اصحابِ بدرؓ (جلد چہارم) — Page 61
اصحاب بدر جلد 4 61 بدر کے موقعہ پر امیر مدینہ غزوہ بدر کے موقع پر مدینہ سے نکلتے ہوئے آنحضرت صلی علیم نے اپنے پیچھے حضرت عبد اللہ بن اُتم مکتوم کو مدینہ کا امیر مقرر کیا لیکن جب آپ روحاء مقام کے قریب پہنچے جو مدینہ سے 36 میل کے فاصلہ پر ہے تو غالباً اس خیال سے کہ عبد اللہ ایک نابینا آدمی ہے اور لشکر قریش کی آمد کی خبر کا تقاضا ہے کہ آپ کے پیچھے مدینہ کا انتظام بھی مضبوط رہے آپ نے حضرت ابولبابہ بن منذر کو مدینہ کا امیر مقرر کر کے واپس بھجوا دیا اور حضرت عبد اللہ بن ام مکتوم کے متعلق حکم دیا کہ وہ صرف امام الصلوۃ رہیں مگر انتظامی کام حضرت ابو لبابہ سر انجام دیں۔50 بہر حال اس طرح یہ آدھے راستے سے واپس چلے گئے۔ابن اسحاق کہتے ہیں کہ نبی کریم صلی علیم نے غنیمت میں ان کا حصہ مقرر کیا۔151 152 نبی اکرم صلی الم کے اونٹ پر سوار غزوہ بدر کے موقع پر نبی کریم صلی یی کم حضرت علی اور حضرت ابولبابہ تینوں باری باری اونٹ پر سوار ہوتے تھے۔حضرت علی اور حضرت ابولبابہ نے بڑے اصرار سے عرض کیا کہ ہم پیدل چلتے ہیں اور حضور سوار رہیں۔مگر آپ صلی علیم نے نہ مانا اور مسکراتے ہوئے فرمایا کہ تم دونوں چلنے میں مجھ سے زیادہ طاقتور نہیں اور نہ ہی میں تم دونوں سے اجر کے بارے میں زیادہ بے نیاز ہوں۔بدر کی ناقابل یقین فتح کی خوشخبری مدینہ میں غزوہ بدر کے بعد رسول اللہ صلی علیم نے حضرت زید بن حارثہ کو اہل مدینہ کو خوشخبری پہنچانے کے لئے روانہ کیا۔حضرت زید رسول اللہ صلی علیکم کی اونٹنی پر آئے تھے۔جب وہ مصلی (نماز کی جو جگہ تھی) پہنچے تو آپ نے اپنی سواری سے بلند آواز سے کہا کہ ربیعہ کے دونوں بیٹے عتبہ اور شیبہ ، حجاج کے بیٹے، ابو جہل اور ابو البختری، زمعہ بن الاسود، امیہ بن خلف یہ سب مارے گئے ہیں اور سہیل بن عمر و اور بہت سارے قیدی بنالئے گئے ہیں۔لوگ زید بن حارثہ کی بات پر یقین نہیں کر رہے تھے اور کہہ رہے تھے کہ زید شکست کھا کر لوٹے ہیں اور اس بات نے مسلمانوں کو غصہ میں مبتلا کر دیا ہے۔( منافقین اور مخالفین جو تھے وہ یہ کہا کرتے تھے) اور وہ خود خوفزدہ بھی ہو گئے ہیں (اس لئے یہ باتیں کر رہے ہیں ) منافقین میں وہ کچھ سے ایک شخص نے حضرت اسامہ بن زید سے کہا کہ تمہارے آقا اور ان کے ساتھ جو گئے تھے وہ سب مارے جاچکے ہیں۔ایک شخص نے حضرت ابو لبابہ سے کہا کہ تمہارے ساتھی اب اس طرح بکھر چکے ہیں کہ دوبارہ کبھی اکٹھے نہیں ہوں گے اور محمد صلی علی کل خود اور آپ کے چوٹی کے اصحاب شہید ہو چکے ہیں اور یہ آپ کی اونٹنی ہے اور ہم اسے جانتے ہیں۔مخالفین کہنے لگے کہ زید کو تورعب کی وجہ سے خود ہی پتہ نہیں کہ یہ کیا کہ رہا ہے اور شکست کھا کے