کم پر یہ وحی اس وقت ہوئی)۔کہتی ہیں کہ میں نے سحر کے وقت رسول اللہ صلی ا ہم کو ہنستے دیکھا۔میں نے عرض کیا اللہ آپ کو ہمیشہ مسکر اتار لکھے آپ کس بات پر ہنس رہے ہیں ؟ آپ صلی علی کلم نے فرمایا کہ ابو لبابہ کی توبہ قبول ہو گئی۔میں نے عرض کیا اے اللہ کے رسول! میں ان کو آگاہ کر دوں ؟ آپ نے فرمایا کہ اگر تم چاہتی ہو تو کر دو۔حضرت ام سلمہ کہتی ہیں کہ میں نے حجرہ کے دروازے پر کھڑے ہو کر کہا ( یہ پردے کے احکام نازل ہونے سے قبل کی بات ہے) کہ اے ابو لبابہ خوش ہو جاؤ۔اللہ نے آپ پر فضل کرتے ہوئے آپ کی توبہ قبول کر لی ہے۔لوگ دوڑ کر حضرت ابولبابہ کو کھولنے لگے۔لیکن انہوں نے کہا کہ نہیں رسول اللہ صلی لی یہ ہی مجھے کھو لیں گے۔نبی کریم علی لیا کہ فجر کی نماز پڑھنے کے لئے تشریف لے گئے تو اپنے دست مبارک سے ان کو کھولا۔حضرت ابو لبابہ نے رسول اللہ صلی کی کمی سے عرض کی کہ میں اپنے آبائی گھر کو جہاں مجھ سے یہ گناہ سر زد ہوا ہے چھوڑتاہوں۔یہ بہت بڑی غلط بات مجھ سے ہو گئی اس لئے میں اپنا گھر بار چھوڑتا ہوں اور میں اپنے مال کو اللہ اور اس کے رسول کی راہ میں صدقہ کرتا ہوں۔آپ نے فرمایا کہ صرف ایک تہائی مال کا صدقہ کرو۔حضرت ابولبابہ نے ایک تہائی مال صدقہ کیا اور آپ نے اپنا آبائی گھر چھوڑ دیا۔154