اصحابِ بدرؓ (جلد چہارم) — Page 513
اصحاب بدر جلد 4 513 موقعے پر جب رسول اللہ صلی علی کو گھوڑے پر سوار ہو کر اور کمان کندھے پر ڈال کر اور نیزہ ہاتھ میں لے کر مدینے سے روانہ ہوئے تو دونوں سعد یعنی حضرت سعد بن معاذ اور حضرت سعد بن عبادہ آپ کے آگے آگے دوڑ رہے تھے۔ان دونوں نے زرہ پہنی ہوئی تھی۔1167 حضرت مرزا بشیر احمد صاحب غزوہ احد کا ذکر کرتے ہوئے تحریر فرماتے ہیں کہ 1168cc " آپ صحابہ کی ایک بڑی جماعت کے ہمراہ نماز عصر کے بعد مدینے سے نکلے۔قبیلہ اوس اور خزرج کے رؤساء سعد بن معاذ اور سعد بن عبادہ آپ کی سواری کے سامنے آہستہ آہستہ دوڑتے جاتے تھے اور باقی صحابہ آپ کے دائیں اور بائیں اور پیچھے چل رہے تھے۔“ جب رسول الله صلى ال یکم غزوہ احد سے مدینہ واپس آئے اور اپنے گھوڑے سے اترے تو آپ حضرت سعد بن معاذ اور حضرت سعد بن عبادہ کا سہارا لیتے ہوئے اپنے گھر میں داخل ہوئے۔نبی اکرم صلی ا ولم سے محبت کرنے والی ایک بہادر و صابر ماں 1169 حضرت سعد بن معاذ کی والدہ کو آنحضرت صلی یا کم سے کس قدر محبت تھی اس کا ذکر کرتے ہوئے حضرت مصلح موعودؓ فرماتے ہیں کہ جنگ احد سے واپسی پر رسول کریم صلی للی کم کی سواری کی باگ حضرت سعد بن معاذ پکڑے ہوئے فخر سے چل رہے تھے۔جنگ میں آپ کا بھائی بھی مارا گیا تھا۔مدینہ کے قریب پہنچ کر حضرت سعد نے اپنی ماں کو آتے ہوئے دیکھا اور کہا یا رسول اللہ ! میری ماں آ رہی ہے۔حضرت سعد کی والدہ کی عمر اس وقت کوئی ایسی بیاسی سال کی تھی۔آنکھوں کا نور جاچکا تھا۔بہت کمزور نظر تھے دھوپ چھاؤں مشکل سے نظر آتی تھی۔رسول کریم صلی الی نیم کی شہادت کی خبر سن کر ، مدینہ میں یہ مشہور ہو گیا تھا کہ آنحضرت صلی یم کو شہید کر دیا گیا ہے تو یہ خبر سن کر وہ بڑھیا بھی لڑکھڑاتی ہوئی مدینہ سے باہر نکلی جارہی تھی۔حضرت سعد نے کہا یارسول اللہ میری ماں آرہی ہے۔رسول کریم صلی الی کا قریب پہنچے تو آپ نے فرمایا میری سواری کو ٹھہر الو۔تمہاری ماں آرہی ہے وہاں اس کے قریب میری سواری کو کھڑا کر دو۔جب آپ اس بوڑھی عورت کے قریب آئے تو اس نے اپنے بیٹوں کے متعلق کوئی خبر نہیں پوچھی۔پوچھا تو یہ پوچھا کہ رسول کریم صلی علی رام کہاں ہیں ؟ حضرت سعد نے جواب دیا آپ کے سامنے ہیں۔اس بوڑھی عورت نے اوپر نظر اٹھائی اور اس کی کمزور نگاہیں رسول کریم صلی علیم کے چہرے پر پھیل کر رہ گئیں۔رسول کریم صلی الم نے فرمایا بی بی مجھے افسوس ہے تمہارا جوان بیٹا اس جنگ میں شہید ہو گیا ہے۔بڑھاپے میں کوئی شخص ایسی خبر سنتا ہے تو اس کے اوسان خطا ہو جاتے ہیں لیکن اس بڑھیا نے کیسا محبت بھر اجواب دیا کہ یارسول اللہ آپ کیسی باتیں کر رہے ہیں۔مجھے تو آپ کی خیریت کی فکر تھی۔کیا تمہارے اندر دین کا وہی جذبہ موجزن ہے۔۔؟ حضرت مصلح موعود نے یہ واقعہ بیان کیا اس کے بعد آپ نے احمدی خواتین کو مخاطب ہو کر فریضہ