اصحابِ بدرؓ (جلد چہارم) — Page 62
اصحاب بدر جلد 4 62 لوٹا ہے۔حضرت ابولبابہ نے کہا اللہ تعالیٰ تمہاری بات کو جھٹلائے گا۔یہود بھی یہی کہتے تھے کہ زید ناکام و نامراد اور شکست کھا کر لوٹا ہے۔حضرت اسامہ بن زید کہتے ہیں کہ میں نے اپنے والد سے علیحدگی میں دریافت کیا کہ اے ابا آپ جو کہتے ہیں کیا وہ سچ ہے۔حضرت زید نے کہا اے میرے بیٹے اللہ کی قسم جو میں کہہ رہا ہوں وہ سچ ہے۔حضرت اسامہ کہتے ہیں کہ اس سے میر اول مضبوط ہو گیا۔153 بنو قریظہ کی بد عہدی۔ابولبابہ کی سادگی اور فدائیت رسول کا واقعہ حضرت ابولبابہ کی سادگی اور فدائیت رسول کا واقعہ اس طرح بیان ہوا ہے کہ 5 ہجری میں جب آنحضرت صلی ل م غزوہ خندق سے فارغ ہو کر شہر میں واپس تشریف لائے تو ابھی آپ بمشکل ہتھیار وغیرہ اتار کر نہانے دھونے سے فارغ ہی ہوئے تھے کہ آپ کو خدا تعالیٰ کی طرف سے کشفی رنگ میں یہ بتایا گیا کہ جب تک بنو قریظہ کی غداری اور بغاوت کا فیصلہ نہیں ہو جاتا آپ کو ہتھیار نہیں اتارنے چاہئیں۔آپ نے صحابہ میں اعلان کر دیا کہ سب لوگ بنو قریظہ کے قلعوں کی طرف روانہ ہو جائیں اور نماز عصر وہیں پہنچ کر ادا کی جائے گی۔شروع شروع میں تو یہودی لوگ سخت غرور اور تمرد ظاہر کرتے رہے لیکن جوں جوں وقت گزرتا گیا ان کو محاصرہ کی سختی اور اپنی بے بسی کا احساس ہو نا شروع ہوا ( کہ مسلمانوں نے ان کے قلعوں کا محاصرہ کر لیا تھا) اور بالآخر انہوں نے آپس میں مشورہ کیا کہ اب کیا کرنا چاہئے۔(بہر حال) انہوں نے یہ تجویز کی کہ کسی ایسے مسلمان کو جو اُن سے تعلقات رکھتا ہو اور اپنی سادگی کی وجہ سے ان کے داؤ میں آسکتا ہو اپنے قلعہ میں بلائیں اور اس سے یہ پتہ لگانے کی کوشش کریں کہ آنحضرت صلی علیکم کا ان کے متعلق کیا ارادہ ہے تاکہ وہ اس کی روشنی میں آئندہ طریق عمل تجویز کر سکیں۔چنانچہ انہوں نے آنحضرت صلی علیم کی خدمت میں ایک اینچی روانہ کر کے یہ درخواست کی کہ و لبا به بن منذر انصاری کو ان کے قلعہ میں بھجوایا جاوے تا کہ وہ اس سے مشورہ کر سکیں۔آپ نے ابو لبابہ کو اجازت دی اور وہ ان کے قلعہ میں چلے گئے۔رض اب رؤسائے بنو قریظہ نے یہ تجویز کی ہوئی تھی کہ جو نہی ابولبابہ قلعہ کے اندر داخل ہو سب یہودی عورتیں اور بچے روتے چلاتے ان کے گرد جمع ہو جائیں اور اپنی مصیبت اور تکلیف کا ان کے دل پر پورا پورا اثر پیدا کرنے کی کوشش کی جائے۔چنانچہ ابو لبابہ پر یہ داؤ چل گیا اور بنو قریظہ کے سوال پر کہ اے ابولبابہ ! تو ہمارا کیا حال دیکھ رہا ہے؟ کیا ہم محمد صلی علی کیم کے فیصلہ پر اپنے قلعوں سے اتر آویں ؟ ابولبابہ نے بے ساختہ جواب دیا ہاں اتر آؤ۔مگر ساتھ ہی اپنے گلے پر ہاتھ پھیر کر اشارہ کیا کہ آنحضرت صلی علیکم تمہارے قتل کا حکم دیں گے۔مسجد کے ستون سے باندھ لیا حضرت ابولبابہ کہتے ہیں کہ جب یہ خیال آیا کہ میں نے خدا اور اس کے رسول کی خیانت کی ہے (یا جو اشارہ کیا ہے تو غلط طریقہ سے کر دیا ہے) تو میرے پیر لڑ کھڑانے لگے۔آپ وہاں سے مسجد نبوی میں