اصحابِ بدرؓ (جلد چہارم) — Page 561
تاب بدر جلد 4 جان نہیں ہے۔1272 561 پس یہ ہے ایک طریق انسانیت کے احترام اور مذاہب کے درمیان نفرتیں ختم کرنے کا جس کی بنیاد آنحضرت صلی علیم نے رکھی اور وہی اسوہ حسنہ پھر صحابہ نے بھی اپنایا۔صلح حدیبیہ اور حضرت عمر۔۔۔ابو وائل سے روایت ہے کہ ہم صفین میں تھے کہ حضرت سہل بن حنیف کھڑے ہوئے اور کہنے لگے کہ اے لوگو! اپنے آپ کو ہی غلطی پر سمجھو کیونکہ ہم حدیبیہ کے واقعہ میں رسول اللہ صلی علیم کے ساتھ تھے اگر ہم مقابلہ کی صورت دیکھتے تو ضرور مقابلہ کرتے۔اتنے میں حضرت عمر بن خطاب آئے۔( یعنی حدیبیہ کے واقعہ کا ذکر ہو رہا ہے ) اور انہوں نے کہا کہ یارسول اللہ کیا ہم حق پر نہیں ہیں اور وہ کافر باطل پر ؟ تو آپ نے فرمایا کیوں نہیں۔تو انہوں نے کہا کیا ہمارے مقتول جنت میں نہیں اور ان کے مقتول آگ میں نہیں ؟ آپ نے فرمایا کیوں نہیں۔تو حضرت عمر نے کہا کہ ہم حدیبیہ کے دن جو صلح کر رہے ہیں تو اپنے دین سے متعلق ایسی ذلت کیوں برداشت کریں۔کیا ہم یہاں سے یونہی کوٹ جائیں یہاں تک کہ اللہ ہمارے اور ان کے درمیان فیصلہ نہ کر دے۔آپ صلی این یکم نے فرمایا خطاب کے بیٹے ! میں اللہ کا رسول ہوں اور اللہ مجھے ہر گز کبھی ضائع نہیں کرے گا۔پھر حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ، حضرت ابو بکر کے پاس گئے اور ان سے وہی کچھ کہا جو نبی کریم صلی علی نام سے عرض کیا تھا۔حضرت ابو بکر نے کہا کہ وہ اللہ کے رسول ہیں اور اللہ ان کو کبھی ضائع نہیں کرے گا۔پھر بخاری نے ہی لکھا ہے۔وہ آگے حدیث لکھتے ہیں کہ پھر سورۃ فتح نازل ہوئی اور رسول اللہ صلی علیم نے حضرت عمر کو آخر تک پڑھ کر سنائی۔حضرت عمر نے کہا کہ یارسول اللہ ! کیا یہ فتح ہے۔آپ نے فرمایا۔ہاں۔جنگ صفین 1273 اس حدیث کی شرح میں حضرت سید ولی اللہ شاہ صاحب لکھتے ہیں کہ " صفین عراق اور شام کے در میان ایک جگہ کا نام ہے جہاں حضرت علی اور حضرت معاویہ کا مقابلہ ہوا اور جب حضرت معاویہ کی فوج کے لوگوں کو یہ محسوس ہوا کہ ان کو شکست ہونے لگی ہے۔تو انہوں نے قرآن مجید کو اونچا کیا اور کہا کہ قرآن مجید کو حکم بنا کر فیصلہ کیا جائے۔چنانچہ اس پر جنگ بند ہو گئی۔" حضرت علی کی طرف سے جنگ بندی کا اعلان ہو گیا۔" بعض لوگوں کی طرف سے جنگ بندی پر اعتراضات بھی ہوئے۔"حضرت سہل حضرت علی کی طرف سے شریک تھے۔" حضرت سہل بن حنیف صحابی نے ان سے کہا بُوا أَنْفُسَكُمْ۔اپنی رائے ہی کو نہ درست سمجھو کیونکہ اس سے قبل صلح حدیبیہ کے موقع پر حضرت عمر کو کبھی غلط فہمی پیدا ہوئی لیکن آخر واقعات نے بتادیا کہ نبی کریم صلی علیکم کی استقامت اور ایفائے عہد کو برکت دی گئی اور آپ خطرہ سے محفوظ ہو گئے۔" تو کہتے ہیں پھر آپ نے کہا کہ لوگ جس بات کو کمزوری اور ذلت پر محمول کر رہے تھے اللہ تعالیٰ نے اسی بات کو قوت و عزت کا باعث بنا دیا نبی کریم صلی علیہم نے ہر چھوٹی بڑی بات میں