اصحابِ بدرؓ (جلد چہارم) — Page 516
تاب بدر جلد 4 516 بہت بگڑ گیا اور ان کو سخت ست کہہ کر، برا بھلا کہہ کر وہاں سے رخصت کر دیا اور جو خیرات انہیں دیا کر تا تھا وہ بھی نہ دی۔جب خیرات بند ہو گئی، جو ان کا وظیفہ جاری تھا وہ بند ہو گیا تو کچھ عرصہ بعد انہوں نے کعب کے پاس جا کر کہا کہ ہم نے دوبارہ غور کیا ہے۔پیسے کو تو مولوی آج بھی نہیں چھوڑ تا یہی حال اُن کا تھا۔انہوں نے کہا جی ہم نے دوبارہ غور کیا ہے دراصل محمد ملا لیا کہ وہ نبی نہیں ہیں جس کا وعدہ دیا گیا تھا۔اس پر اس نے خوش ہو کر ان کا وظیفہ دوبارہ جاری کر دیا۔وہ جو خیرات دیتا تھا دے دی۔بہر حال یہ تو معمولی بات تھی کہ یہودی علماء کو اپنے ساتھ ملالیا لیکن خطر ناک بات جو تھی وہ یہ تھی کہ جنگ بدر کے بعد اس نے ایسا رویہ اختیار کیا جو سخت مفسدانہ اور فتنہ انگیز تھا اور جس کے نتیجہ میں مسلمانوں کے لیے نہایت خطرناک حالات پیدا ہو گئے تھے۔جب بدر کے موقع پر مسلمانوں کو ایک غیر معمولی فتح نصیب ہوئی اور رؤسائے قریش اکثر مارے گئے تو کعب نے سمجھ لیا کہ اب یہ نیادین یو نہی مٹتا نظر نہیں آتا۔پہلے تو ہمارا خیال تھا آپ ہی ختم ہو جائے گا۔نہیں اب نہیں۔لگتا ہے کہ یہ پھلے گا۔چنانچہ بدر کے بعد اس نے ہر طرح اپنی پوری کوشش کی کہ اسلام کے مٹانے اور تباہ کرنے میں کوئی دقیقہ فرو گذاشت نہ کیا جائے، کوئی دقیقہ نہ چھوڑا جائے اور یہ تہیہ کر لیا کہ میں نے اسلام کو تباہ و برباد کرنا ہی کرنا ہے۔اور جیسا کہ میں نے کہا کہ بدر میں مسلمانوں کی فتح کے بعد تو وہ غیظ و غضب سے بہت زیادہ بھر گیا تھا۔اس نے اس غصہ کی وجہ سے جب فیصلہ کیا کہ میں نے اسلام کو تباہ کرنا ہی کرنا ہے تو اس نے فور أسفر کی تیاری کر کے مکہ کی راہ لی۔وہاں جا کر اپنی چرب زبانی اور شعر گوئی کے زور سے قرنیش کے دلوں کی سلگتی ہوئی آگ کو شعلہ بار کر دیا اور بھڑ کا دیا۔ان کے دل میں مسلمانوں کے خون کی نہ بجھنے والی پیاس پیدا کر دی۔تم شکست کھا گئے۔تمہارے لیڈروں کو انہوں نے مار دیا۔تم اب بیٹھے ہو۔جاؤ اور بدلہ لو۔وہ ٹرک اٹھے۔اپنی تقریروں سے اور شعروں سے ان کے سینے جذبات انتقام اور عداوت سے بھر دیے۔جب کعب کی اشتعال انگیزی سے ان کے احساسات میں ایک انتہائی درجہ کی بجلی پید اہو گئی تو اس نے ان کو خانہ کعبہ کے صحن میں لے جاکر اور کعبہ کے پر دے ان کے ہاتھوں میں دے دے کر ان سے قسمیں لیں کہ جب تک اسلام اور بانی اسلام کو صفحہ دنیا سے ملیا میٹ نہ کر دیں گے اس وقت تک چین نہیں لیں گے۔مکہ میں یہ آتش فشاں فضا پیدا کرنے کے بعد اس نے یہیں بس نہیں کی بلکہ اس بدبخت نے دوسرے قبائل عرب کا رخ کیا اور پھر قوم بقوم ہر قبیلے میں پھر پھر کر مسلمانوں کے خلاف لوگوں کو بھڑ کا یا۔پھر مدینہ میں واپس آکر وہاں اپنی اسلام مخالف سرگرمیاں تیز کیں اور غیر مسلموں میں اپنے جوش دلانے والے اشعار میں اور خاص طور پر یہودیوں میں بھی گندے اور مخش طریق پر مسلمان خواتین کا ذکر کیا اور صرف یہاں تک نہیں کہ مخالفت کی آگ بھڑکائی بلکہ آخر میں اس نے یہ بھی کوشش کی بلکہ سازش کی کہ آنحضرت صل الالم کو قتل کیا جائے اور آپ کو کسی دعوت کے بہانے سے اپنے مکان پر اس نے بلایا اور چند نوجوان یہودیوں سے آپ کے قتل کروانے کا منصوبہ باندھا۔خدا کے فضل سے وقت پر اطلاع ہو گئی۔آپ کو خدا تعالیٰ نے اطلاع دے دی اور اس کی سازش کامیاب نہیں ہوئی۔جب نوبت یہاں تک پہنچ گئی اور کعب کے خلاف جو معاہدہ کیا ہوا تھا اس کی عہد شکنی اور جو حکومت قائم تھی اس کے خلاف بغاوت،