اصحابِ بدرؓ (جلد چہارم) — Page 528
اصحاب بدر جلد 4 528 اسلام اور بانی اسلام کی تعلیم کا تعلق ہے بہت سے مغربی روشنی میں تربیت یافتہ مؤرخ بھی آزاد نہیں ہو سکے۔یہی الزام لگاتے ہیں۔تو حضرت مرزا بشیر احمد صاحب لکھتے ہیں کہ اس اعتراض کے جواب میں اول تو یہ بات یاد رکھنی چاہیے کہ بنو قریظہ کے متعلق جس فیصلہ کو ظالمانہ کہا جاتا ہے وہ سعد بن معاذ کا فیصلہ تھا، آنحضرت صلی علی یم کا ہر گز نہیں تھا۔اور جب وہ آپ کا فیصلہ ہی نہیں تھا تو اس کی وجہ سے آپ پر اعتراض نہیں کیا جا سکتا۔دوسرے یہ کہ فیصلہ حالات پیش آمدہ کے ماتحت ہر گز غلط اور ظالمانہ نہیں تھا۔سوم یہ کہ اس عہد کی وجہ سے جو سعد نے فیصلے کے اعلان سے قبل آپ صلی علیم سے لیا تھا آپ اس بات کے پابند تھے کہ بہر حال اس کے مطابق عمل کرتے۔چہارم یہ کہ خود مجرموں نے اس فیصلے کو قبول کیا اور اس پر اعتراض نہیں کیا اور اسے اپنے لیے ایک خدائی تقدیر سمجھا۔تو اس صورت میں آپ کا یہ کام نہیں تھا کہ خواہ مخواہ اس میں دخل دینے کے لیے کھڑے ہو جاتے۔سعد کے فیصلے کے بعد اس معاملے کے ساتھ آپ صلی لی ایک کا تعلق صرف اس قدر تھا کہ آپ اپنی حکومت کے نظام کے ماتحت اس فیصلے کو بصورت احسن جاری فرما دیں اور یہ بتایا جا چکا ہے کہ آپ نے اسے ایسے رنگ میں جاری فرمایا کہ جو رحمت و شفقت کا بہترین نمونہ سمجھا جا سکتا ہے۔یعنی جب تک تو یہ لوگ فیصلے کے اجر اسے قبل قید میں رہے آپ نے ان کی رہائش اور خوراک کا بہتر سے بہتر انتظام فرمایا اور جب ان پر سعد کا فیصلہ جاری کیا جانے لگا تو آپ نے ایسے رنگ میں جاری کیا کہ وہ مجرموں کے لیے کم سے کم موجب تکلیف تھا۔یعنی اول تو ان کے جذبات کا خیال رکھتے ہوئے آپ نے یہ حکم دیا کہ ایک مجرم کے قتل کے وقت کوئی دوسر امجرم سامنے نہ ہو بلکہ تاریخ سے پتہ لگتا ہے کہ جن لوگوں کو مقتل میں لایا جا تا تھا ان کو اس وقت تک علم نہیں ہو تا تھا کہ ہم کہاں جارہے ہیں جب تک وہ عین مقتل میں نہ پہنچ جاتے تھے۔اس کے علاوہ جس شخص کے متعلق بھی آپ کے سامنے رحم کی اپیل پیش ہوئی آپ نے اسے فوراً قبول کر لیا اور نہ صرف ایسے لوگوں کی جان بخشی کی بلکہ ان کے بیوی بچوں اور اموال وغیرہ کے متعلق بھی حکم دے دیا کہ انہیں واپس دے دیے جائیں۔ان کا سب کچھ ، مال بھی لوٹا دیا۔اس سے بڑھ کر ایک مجرم کے ساتھ رحمت و شفقت کا سلوک کیا ہو سکتا ہے ؟ پس نہ صرف یہ کہ بنو قریظہ کے واقعہ کے متعلق آنحضرت صلی علی کم پر قطعاً کوئی اعتراض وارد نہیں ہو سکتا بلکہ حق یہ ہے کہ یہ واقعہ آپ صلی علی یکم کے اخلاق فاضلہ اور حسن انتظام اور آپ کے فطری رحم و کرم کا ایک نہایت بین ثبوت ہے۔بے شک اپنی ذات میں سعد کا فیصلہ ایک سخت فیصلہ تھا اور فطرت انسانی بظاہر اس سے ایک صدمہ محسوس کرتی ہے مگر سوال یہ ہے کہ کیا اس کے بغیر کوئی اور راستہ کھلا تھا جسے اختیار کیا جاتا۔بنو قریظہ کے متعلق سعد کا فیصلہ جیسا کہ ہم نے کہا گو اپنی ذات میں بڑا سخت ہے مگر وہ حالات کی مجبوری تھی اور حالات کی مجبوری کا ایک لازمی نتیجہ تھا جس کے بغیر کوئی چارہ نہیں تھا۔یہی وجہ ہے کہ مار گولیس (Margulis) جیسا مؤرخ بھی جو ہر گز اسلام کے دوستوں میں سے نہیں ہے اس موقع پر اس اعتراف پر مجبور ہوا کہ سعد کا فیصلہ حالات کی مجبوری پر مبنی تھا جس کے بغیر چارہ نہیں تھا۔چنانچہ وہ لکھتے ہیں کہ غزوہ احزاب کا حملہ جس کے متعلق محمد صاحب (صلی اللہ علیہ وسلم) کا یہ دعویٰ تھا کہ وہ محض خدائی تصرفات کے ماتحت