اصحابِ بدرؓ (جلد چہارم) — Page 527
اصحاب بدر جلد 4 527 مسلمانوں پر پڑتا تھا اس لیے آپ اپنا یہ حق نہیں سمجھتے تھے کہ اپنی رائے سے خواہ وہ کیسی ہی عفو اور رحم کی طرف مائل ہو اس فیصلہ کو بدل دیں۔یہی خدائی تصرف تھا جس کی طاقت سے متاثر ہو کر آپ کے منہ سے بے اختیار طور پر یہ الفاظ نکلے کہ قد حَكَمْتَ بِحُكْمِ اللہ یعنی اے سعد ! تمہارا یہ فیصلہ تو خدائی تقدیر معلوم ہوتی ہے جس کے بدلنے کی کسی کو طاقت نہیں۔یہ الفاظ کہہ کر آپ خاموشی سے وہاں سے اٹھے اور شہر کی طرف چلے آئے اور اس وقت آپ کا دل اس خیال سے درد مند ہو رہا تھا کہ ایک قوم جس کے ایمان لانے کی آپ کے دل میں بڑی خواہش تھی اپنی بد کرداریوں کی وجہ سے ایمان سے محروم رہ کر خدائی قہر و عذاب کا نشانہ بن رہی ہے اور غالباً اسی موقع پر آپ نے یہ حسرت بھرے الفاظ فرمائے کہ اگر یہود میں سے مجھ پر دس آدمی یعنی دس بار سوخ آدمی بھی ایمان لے آتے تو میں خدا سے امید رکھتا کہ یہ ساری قوم مجھے مان لیتی اور خدائی عذاب سے بچ جاتی۔بہر حال وہاں سے اٹھتے ہوئے آپ نے یہ حکم دیا کہ بنو قریظہ کے مردوں اور عورتوں اور بچوں کو علیحدہ علیحدہ کر دیا جائے۔چنانچہ دونوں گروہوں کو علیحدہ علیحدہ کر کے مدینہ میں لایا گیا اور شہر میں دو الگ الگ مکانات میں جمع کر دیا گیا اور آنحضرت صلی علیم کے حکم کے ماتحت صحابہ نے جن میں سے غالباً کئی لوگ خود بھوکے رہے ہوں گے بنو قریظہ کے کھانے کے لیے ڈھیروں ڈھیر پھل مہیا کیا اور لکھا ہے کہ یہودی لوگ رات بھر پھل نوشی میں مصروف رہے۔دوسرے دن صبح کو سعد بن معاذ کے فیصلہ کا اجر اہونا تھا۔آنحضرت صلی علیم نے چند مستعد آدمی اس کام کی سر انجام دہی کے لیے مقرر فرما دیے اور خود بھی قریب ہی ایک جگہ میں تشریف فرما ہو گئے تاکہ اگر فیصلہ کے اجرا کے دوران میں کوئی ایسی بات پیدا ہو جس میں آپ کی تعلیم کی ہدایت کی ضرورت ہو تو آپ بلا توقف ہدایت دے سکیں۔نیز یہ بھی کہ اگر کسی مجرم کے متعلق کسی شخص کی طرف سے رحم کی اپیل ہو تو اس میں آپ فور افیصلہ صادر فرما سکیں کیونکہ گوسعد کے فیصلہ کی اپیل عدالتی رنگ میں آپ کے سامنے پیش نہیں ہو سکتی تھی مگر ایک بادشاہ یا صدر جمہوریت کی حیثیت میں آپ کسی فرد کے متعلق کسی خاص وجہ کی بنا پر رحم کی اپیل ضرور بن سکتے تھے۔بہر حال آپ نے بتقاضائے رحم یہ بھی حکم فرمایا کہ مجرموں کو ایک ایک کر کے علیحدہ علیحدہ قتل کیا جاوے۔یعنی ایک کے قتل کے وقت دو سر ہے مجرم پاس موجود نہ ہوں۔چنانچہ ایک ایک مجرم کو الگ الگ لایا گیا اور حسب فیصلہ سعد بن معاذ ان کو قتل کیا گیا۔بنو قریظہ اور بعض غیر مسلم مؤرخین کے ناواجب حملے بنو قریظہ کے واقعہ کے متعلق بعض غیر مسلم مؤرخین نہایت ناگوار طریقے پر آنحضرت صلی علیہ یکم کے خلاف حملے کرتے ہیں یا انہوں نے حملے کیے۔اور کم و بیش چار سو یہودیوں کی سزائے قتل کی وجہ سے آپ کو نعوذ باللہ ظالم اور سفاک فرمانروا کے رنگ میں پیش کیا جاتا ہے لیکن ہمارے ایک محقق نے یہ بھی تحقیق کی ہے کہ جو اصل تعداد ہے وہ سولہ سترہ بنتی ہے لیکن بہر حال یہ تحقیق طلب چیز ہے۔ابھی بھی تحقیق ہو سکتی ہے۔کسی نے تعداد سو لکھی ہے۔چار سو لکھی ہے۔کسی نے زیادہ لکھی ہے۔کسی نے ہزار لکھی ہے۔نو سو لکھی ہے۔بہر حال کیونکہ معین تعداد نہیں ہے اس لیے اس پر بحث ہو سکتی ہے۔بہر حال اگر چار سو بھی ہے تو اس اعتراض کی بنا محض مذہبی تعصب پر واقع ہے جس سے جہاں تک کم از کم اس