اصحابِ بدرؓ (جلد چہارم) — Page 36
تاب بدر جلد 4 36 مسلمانوں کے ساتھ سجدے میں گر گئے۔حضرت میاں بشیر احمد صاحب لکھتے ہیں کہ یہ کوئی تعجب کی بات نہیں ہے کیونکہ ایسے موقعوں پر ایسے حالات کے ماتحت جو بیان ہوئے ہیں بسا اوقات انسان کا قلب مرعوب ہو جاتا ہے اور وہ بے اختیار ہو کر ایسی حرکت کر بیٹھتا ہے جو دراصل اس کے اصول اور مذہب کے خلاف ہوتی ہے۔چنانچہ ہم نے دیکھا ہے کہ بعض اوقات ایک سخت اور ناگہانی آفت کے وقت ایک دہر یہ بھی اللہ اللہ یا رام رام پکار اٹھتا ہے اور قریش تو دہر یہ نہ تھے بلکہ بہر حال خدا کی ہستی کے قائل تھے گو بتوں کو شریک ٹھہراتے تھے۔آجکل بھی ہم دیکھتے ہیں، کئی دہریوں سے بات ہوتی ہے۔جب ان سے پوچھو گے کہ اگر تمہیں کوئی مسئلہ پیش آجائے تو ایک دم خدا کا نام تمہارے ذہن دماغ میں آتا ہے یا منہ سے آتا ہے تو تسلیم کرتے ہیں کہ آتا ہے۔بہر حال یہ اس سورت کے پڑھنے کا، سورت کے الفاظ کا اور مسلمانوں کے عمل کا ایک اثر تھا کہ کفار کے رؤساء جو تھے وہ بھی ساتھ ہی سجدے میں گر گئے۔بہر حال مسلمانوں کی جماعت یکلخت سجدے میں گر گئی تو اس کا ایسا ساحرانہ اثر ہوا کہ ان کے ساتھ قریش بھی بے اختیار ہو کر سجدے میں گر گئے۔لیکن ایسا اثر عموماً وقتی ہوتا ہے اور انسان پھر جلد ہی اپنی اصل حالت کی طرف لوٹ جاتا ہے۔چنانچہ کفار بھی اسی طرح واپس لوٹ گئے۔ان کا وہی حال ہو گیا۔بہر حال یہ ایک واقعہ ہے جو صحیح احادیث سے ثابت ہے۔بخاری میں بھی درج ہے۔پس اگر مہاجرین حبشہ کی واپسی کی خبر صحیح ہے ، درست ہے تو ایسا معلوم ہوتا ہے کہ اس واقعہ کے بعد قریش نے جو مہاجرین حبشہ کے واپس لانے کے لئے بے تاب ہو رہے تھے کہ یہ لوگ ہجرت کر کے کیوں چلے گئے، ہمارے ہاتھوں سے نکل گئے۔اپنے اس فعل کو آڑ بنا کر خود ہی یہ افواہ مشہور کر دی ہو گی کہ قریش مکہ مسلمان ہو گئے ہیں اور یہ کہ اب مکہ میں مسلمانوں کے لئے بالکل امن ہے۔اور جب یہ افواہ مہاجرین حبشہ تک پہنچی تو وہ طبعاً اسے سن کر بہت خوش ہوئے اور سنتے ہی خوشی کے جوش میں بغیر سوچے سمجھے واپس آگئے۔لیکن جب وہ مکہ کے پاس پہنچے تو حقیقت پتہ چلی اور حقیقت امر سے آگاہی ہوئی جس پر بعض تو چھپ چھپ کر اور بعض کسی طاقتور صاحب اثر رئیس قریش کی حفاظت میں ہو کر مکہ میں آگئے اور بعض واپس چلے گئے۔پس اگر قریش کے مسلمان ہو جانے کی افواہ میں کوئی حقیقت تھی تو وہ صرف اس قدر تھی جو سورت نجم کی تلاوت پر سجدہ کرنے والے واقعہ میں بیان ہوئی ہے۔بہر حال اللہ بہتر جانتا ہے۔بہر حال اگر مہاجرین حبشہ واپس آئے بھی تھے تو ان میں سے اکثر پھر واپس چلے گئے اور چونکہ قریش دن بدن اپنی ایذاء رسانی میں ترقی کرتے جاتے تھے اور ان کے مظالم روز بروز بڑھ رہے تھے اس لئے آنحضرت صلی لی ایم کے ارشاد پر دوسرے مسلمانوں نے بھی خفیہ خفیہ ہجرت کی تیاری شروع کر دی اور موقع پا کر آہستہ آہستہ نکلتے گئے۔یہ ہجرت کا سلسلہ ایسا شروع ہوا کہ بالآخر ان مہاجرین حبشہ کی تعداد ایک سو ایک تک پہنچ گئی جن میں اٹھارہ عور تیں بھی تھیں۔اور مکہ میں آنحضرت علی علیم کے پاس بہت ہی تھوڑے لوگ مسلمان رہ گئے۔