اصحابِ بدرؓ (جلد چہارم) — Page 40
اصحاب بدر جلد 4 40 اس مہم میں تو تم کو بالکل مطلق الڑائی کا حکم نہیں تھا۔حرمت والے مہینہ کی حرمت توڑنے کا الزام اور اس کا جواب دوسری طرف قریش نے بھی شور مچایا کہ مسلمانوں نے شہر حرام کی حرمت کو توڑ دیا ہے اور چونکہ جو شخص مارا گیا تھا یعنی عمرو بن الحضرمی وہ ایک رئیس آدمی تھا اور پھر وہ عُتبہ بن ربیعہ رئیس مکہ کا حلیف بھی تھا اس لئے بھی اس وقت اس واقعہ نے قریش کی آتش غضب کو بہت بھڑ کا دیا اور انہوں نے آگے سے بھی زیادہ جوش و خروش کے ساتھ مدینہ پر حملہ کی تیاری شروع کر دی۔بہر حال اس واقعہ پر مسلمان اور کفار ہر دو میں بہت چہ میگوئیاں ہوئیں۔یہ باتیں ہونے لگیں کہ دیکھو حرمت کے مہینے میں انہوں نے حملہ کیا ہے۔حضرت مرزا بشیر احمد صاحب سیرت خاتم النبیین میں لکھتے ہیں کہ بالآخر ذیل کی قرآنی وحی نازل ہو کر مسلمانوں کی تشفی کا موجب بنی کہ : يَسْتَلُونَكَ عَنِ الشَّهْرِ الْحَرَامِ قِتَالِ فِيْهِ قُلْ قِتَالُ فِيهِ كَبِيرُ ۖ وَصَةٌ عَنْ سَبِيلِ اللَّهِ وَ كُفْرًا بِهِ وَ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ وَ إِخْرَاجُ اَهْلِهِ مِنْهُ اَكْبَرُ عِنْدَ اللهِ ، وَ الْفِتْنَةُ أَكْبَرُ مِنَ الْقَتْلِ وَلَا يَزَالُونَ يُقَاتِلُونَكُم حَتَّى يَرُدُّوكُمْ عَنْ دِينِكُمْ إِنِ اسْتَطَاعُوا اب 2181 یعنی لوگ تجھ سے پوچھتے ہیں کہ شہر حرام میں لڑنا کیسا ہے ؟ تو ان کو جواب دے کہ بیشک شہر حرام میں لڑنا بہت بُری بات ہے لیکن شہر حرام میں خدا کے دین سے لوگوں کو جبر ارو کنابلکہ شہر حرام اور مسجد حرام دونوں کا کفر کرنا یعنی ان کی حرمت کو توڑنا اور پھر حرم کے علاقے سے ان کے رہنے والوں کو بزور نکالنا جیسا کہ اسے مشر کو ! تم لوگ کر رہے ہو، مسلمانوں کو نکال رہے ہو۔یہ سب باتیں خدا کے نزدیک شہر حرام میں لڑنے کی نسبت بھی بہت زیادہ بری ہیں۔اور زیادہ بُری بات ہے اور یقیناً شہر حرام میں ملک کے اندر فتنہ پیدا کرنا اس قتل سے بدتر ہے جو فتنہ کو روکنے کے لئے کیا جاوے۔اور اے مسلمانو ! کفار کا تو یہ حال ہے کہ وہ تمہاری عداوت میں اتنے اندھے ہو رہے ہیں کہ کسی وقت اور کسی جگہ بھی وہ تمہارے ساتھ لڑنے سے باز نہیں آئیں گے اور وہ اپنی یہ لڑائی جاری رکھیں گے حتی کہ تمہیں تمہارے دین سے پھیر دیں بشر طیکہ وہ اس کی طاقت پائیں۔چنانچہ تاریخ سے ثابت ہے کہ اسلام کے خلاف رؤسائے قریش اپنے خونی پراپیگنڈے کو اَشْهرُ الْحُرُم میں بھی برابر جاری رکھتے تھے۔یہ حرمت والے جتنے مہینے تھے ان میں جاری رکھتے تھے بلکہ ان مہینوں میں حرمت والے مہینوں کے اجتماعوں اور سفروں سے فائدہ اٹھاتے ہوئے وہ ان مہینوں میں اپنی مفسدانہ کارروائیوں میں اور بھی زیادہ تیز ہو جاتے تھے اور پھر کمال بے حیائی سے اپنے دل کو جھوٹی تسلی دینے کے لئے وہ عزت کے مہینوں کو اپنی جگہ سے اِدھر اُدھر منتقل کر دیتے تھے جسے وہ نینی کے نام سے پکارتے تھے۔مسلمانوں کے ساتھ تو انہوں نے فتح مکہ تک یہی سلوک رکھا ہے بلکہ انتہا کر دی۔حضرت مرزا بشیر احمد صاحب نے الفاظ استعمال کئے ہیں کہ انہوں نے تو غضب ہی کر دیا تھا کہ صلح حدیبیہ کے زمانے میں باوجو د پختہ عہد و پیمان کے کفار مکہ اور ان کے ساتھیوں نے حرم کے علاقے میں مسلمانوں