اصحابِ بدرؓ (جلد چہارم) — Page 499
اب بدر جلد 4 499 ย ہو گئیں۔اسلامی لشکر ادھر ادھر ہٹنے لگا۔حضرت ابوعبید نے مسلمانوں کو کہا کہ اے اللہ کے بندو! ہاتھیوں پر حملہ کرو اور ان کی سونڈیں کاٹ ڈالو۔حضرت ابوعبید یہ کہہ کر خود آگے بڑھے اور ایک ہاتھی پر حملہ کر کے اس کی سونڈ کاٹ ڈالی۔باقی لشکر نے بھی یہی دیکھ کر تیزی سے لڑائی شروع کر دی اور کئی ہاتھیوں کی سونڈیں اور پاؤں کاٹ کر ان کے سواروں کو قتل کر دیا۔اتفاق اے حضرت ابوعبید ایک ہاتھی کے سامنے آئے۔آپ نے وار کر کے اس کی سونڈ کاٹ دی مگر آپ اس ہاتھی کے پاؤں کے نیچے آگئے اور دب کر شہید ہو گئے۔حضرت ابوعبید کی شہادت کے بعد سات آدمیوں نے باری باری اسلامی جھنڈ اسنبھالا اور لڑتے ہوئے شہید ہو گئے۔آٹھویں شخص حضرت منفی تھے جنہوں نے اسلامی جھنڈے کو لے کر دوبارہ ایک پر جوش حملے کا ارادہ کیا لیکن اسلامی لشکر کی صفیں بے ترتیب ہوگئی تھیں اور لوگ مسلسل سات امیروں کو شہید ہوتے دیکھ کر ادھر ادھر بھاگنا شروع ہو گئے تھے جبکہ کچھ دریا میں کود گئے تھے۔حضرت مثلی اور آپ کے ساتھی مردانگی سے لڑتے رہے۔بالآخر حضرت مثلی زخمی ہو گئے اور آپ لڑتے ہوئے دریائے فرات عبور کر کے واپس آگئے۔اس واقعہ میں مسلمانوں کا بہت زیادہ نقصان ہوا۔مسلمانوں کے چار ہزار آدمی شہید ہوئے جبکہ ایرانیوں کے چھ ہزار فوجی مارے گئے۔1152 بہر حال یہ جنگ اس لیے ہوئی تھی کہ ایرانیوں کی طرف سے بار بار حملے ہو رہے تھے اور ان حملوں کے روکنے کے لیے یہ اجازت لی گئی تھی کہ جنگ کریں۔1153 رض 139 حضرت سعد بن عثمان بن خلدة انصاری حضرت سعد بن عثمان بن خلدة انصاری۔بعض کے نزدیک ان کا نام سعید بن عثمان ہے۔غزوہ بدر میں شامل ہوئے۔ان اشخاص میں سے ہیں جن کے پاؤں جنگ احد میں اکھڑ گئے تھے اور پھر اللہ تعالیٰ نے ان سب کی معافی کو قرآن کریم میں نازل فرمایا۔آپ حضرت عقبہ کے بھائی تھے۔ایک دفعہ نبی کریم صلی علیہ کے حوزہ کے مقام پر ی پر اکاب پر تشریف لائے جو ان دنوں آپ کی یعنی کہ ان صحابی کی ملکیت تھا جہاں آپ اپنے بیٹے عبادہ کو چھوڑ گئے تھے تاکہ وہ لوگوں کو پانی پلائیں۔حضرت عبادہ نبی کریم صلی علیکم کو نہ پہچان پائے۔جو چھوٹے بیٹے تھے۔بعد میں جب حضرت سعد آئے تو عبادہ نے آنے والی شخصیت کا حلیہ بیان کیا تو حضرت سعد نے کہا کہ یہی تو رسول اللہ صلی علی کم تھے جن کو تم نے پہچانا نہیں۔جاؤ جا کے ملوان سے، فوری دوڑ کے جاؤ پیچھے۔